Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 95

بيان: قوله ليأتين بفتح الياء و رفع الأمر أي يأتي العلم و ما يتعلق بأمور الخلق و يهبط إلى صدورنا و يحتمل نصب الأمر فيكون ضمير الفاعل راجعا إلى كل أحد من الناس أو كل من أراد اتضاح الأمر له.

«لیَأتینّ الأمرُ» یعنی علم اور جو کچھ مخلوقات کے امور سے تعلق رکھتا ہے، وہ ہمارے سینوں کی طرف اترتا ہے۔ اور احتمال ہے کہ «الأمرَ» منصوب ہو اور فاعل کی ضمیر «کل احد من الناس» کی طرف لوٹے، یا ہر اُس شخص کی طرف جو کسی چیز کی وضاحت چاہے۔

«35»- ير، بصائر الدرجات الْعَبَّاسُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ حَرِيزٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّهُ لَيْسَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ حَقٍّ وَ لَا صَوَابٍ وَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَقْضِي بِقَضَاءٍ يُصِيبُ فِيهِ الْحَقَّ إِلَّا مِفْتَاحُهُ عَلِيٌّ فَإِذَا تَشَعَّبَتْ بِهِمُ الْأُمُورُ كَانَ الْخَطَأُ مِنْ قِبَلِهِمْ وَ الصَّوَابُ مِنْ قِبَلِهِ أَوْ كَمَا قَالَ.

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ سے سنا، فرما رہے تھے: حق اور صواب کسی کے پاس نہیں اور کوئی حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا، مگر یہ کہ اُس کی کلید علی بن ابی طالب ہیں۔ جب لوگوں پر معاملات مشتبہ ہوتے ہیں تو خطا اور غلطی اُن کی اپنی طرف سے ہے اور حق علی علیہ السلام کی طرف سے۔

ير، بصائر الدرجات عبد اللّٰه بن جعفر عن محمد بن عيسى عن يونس عن ابن مسكان عن محمد بن مسلم مثله.

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم نے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔

«36»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ ابْنِ رِئَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ عِنْدَ أَحَدٍ عِلْمٌ وَ لَا حَقٌّ وَ لَا فُتْيَا إِلَّا شَيْ ءٌ أَخَذَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام وَ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ وَ مَا مِنْ قَضَاءٍ يُقْضَى بِهِ بِحَقٍّ وَ صَوَابٍ إِلَّا بَدْءُ ذَلِكَ وَ مِفْتَاحُهُ وَ سَبَبُهُ وَ عِلْمُهُ مِنْ عَلِیٍّ عليه السلام وَ مِنَّا فَإِذَا اخْتَلَفَ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُمْ قَاسُوا وَ عَمِلُوا بِالرَّأْيِ وَ كَانَ الْخَطَأُ مِنْ قِبَلِهِمْ إِذَا قَاسُوا وَ كَانَ الصَّوَابُ إِذَا اتَّبَعُوا الْآثَارَ مِنْ قِبَلِ عَلِيٍّ عليه السلام.

بصائر الدرجات: محمد بن مسلم نے کہا: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: علم، حق اور فتویٰ کسی کے پاس نہیں مگر یہ کہ اُس نے علی بن ابی طالب سے اور ہم اہلِ بیت سے لیا ہو۔ کوئی فیصلہ حق اور صواب کے مطابق نہیں مگر یہ کہ اُس کا آغاز، کلید، سبب اور علم علی بن ابی طالب اور ہم اہلِ بیت سے ہو۔ جب لوگوں پر معاملات مشتبہ ہوں تو وہ قیاس کرتے ہیں اور رائے پر عمل کرتے ہیں، اور غلطی اُن کی اپنی طرف سے ہے ـ یعنی جب وہ قیاس کریں؛ اور صواب اُس وقت ہے جب اُنہوں نے علی علیہ السلام کے آثار کی پیروی کی ہو۔

«37»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ النَّحْوِيِّ ١ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَدَّبَ نَبِيَّهُ عَلَى مَحَبَّتِهِ فَقَالَ إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ وَ قَالَ وَ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَ قَالَ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ وَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَوَّضَ إِلَى عَلِيٍّ عليه السلام وَ ائْتَمَنَهُ فَسَلَّمْتُمْ وَ جَحَدَ النَّاسُ فَوَ اللَّهِ لَنُحِبُّكُمْ أَنْ تَقُولُوا إِذَا قُلْنَا وَ تَصْمُتُوا إِذَا صَمَتْنَا وَ نَحْنُ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ اللَّهِ.

المحاسن: ابواسحاق نحوی کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اپنی محبت پر ادب سکھایا۔ پس فرمایا: «إِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ» {اور بے شک تم عظیم خلق پر ہو!} اور فرمایا: «وَ ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» {اور جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو، اور جس سے تمہیں روکے اُس سے رُک جاؤ۔} اور فرمایا: «مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ» {جو رسول کی اطاعت کرے اُس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی۔} بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے علی بن ابی طالب کے سپرد کیا اور اُنہیں اپنا امین بنایا، اور تم نے تسلیم کیا اور لوگوں نے انکار کیا؛ اللہ کی قسم میں تم سے محبت رکھتا ہوں ـ کہ تم وہ کہو جو ہم نے کہا اور خاموش رہو جب ہم خاموش رہے۔ ہم تمہارے اور اللہ کے درمیان واسطہ ہیں۔

(١)1- 1 هو ثعلبة بن ميمون المترجم في ص 85 من رجال النجاشيّ بقوله: ثعلبة بن ميمون مولی بنی أسد ثمّ مولی بنی سلامة منهم أبو إسحاق النحوي، كان وجها في أصحابنا، قاريا، فقيها، نحويا، لغويا، راوية، و كان حسن العمل، كثير العبادة و الزهد، روی عن أبي عبد اللّٰه و أبي الحسن عليهما السلام، له كتاب يختلف الرواية عنه.وہ ثعلبۃ بن میمون ہیں جن کا حالِ زندگی رجالِ نجاشی کے ص ۸۵ پر آیا ہے: ثعلبۃ بن میمون، مولائے بنی اسد اور پھر اُنہی میں سے بنی سلامہ کے مولا، ابواسحاق نحوی؛ ہمارے اصحاب میں سرشناس تھے: قاری، فقیہ، نحوی، لغوی اور کثیر الروایت؛ نیک کردار اور بہت عبادت گزار و زاہد۔ اُنہوں نے ابوعبداللہ اور ابوالحسن علیہما السلام سے روایت کی اور اُن کی ایک کتاب ہے جس کی روایت اُن سے مختلف صورتوں میں ہے۔