Misbah Library
۷۵

القيامة

۴۰ 
علامہ سید ذیشان حیدر جوادی
٥٧٧

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

لَآ أُقْسِمُ بِيَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ۝١

1میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں

وَلَآ أُقْسِمُ بِٱلنَّفْسِ ٱللَّوَّامَةِ۝٢

2اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُۥ۝٣

3کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے

بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُۥ۝٤

4یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں

بَلْ يُرِيدُ ٱلْإِنسَٰنُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُۥ۝٥

5بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے

يَسْـَٔلُ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلْقِيَٰمَةِ۝٦

6وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے

فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ۝٧

7تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی

وَخَسَفَ ٱلْقَمَرُ۝٨

8اور چاند کو گہن لگ جائے گا

وَجُمِعَ ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ۝٩

9اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے

يَقُولُ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ ٱلْمَفَرُّ۝١٠

10اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے

كَلَّا لَا وَزَرَ۝١١

11ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمُسْتَقَرُّ۝١٢

12اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے

يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ۝١٣

13اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں

بَلِ ٱلْإِنسَٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ بَصِيرَةٌ۝١٤

14بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے

وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُۥ۝١٥

15چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے

لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ۝١٦

16دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں

إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ۝١٧

17یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں

فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ۝١٨

18پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ۝١٩

19پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے

٥٧٨

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ۝٢٠

20نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَتَذَرُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ۝٢١

21اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ۝٢٢

22اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے

إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ۝٢٣

23اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے

وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌ۝٢٤

24اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے

تَظُنُّ أَن يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ۝٢٥

25جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے

كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ۝٢٦

26ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی

وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ۝٢٧

27اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے

وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ۝٢٨

28اور مرنے والے کو خیال ہوگا کہ اب سب سے جدائی ہے

وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ۝٢٩

29اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی

إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ۝٣٠

30آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ۝٣١

31اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

وَلَٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ۝٣٢

32بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا

ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ۝٣٣

33پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا

أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ۝٣٤

34افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے

ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰٓ۝٣٥

35حیف ہے اور صد حیف ہے

أَيَحْسَبُ ٱلْإِنسَٰنُ أَن يُتْرَكَ سُدًى۝٣٦

36کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَىٰ۝٣٧

37کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ۝٣٨

38پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا

فَجَعَلَ مِنْهُ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ۝٣٩

39پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا

أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحْـِۧىَ ٱلْمَوْتَىٰ۝٤٠

40کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مفِدوں کو دوبارہ زندہ کرسکے