وجلس النبي صلى الله عليه وآله موضعها مع علي عليه السلام فواساه في الطحن 16 .
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ ان کی جگہ علی علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ گئے اور پیسنے میں ان کا ہاتھ بٹایا۔ [16]
وعن بعض كتب المناقب ، عن جابر بن عبد الله : إن النبي صلى الله عليه وآله أقام أياما لم يطعم طعاما حتى شق ذلك عليه ، وطاف في منازل أزواجه فلم يصب عند واحدة منهن شيئا ، فأتى فاطمة عليها السلام فقال : يا بنية هل عندك شئ آكله فإني جائع ؟
اور بعض کتبِ مناقب سے، جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کئی دن اس حال میں رہے کہ کچھ نہ کھایا، یہاں تک کہ یہ آپ پر گراں گزرا۔ آپ اپنی ازواج کے گھروں میں پھرے مگر کسی ایک کے پاس بھی کچھ نہ پایا۔ پس فاطمہ علیہا السلام کے پاس آئے اور فرمایا: اے بیٹی! کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو میں کھا لوں، کیونکہ میں بھوکا ہوں؟
فقالت : لا والله بأبي أنت وأمي ، فلما خرج من عندها بعث إليها جارة لها برغيفين وقطعة لحم ، فأخذته منها ووضعته في جفنة لها ، وغطت عليها وقالت : لأوثرن بها رسول الله صلى الله عليه وآله على نفسي ومن عندي ، وكانوا جميعا محتاجين إلى شبعة طعام ، فبعث حسنا أو حسينا إلى رسول الله صلى الله عليه وآله فرجع إليها فقالت : بأبي أنت وأمي قد أتانا الله بشئ فخبأته ، قال : هلمي ، فأتته ، فكشفت عن الجفنة فإذا هي مملؤة خبزا ولحما ، فلما نظرت إليه بهتت ، فعرفت أنها كرامة من الله عز وجل ، فحمدت الله ، وصلت على نبيه فقال : صلى الله عليه وآله من أين لك هذا يا بنية ؟
انہوں نے کہا: نہیں، خدا کی قسم، میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ جب آپ ان کے پاس سے نکلے تو ان کی ایک پڑوسن نے ان کے پاس دو روٹیاں اور گوشت کا ایک ٹکڑا بھیجا۔ انہوں نے وہ لے کر اپنے ایک برتن میں رکھا اور اسے ڈھانپ دیا اور کہا: میں اسے اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے ترجیح دوں گی۔ اور وہ سب پیٹ بھر کھانے کے محتاج تھے۔ پس انہوں نے حسن یا حسین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی طرف بھیجا، اور آپ ان کے پاس لوٹ آئے۔ انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ نے ہمیں کچھ عطا کیا ہے اور میں نے اسے چھپا رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: لے آؤ۔ وہ لے آئیں اور برتن کھولا تو وہ روٹی اور گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو ششدر رہ گئیں، اور جان گئیں کہ یہ اللہ عز و جل کی طرف سے کرامت ہے۔ پس انہوں نے اللہ کی حمد کی اور اس کے نبی پر درود بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے بیٹی! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟
فقالت : هو من عند الله إن الله يرزق من يشاء بغير حساب فحمد الله عز وجل وقال الحمد لله الذي جعلك شبيهة بسيدة نساء العالمين في نساء بني إسرائيل في وقتهم فإنها كانت إذا رزقها الله تعالى فسئلت عنه قالت : هو من عند الله إن الله يرزق من يشاء بغير حساب .
انہوں نے کہا: یہ اللہ کی طرف سے ہے؛ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ پس آپ نے اللہ عز و جل کی حمد کی اور فرمایا: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے تمہیں اپنے زمانے کی بنی اسرائیل کی عورتوں میں سیدۃ نساء العالمین کے مشابہ بنایا، کیونکہ وہ بھی جب اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتا اور ان سے پوچھا جاتا تو کہتیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
فبعث رسول الله صلى الله عليه وآله إلى علي عليه السلام ثم أكل رسول الله وعلي وفاطمة والحسن والحسين عليهم السلام وجميع أزواج النبي صلى الله عليه وآله وأهل بيته جميعا وشبعوا وبقيت الجفنة كما هي ، قالت فاطمة عليها السلام فأوسعت منها على جميع جيراني وجعل الله فيها البركة والخير كما فعل الله بمريم 17 .
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے علی علیہ السلام کو بلوایا، پھر رسول اللہ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ کی تمام ازواج اور آپ کے تمام اہلِ بیت نے کھایا اور سیر ہوئے، اور برتن جوں کا توں رہا۔ فاطمہ علیہا السلام فرماتی ہیں: پس میں نے اس میں سے اپنے تمام پڑوسیوں کو دیا، اور اللہ نے اس میں برکت اور خیر رکھی، جیسا کہ اللہ نے مریم کے ساتھ کیا تھا۔ [17]