بيان: أي إنما خاطب اللّٰه رسوله بهذا الخطاب أن القرآن ذكر أي مذكر أو شرف لك و لقومك و قومه أهل بيته و قد ورد في الأخبار أن المخاطب في قوله تعالى وَ سَوْفَ تُسْئَلُونَ هو أهل بيت النبي صلى اللّٰه عليه و آله فإن الناس يسألونهم عن علوم القرآن.
مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو اِس خطاب سے مخاطب کیا کہ قرآن «ذکر» ہے، یعنی یاد دلانے والا، یا تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے باعثِ شرف؛ اور آپ کی قوم آپ کے اہلِ بیت ہیں۔ اور اخبار میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول «وَ سَوْفَ تُسْئَلُونَ» میں مخاطب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے اہلِ بیت ہیں، کیونکہ لوگ قرآن کے علوم اُنہی سے پوچھتے ہیں۔
«20»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ثَعْلَبَةَ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام لِسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ١وَ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ٢شَرِّقَا وَ غَرِّبَا لَنْ تَجِدَا عِلْماً صَحِيحاً إِلَّا شَيْئاً يَخْرُجُ مِنْ عِنْدِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ.
بصائر الدرجات: ابومریم کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے سلمۃ بن کہیل اور حکم بن عتیبہ سے فرمایا: عالم کے مشرق یا مغرب میں چلے جاؤ، تم ہرگز درست علم نہ پاؤ گے مگر وہ جو ہم اہلِ بیت کے پاس سے نکلے۔
كش، رجال الكشي محمد بن مسعود عن علي بن محمد بن فيروزان عن الأشعري عن ابن معروف عن الحجال عن أبي مريم مثله.
رجال الکشی: ابومریم نے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔
«21»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَ سِنْدِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَ ذَلِكَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِرْهَماً وَ لَا دِينَاراً وَ إِنَّمَا وَرَّثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ شَيْئاً مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ الْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولًا يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَ انْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ.
بصائر الدرجات: ابوالبختری نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں، اِس لیے کہ انبیاء نے درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑے، اُنہوں نے صرف اپنی بہت سی حدیثیں میراث میں چھوڑیں؛ جو اُن احادیث میں سے کچھ لے، اُس نے یقیناً بھرپور حصہ لیا۔ اپنے علم کی طرف دیکھو کہ تم اُسے کس سے لے رہے ہو۔ بے شک ہم اہلِ بیت میں ہر زمانے میں ایسے عادل لوگ ہوتے ہیں جو دین کو غالیوں کی تحریف، باطل مذاہب کے جذب اور نادانوں کی تاویل سے محفوظ رکھتے ہیں۔
ختص، الإختصاص محمد بن الحسين عن ابن الوليد عن الصفار عن السندي مثله- ير، بصائر الدرجات أحمد بن محمد عن ابن فضال رفعه إلى أبی عبد اللّٰه عليه السلام مثله.
الاختصاص: ایک سند کے ساتھ اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔ بصائر الدرجات: ابن فضال نے امام صادق علیہ السلام سے اوپر والی حدیث کی مانند نقل کیا ہے۔
«22»- كش، رجال الكشي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ فِيرُوزَانَ الْقُمِّيِّ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنِ
رجال الکشی: