Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 94

«28»- كِتَابُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ الْحِكْمَةَ لَتَكُونُ فِي قَلْبِ الْمُنَافِقِ فَتَجَلْجَلُ فِي صَدْرِهِ حَتَّى يُخْرِجَهَا فَيُوعِيَهَا الْمُؤْمِنُ وَ تَكُونُ كَلِمَةُ الْمُنَافِقِ فِي صَدْرِ الْمُؤْمِنِ فَتَجَلْجَلُ فِي صَدْرِهِ حَتَّى يُخْرِجَهَا فَيَعِيَهَا الْمُنَافِقُ.

کتاب جعفر بن محمد بن شریح: جابر جعفی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: حکمت کا ایک کلمہ منافق کے دل میں اترتا ہے اور وہاں حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اُسے باہر نکالتا ہے اور مؤمن اُسے لے لیتا ہے۔ اور منافق کا کلمہ مؤمن کے سینے میں اترتا ہے اور حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اُسے باہر نکالتا ہے اور منافق اُسے لے لیتا ہے۔

«29»- وَ مِنْهُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَى أَبِي عليه السلام فَقَالَ إِنَّكُمْ أَهْلُ بَيْتِ رَحْمَةٍ اخْتَصَّكُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ قَالَ نَحْنُ كَذَلِكَ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَمْ نُدْخِلْ أَحَداً فِي ضَلَالَةٍ وَ لَمْ نُخْرِجْ أَحَداً مِنْ بَابِ هُدًى نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نُضِلَّ أَحَداً.

اوپر والی سند سے امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص میرے والد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپ اہلِ بیتِ رحمت ہیں جسے اللہ نے آپ کے لیے مخصوص کیا۔ امام نے فرمایا: ہم اِسی طرح ہیں؛ اللہ کا شکر کہ ہم نے کسی کو گمراہ نہیں کیا اور کسی کو ہدایت سے باہر نہیں نکالا۔ اللہ کی پناہ کہ ہم کسی کو گمراہ کریں۔

«30»- ف، تحف العقول عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي عليه السلام قَالَ: مَنْ أَصْغَى إِلَى نَاطِقٍ فَقَدْ عَبَدَهُ فَإِنْ كَانَ النَّاطِقُ عَنِ اللَّهِ فَقَدْ عَبَدَ اللَّهَ وَ إِنْ كَانَ النَّاطِقُ يَنْطِقُ عَنْ لِسَانِ إِبْلِيسَ فَقَدْ عَبَدَ إِبْلِيسَ.

تحف العقول: امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: جو کسی بولنے والے کی بات غور سے سنے، اُس نے یقیناً اُس کی پرستش کی؛ پس اگر وہ بولنے والا اللہ کی طرف سے بولے تو اُس نے اللہ کی عبادت کی، اور اگر وہ ابلیس کی زبان سے بولے تو اُس نے یقیناً شیطان کی پرستش کی۔

«31»- سن، المحاسن ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَقٌّ وَ لَا صَوَابٌ إِلَّا شَيْ ءٌ أَخَذُوهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ وَ لَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَقْضِي بِحَقٍّ وَ عَدْلٍ وَ صَوَابٍ إِلَّا مِفْتَاحُ ذَلِكَ الْقَضَاءِ وَ بَابُهُ وَ أَوَّلُهُ وَ سَبَبُهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام فَإِذَا اشْتَبَهَتْ عَلَيْهِمُ الْأُمُورُ كَانَ الْخَطَأُ مِنْ قِبَلِهِمْ إِذَا أَخْطَئُوا وَ الصَّوَابُ مِنْ قِبَلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام.

المحاسن: محمد بن مسلم امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: آگاہ رہو! کسی کے پاس حق اور راہِ صواب نہیں، مگر یہ کہ اُنہوں نے ہم اہلِ بیت سے لیا ہو۔ جو کوئی حق، عدل اور واقع کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، اُس فیصلے کی کلید اور اُس کا دروازہ علی علیہ السلام کے پاس ہے، اور وہی حق کے مطابق فیصلے کا سبب اور اُس کے پیش رو ہیں۔ جب لوگوں پر معاملات مشتبہ ہو جاتے ہیں تو خطا اور غلطی اُن کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اور حق علی علیہ السلام کی طرف سے۔

«32»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ فُضَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ كُلُّ مَا لَمْ يَخْرُجْ مِنْ هَذَا الْبَيْتِ فَهُوَ بَاطِلٌ.

بصائر الدرجات: فضیل کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: ہر وہ علم جو ہم اہلِ بیت سے نہ نکلے، وہ علم باطل ہے۔

«33»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلِمْنَا وَ مِنْ حُكْمِهِ أَخَذْنَا وَ مِنْ قَوْلِ الصَّادِقِ سَمِعْنَا فَإِنْ تَتَّبِعُونَا تَهْتَدُوا.

بصائر الدرجات: جابر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہم اہلِ بیت نے اللہ کے علم سے علم سیکھا اور اللہ کی حکمتوں سے لیا اور سچے کے کلام سے سنا؛ پس اگر تم ہماری پیروی کرو تو ہدایت پاؤ گے۔

«34»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ الْبَزَنْطِيِّ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ سَلْهُ عَنْ قَوْلِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ وَ لَا تَسْأَلُونَنِي عَنْ شَيْ ءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ عِنْدَهُ عِلْمُ شَيْ ءٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام فَلْيَذْهَبِ النَّاسُ حَيْثُ شَاءُوا فَوَ اللَّهِ لَيَأْتِيَنَّ الْأَمْرُ هَاهُنَا وَ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی صَدْرِهِ.

بصائر الدرجات: زرارہ کہتے ہیں: میں امام باقر علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا کہ اہلِ کوفہ کے ایک شخص نے مجھ سے کہا: آپ سے امیر المؤمنین علیہ السلام کے اِس قول کا معنی پوچھو: «جو چاہو مجھ سے پوچھو، تم کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو گے مگر یہ کہ میں تمہیں بتاؤں گا۔» پس میں نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا: کسی کے پاس کوئی علم نہیں مگر یہ کہ وہ امیر المؤمنین علیہ السلام کے پاس سے نکلا ہو۔ لوگ جہاں چاہیں جائیں، اللہ کی قسم علم یہاں آتا ہے ـ اور آپ نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔