الكليني ، عن أبي جعفر عليه السلام ، عن جابر بن عبد الله الأنصاري ، قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وآله يريد فاطمة عليها السلام ، وأنا معه ، فلما انتهينا إلى الباب وضع يده عليه فدفعه ، ثم قال " السلام عليكم " فقالت فاطمة عليها السلام : عليك السلام يا رسول الله قال : أدخل ؟
کلینی نے ابو جعفر علیہ السلام سے، انہوں نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فاطمہ علیہا السلام کے پاس جانے کے ارادے سے نکلے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ جب ہم دروازے پر پہنچے تو آپ نے اس پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکیلا، پھر فرمایا: “السلام علیکم”۔ فاطمہ علیہا السلام نے کہا: علیک السلام یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں اندر آؤں؟
قالت : ادخل يا رسول الله ، قال : أدخل أنا ومن معي ؟
انہوں نے کہا: تشریف لائیے یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: میں اور جو میرے ساتھ ہے، دونوں آئیں؟
فقالت : يا رسول الله ليس علي قناع ، فقال : يا فاطمة خذي فضل ملحفتك فقنعي به رأسك ففعلت ، ثم قال : السلام عليكم ، فقالت : وعليك السلام يا رسول الله قال : أدخل ؟
انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر اوڑھنی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: اے فاطمہ! اپنی چادر کا زائد حصہ لے کر اس سے اپنا سر ڈھانپ لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: السلام علیکم۔ انہوں نے کہا: و علیک السلام یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں اندر آؤں؟
قالت : نعم ، يا رسول الله ، قال : أنا ومن معي ؟
انہوں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: میں اور جو میرے ساتھ ہے؟
قالت : أنت ومن معك ، قال جابر : فدخل رسول الله صلى الله عليه وآله ودخلت أنا ، وإذا وجه فاطمة عليها السلام أصفر ، كأنه بطن جرادة ، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله مالي أرى وجهك أصفر ؟
انہوں نے کہا: آپ اور جو آپ کے ساتھ ہے۔ جابر کہتے ہیں: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ داخل ہوئے اور میں بھی داخل ہوا، اور فاطمہ علیہا السلام کا چہرہ زرد تھا، گویا ٹڈی کا پیٹ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہارا چہرہ زرد دیکھ رہا ہوں؟
قالت : يا رسول الله الجوع ، فقال : " اللهم مشبع الجوعة ، ودافع الضيعة ، أشبع فاطمة بنت محمد الخ " 12 .
انہوں نے کہا: یا رسول اللہ، بھوک۔ آپ نے فرمایا: “اے اللہ! بھوکے کو سیر کرنے والے، اور تنگدستی کو دور کرنے والے، محمد کی بیٹی فاطمہ کو سیر کر” — الخ۔ [12]
وعن أبي سعيد الخدري ، قال : أصبح علي بن أبي طالب عليه السلام ذات يوم ساغبا ، فقال : يا فاطمة ، هل عندك شئ تغذينيه ، قالت : لا والذي أكرم أبي بالنبوة وأكرمك بالوصية ، ما أصبح الغداة عندي شئ ، وما كان شئ أطعمناه مذ يومين إلا شئ كنت أوثرك به على نفسي ، وعلى ابني هذين الحسن والحسين ، فقال علي عليه السلام يا فاطمة ألا كنت أعلمتني ، فأبغيكم شيئا ، فقالت يا أبا الحسن : إني لأستحي من إلهي أن أكلف نفسك ما لا تقدر عليه 13 .
اور ابو سعید خدری سے روایت ہے، کہتے ہیں: ایک دن علی بن ابی طالب علیہ السلام نے بھوکے حال میں صبح کی اور فرمایا: اے فاطمہ! کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو مجھے کھلا دو؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اس ذات کی جس نے میرے والد کو نبوت سے اور آپ کو وصایت سے سرفراز کیا، آج صبح میرے پاس کچھ نہیں، اور دو دن سے ہمارے پاس کوئی کھانے کی چیز نہیں رہی سوائے اس کے جو میں اپنے اوپر اور اپنے ان دونوں بیٹوں حسن و حسین پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کے لیے رکھتی رہی۔ علی علیہ السلام نے فرمایا: اے فاطمہ! تم نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ میں تمہارے لیے کچھ تلاش کرتا؟ انہوں نے کہا: اے ابو الحسن! مجھے اپنے معبود سے حیا آتی ہے کہ میں آپ کو اس بات کا مکلف کروں جس کی آپ طاقت نہ رکھتے ہوں۔ [13]
وعن قرب الإسناد ، عن أبي عبد الله ، عن أبيه عليه السلام قال : تقاضا علي وفاطمة صلوات الله عليهما ، إلى رسول الله صلى الله عليه وآله في الخدمة ،
اور قربِ الاسناد سے، ابو عبد اللہ سے، انہوں نے اپنے والد علیہ السلام سے روایت کی، فرمایا: علی اور فاطمہ صلوات اللہ علیہما نے خدمت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس فیصلہ چاہا،