إِنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ الْعِلْمَ يُؤْذِي رِيحُ بُطُونِهِمْ أَهْلَ النَّارِ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام فَهَلَكَ إِذاً مُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ وَ مَا زَالَ الْعِلْمُ مَكْتُوماً مُنْذُ بَعَثَ اللَّهُ نُوحاً عليه السلام فَلْيَذْهَبِ الْحَسَنُ يَمِيناً وَ شِمَالًا فَوَ اللَّهِ مَا يُوجَدُ الْعِلْمُ إِلَّا هَاهُنَا١.
حسن بصری گمان کرتا ہے کہ جو لوگ علم چھپاتے ہیں، اُن کے پیٹوں کی بدبو اہلِ جہنم کو اذیت دیتی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: اِس صورت میں مؤمنِ آلِ فرعون ہلاک ہو گیا! جب سے اللہ نے حضرت نوح کو نبوت پر مبعوث کیا، علم ہمیشہ مکتوم رہا ہے؛ حسن بصری دائیں یا بائیں جائے (جہاں چاہے جائے)، اللہ کی قسم، وہ ہرگز علم ہم اہلِ بیت کے سوا نہ پائے گا۔
«17»- ير، بصائر الدرجات الْفَضْلُ عَنْ مُوسَى بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ وَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ إِنَّ عُثْمَانَ الْأَعْمَى يَرْوِي عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ الْعِلْمَ تُؤْذِي رِيحُ بُطُونِهِمْ أَهْلَ النَّارِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام فَهَلَكَ إِذاً مُؤْمِنُ آلِ فِرْعَوْنَ كَذَبُوا إِنَّ ذَلِكَ مِنْ فُرُوجِ الزُّنَاةِ وَ مَا زَالَ الْعِلْمُ مَكْتُوماً قَبْلَ قَتْلِ ابْنِ آدَمَ فَلْيَذْهَبِ الْحَسَنُ يَمِيناً وَ شِمَالًا لَا يُوجَدُ الْعِلْمُ إِلَّا عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ نَزَلَ عَلَيْهِمْ جَبْرَئِيلُ.
بصائر الدرجات: سلیمان بن خالد کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا ـ جبکہ بصرہ کا ایک شخص آپ کے پاس تھا اور آپ سے سوال کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: عثمان اعمیٰ حسن بصری سے روایت کرتا ہے: جو لوگ علم چھپاتے ہیں، اُن کے پیٹوں کی بدبو اہلِ جہنم کو اذیت دیتی ہے ـ تو آپ نے فرمایا: اِس صورت میں مؤمنِ آلِ فرعون ہلاک ہو گیا! اُنہوں نے جھوٹ کہا۔ بے شک وہ بدبو زنا کاروں کی شرمگاہوں سے ہے؛ اور جب سے ابنِ آدم قتل ہوا، علم ہمیشہ مکتوم رہا ہے۔
بيان: قوله عليه السلام إن ذلك أي الريح التي تؤذي أهل النار إنما هي من فروج الزناة.
حسن بصری دائیں یا بائیں جائے، وہ علم اُس گھرانے کے سوا نہ پائے گا جس پر جبرئیل نازل ہوئے۔
أقول: قد أوردنا بعض الأخبار في باب كتمان العلم.
وہ بدبو جس سے اہلِ جہنم اذیت میں ہیں، زنا کار عورتوں کی شرمگاہوں کی بدبو ہے۔ مؤلف: اِن میں سے بعض احادیث میں نے کتمانِ علم کے باب میں نقل کی ہیں۔
«18»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنِ النَّضْرِ عَنْ يَحْيَى الْحَلَبِيِّ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي إِنَّ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ما هُمْ بِمُؤْمِنِينَ فَلْيُشَرِّقِ الْحَكَمُ وَ لْيُغَرِّبْ أَمَا وَ اللَّهِ لَا يُصِيبُ الْعِلْمَ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ نَزَلَ عَلَيْهِمْ جَبْرَئِيلُ.
بصائر الدرجات: ابوبصیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: بے شک حکم بن عتیبہ اُن لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ ما هُمْ بِمُؤْمِنِینَ» {اور بعض لوگ کہتے ہیں: ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ [سچے] ایمان والے نہیں۔} پس اگر وہ عالم کے مشرق یا مغرب میں جائے، اللہ کی قسم، وہ علم اُس گھرانے کے سوا نہ پائے گا جس پر جبرئیل نازل ہوئے۔
«19»- ير، بصائر الدرجات السِّنْدِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبَانِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام عَنْ شَهَادَةِ وَلَدِ الزِّنَا تَجُوزُ قَالَ لَا فَقُلْتُ إِنَّ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ يَزْعُمُ أَنَّهَا تَجُوزُ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَغْفِرْ لَهُ ذَنْبَهُ مَا قَالَ اللَّهُ لِلْحَكَمِ إِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَ لِقَوْمِكَ وَ سَوْفَ تُسْئَلُونَ فَلْيَذْهَبِ الْحَكَمُ يَمِيناً وَ شِمَالًا فَوَ اللَّهِ لَا يُوجَدُ الْعِلْمُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ نَزَلَ عَلَيْهِمْ جَبْرَئِيلُ.
بصائر الدرجات: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے ولد الزنا کی گواہی کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: جائز نہیں۔ میں نے کہا: حکم بن عتیبہ گمان کرتا ہے کہ جائز ہے۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! اُس کا گناہ نہ بخش۔ کیا اللہ نے اِس حکم کے بارے میں نہیں فرمایا: «إِنَّهُ لَذِکْرٌ لَکَ وَ لِقَوْمِکَ وَ سَوْفَ تُسْئَلُونَ» {اور بے شک یہ [قرآن] تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے [باعثِ] نصیحت ہے، اور عنقریب تم سے [اِس بارے میں] پوچھا جائے گا۔} حکم عالم کے دائیں یا بائیں جائے، اللہ کی قسم، وہ علم اُس گھرانے کے سوا نہ پائے گا جس پر جبرئیل نازل ہوئے۔
كش، رجال الكشي محمد بن مسعود عن علي بن الحسن بن فضال عن العباس بن عامر و جعفر بن محمد بن حكيم عن أبان مثله
رجال الکشی: ابان نے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔