«41»- سن، المحاسن عَلِيُّ بْنُ سَيْفٍ قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام خُذُوا الْحِكْمَةَ وَ لَوْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
المحاسن: علی بن سیف کہتے ہیں: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: حکمت کو مشرکوں سے بھی لے لو۔
«42»- سن، المحاسن ابْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ الْمَسِيحُ عليه السلام مَعْشَرَ الْحَوَارِيِّينَ لَمْ يَضُرَّكُمْ مِنْ نَتْنِ الْقَطِرَانِ إِذَا أَصَابَتْكُمْ سِرَاجُهُ خُذُوا الْعِلْمَ مِمَّنْ عِنْدَهُ وَ لَا تَنْظُرُوا إِلَى عَمَلِهِ.
المحاسن: زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے گروہِ حواریین! تارکول [ایک قسم کا ایندھن جو چراغ میں ڈالا جاتا ہے] کی بدبو تمہیں نقصان نہ دے گی، جب اُس کا چراغ تمہارے ہاتھ میں ہو؛ علم کو ہر اُس شخص سے لو جس کے پاس علم ہے اور اُس کے کردار کی طرف نہ دیکھو۔
«43»- سن، المحاسن النَّوْفَلِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَيْفٍ رَفَعَهُ قَالَ: سُئِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ قَالَ مَنْ جَمَعَ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ.
المحاسن: علی بن سیف نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ سے پوچھا گیا: سب سے بڑا عالم کون ہے؟ فرمایا: وہ جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ جمع کرے۔
«44»- سن، المحاسن مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ وُهَيْبِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ حَدَّثَنِي الْوَشَّاءُ عَنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ كَلِمَةَ الْحِكْمَةِ لَتَكُونُ فِي قَلْبِ الْمُنَافِقِ فَتَجَلْجَلُ حَتَّى يُخْرِجَهَا.
المحاسن: دو سندوں سے ابوبصیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بے شک حکمت کی بات منافق کے دل میں حرکت کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اُسے اپنے منہ سے نکال دے۔
بيان: فتجلجل بفتح التاء أو ضمها أي تتحرك أو تحرك صاحبها على التكلم بها.
«فتَجلجل» یعنی حکمت کی بات خود حرکت کرتی ہے یا اپنے صاحب کو جنبش دیتی ہے تاکہ وہ اُسے کہہ دے۔
«45»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي الْمُفَضَّلِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَلَوِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام الْهَيْبَةُ خَيْبَةٌ وَ الْفُرْصَةُ خُلْسَةٌ وَ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَاطْلُبُوهَا وَ لَوْ عِنْدَ الْمُشْرِكِ تَكُونُوا أَحَقَّ بِهَا وَ أَهْلَهَا.
امالیِ شیخ طوسی: امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: خوف ناامیدی ہے، موقع جلد گزرنے والا ہے، اور حکمت مؤمن کی گمشدہ چیز ہے؛ حکمت کو تلاش کرو خواہ وہ کسی مشرک کے پاس ہو، کیونکہ تم اُس کے زیادہ سزاوار ہو اور تم ہی اہلِ حکمت ہو۔
«46»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي الْمُفَضَّلِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عليهما السلام يَقُولُ لَا تُحَقِّرِ اللُّؤْلُؤَةَ النَّفِيسَةَ أَنْ تَجْتَلِبَهَا مِنَ الْكِبَا الْخَسِيسَةِ فَإِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ الْكَلِمَةَ مِنَ الْحِكْمَةِ لَتَتَلَجْلَجُ فِي صَدْرِ الْمُنَافِقِ نِزَاعاً إِلَى مَظَانِّهَا حَتَّى يَلْفَظَ بِهَا فَيَسْمَعَهَا الْمُؤْمِنُ فَيَكُونُ أَحَقَّ بِهَا وَ أَهْلَهَا فَيَلْقَفُهَا.
امالیِ شیخ طوسی: حمران کہتے ہیں: میں نے امام زین العابدین علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: اُس نفیس جوہر کو حقیر نہ سمجھو جو تم نے کوڑے کے ڈھیر سے پایا ہو۔ میرے والد امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کرتے تھے کہ میں نے آپ سے سنا، فرما رہے تھے: حکمت کی بات منافق کے سینے میں حرکت کرتی ہے تاکہ اپنی جگہ پر پہنچے، یہاں تک کہ منافق اُسے زبان پر لے آئے، پس مؤمن اُسے سنتا ہے، اور وہی اُس کا سزاوار ہے اور مؤمن ہی اہلِ حکمت ہے؛ اُسے چاہیے کہ اُسے حاصل کرے۔
بيان: الكبا بالكسر و القصر الكناسة.
«الکبا» کا معنی کوڑا کرکٹ اور خاکروبہ ہے۔
«47»- سن، المحاسن أَبِي عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِ اللَّهِ اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ وَ اللَّهِ مَا صَلَّوْا لَهُمْ وَ لَا صَامُوا وَ لَكِنْ أَطَاعُوهُمْ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ.
المحاسن: ابوالمقداد نے ایک شخص سے، اُس نے امام باقر علیہ السلام سے آیتِ مبارکہ «اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ» {اُنہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔} کی تفسیر میں روایت کی؛ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم، اُن لوگوں نے اپنے علماء کے لیے نہ نماز پڑھی اور نہ روزہ رکھا، بلکہ علماء اور راہبوں نے اُن کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا اور اُنہوں نے گناہ میں اُن کی پیروی کی۔