الشيخ عباس القمي
60
عمه قاعدة الأمر بعده حفظا لدمه ولدم أهل بيته ، فإنهم إذا كانوا ولاة الأمر كانت دمائهم أقرب إلى الصيانة والعصمة مما إذا كانوا سوقة تحت يد وال من غيرهم فلم يساعده القضاء والقدر ، وكان من الأمر ما كان ، ثم أفضى أمر ذريته فيما بعد إلى أن علمت . . 7 .
کیونکہ اگر وہ امر کے والی ہوتے تو ان کے خون حفاظت اور بچاؤ سے زیادہ قریب ہوتے، بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی اور والی کے ہاتھ کے نیچے عام رعایا ہوں۔ پس قضا و قدر نے آپ کا ساتھ نہ دیا، اور امر سے جو ہونا تھا ہوا، پھر آپ کی ذریت کا معاملہ اس تک پہنچا جو تمہیں معلوم ہے۔ [7]
(7)شرح ابن الحديد ج 2 ص 53 .شرحِ ابن ابی الحدید ج 2 ص 53۔