فصل قال الشيخ الإمام الفاضل العالم الأجل الأقدم عبيد الله بن عبد الله أسد آبادي رحمه الله في كتاب المقنع في الإمامة .
فصل۔ شیخِ امام، فاضل، عالم، اجل و اقدم عبید اللہ بن عبد اللہ اسد آبادی رحمہ اللہ نے کتاب المقنع فی الامامہ میں فرمایا:
فصل ، فيه طرف مما جرى في أمر السقيفة ليعلم أيضا كيف بنى القوم أمرهم على دفع ولي الأمر وصاحب الحق عن حقه .
فصل، جس میں سقیفہ کے معاملے میں جو کچھ ہوا اس کا ایک گوشہ ہے، تاکہ یہ بھی معلوم ہو کہ ان لوگوں نے اپنا معاملہ کس طرح ولیِ امر اور صاحبِ حق کو اس کے حق سے ہٹانے پر استوار کیا۔
أجمع أصحاب السير أنه لما قبض رسول الله صلى الله عليه وآله اشتغل أمير المؤمنين عليه السلام بغسله وتجهيزه ، وكان المهاجرون والأنصار وغيرهم من قريش ينتظرون ما يكون من أمير المؤمنين عليه السلام فتصور لهم إبليس لعنه الله في صورة المغيرة بن شعبة أعور ثقيف ، وقال لهم : ما تنتظرون ؟
اصحابِ سیر کا اجماع ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا انتقال ہوا تو امیر المؤمنین علیہ السلام آپ کے غسل اور تجہیز میں مشغول ہو گئے، اور مہاجرین، انصار اور قریش کے دیگر لوگ منتظر تھے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام کی طرف سے کیا ہوتا ہے۔ پس ابلیس لعنہ اللہ ان کے سامنے ثقیف کے کانے مغیرہ بن شعبہ کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہا: تم کس چیز کے منتظر ہو؟
قالوا : ما يكون من بني هاشم ، فقال لهم : امضوا ووسعوها يتسع ، فوالله لئن وقفتم إلى فراغهم لتصيرن فيهم ويصير قيصرانية وكسروية ، هذا وقد كان نفر من قريش من قبل ذلك ، كتبوا صحيفة بيعتهم [ بينهم خ ] وأودعوها أبا عبيدة بن الجراح ، وضمنوها بأنه إن قبض رسول الله صلى الله عليه وآله أو قتل ، عدل بالإمامة عن بني هاشم حتى لا تجمع لهم النبوة والخلافة .
انہوں نے کہا: اس کے جو بنی ہاشم کی طرف سے ہو۔ اس نے ان سے کہا: چلو اور اسے وسیع کرو، وہ وسیع ہو جائے گا۔ خدا کی قسم، اگر تم ان کے فارغ ہونے تک ٹھہرے رہے تو یہ امر انہی میں رہ جائے گا اور قیصری و کسروی بن جائے گا۔ یہ اس حال میں کہ اس سے پہلے قریش کے کچھ لوگوں نے آپس میں ایک تحریر لکھی تھی اور اسے ابو عبیدہ بن الجراح کے سپرد کیا تھا، اور اس میں یہ طے کیا تھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا انتقال ہو جائے یا آپ قتل کر دیے جائیں تو امامت کو بنی ہاشم سے پھیر دیا جائے گا تاکہ نبوت اور خلافت ان میں جمع نہ ہوں۔
ثم جاء إبليس لعنه الله وحثهم وزين لهم ما أتوه فنهضوا إلى سقيفة بني ساعدة وساق كلامه إلى أن قال : وأنا أشرح بمشيئة الله تعالى وعونه طرفا مما جرى في السقيفة لا بد منه ولا غنى عنه ، حتى يعلم كيف استهانوا بالدين وكيف خولف صاحب الشرع صلوات الله عليه وآله .
پھر ابلیس لعنہ اللہ آیا اور انہیں ابھارا اور جو وہ کرنے جا رہے تھے اسے ان کے لیے مزین کیا۔ پس وہ سقیفۂ بنی ساعدہ کی طرف اٹھے — اور انہوں نے اپنا کلام جاری رکھا یہاں تک کہ کہا: اور میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی مدد سے سقیفہ میں جو کچھ ہوا اس کا ایک ایسا گوشہ بیان کروں گا جس سے چارہ نہیں اور جس کے بغیر گزارہ نہیں، تاکہ معلوم ہو کہ انہوں نے دین کو کس طرح ہلکا سمجھا اور صاحبِ شرع صلوات اللہ علیہ وآلہ کی کس طرح مخالفت کی گئی۔