«9»- وَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام يَا مَعْشَرَ شِيعَتِنَا وَ الْمُنْتَحِلِينَ مَوَدَّتَنَا إِيَّاكُمْ وَ أَصْحَابَ الرَّأْيِ فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءُ السُّنَنِ تَفَلَّتَتْ مِنْهُمُ الْأَحَادِيثُ أَنْ يَحْفَظُوهَا وَ أَعْيَتْهُمُ السُّنَّةُ أَنْ يَعُوهَا فَاتَّخَذُوا عِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا وَ مَالَهُ دُوَلًا فَذَلَّتْ لَهُمُ الرِّقَابُ وَ أَطَاعَهُمُ الْخَلْقُ أَشْبَاهُ الْكِلَابِ وَ نَازَعُوا الْحَقَّ أَهْلَهُ وَ تَمَثَّلُوا بِالْأَئِمَّةِ الصَّادِقِينَ وَ هُمْ مِنَ الْكُفَّارِ الْمَلاعِينِ فَسُئِلُوا عَمَّا لَا يَعْلَمُونَ فَأَنِفُوا أَنْ يَعْتَرِفُوا بِأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ فَعَارَضُوا الدِّينَ بِآرَائِهِمْ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا أَمَا لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالْقِيَاسِ لَكَانَ بَاطِنُ الرِّجْلَيْنِ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا.
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اے ہمارے شیعوں کے گروہ اور اے وہ لوگو جنہوں نے ہماری محبت اختیار کی! اہلِ رائے سے بچو، کیونکہ وہ سنت کے دشمن ہیں؛ احادیث اُن کے ہاتھ سے نکل گئیں اور سنت کا سیکھنا اُنہیں عاجز کر گیا؛ اُنہوں نے اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیا، اللہ کا مال اُن کے درمیان ہاتھوں ہاتھ پھرتا ہے، لوگوں کی گردنیں اُن کے سامنے ذلیل ہیں اور کتوں جیسے لوگ اُن کا حکم مانتے ہیں۔ وہ خود کو حق کے پیشواؤں کے مرتبے اور مانند سمجھتے ہیں اور اہلِ حق سے جھگڑتے اور لڑتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ ملعون کافروں میں سے ہیں۔ جو نہیں جانتے اُس کے بارے میں اُن سے پوچھا جاتا ہے مگر وہ نادانی کا اعتراف نہیں کرتے۔ اُنہوں نے اپنی رائے کے بدلے دین کا سودا کیا، پس گمراہ ہوئے اور گمراہ کیا۔ اگر دین قیاس سے درست ہوتا تو دونوں پاؤں کے نیچے کا مسح اُن کے اوپر کے مسح سے بہتر ہوتا۔
«10»- وَ قَالَ الرِّضَا عليه السلام قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ حَسُنَ سَمْتُهُ وَ هَدْيُهُ وَ تَمَاوَتَ فِي مَنْطِقِهِ وَ تَخَاضَعَ فِي حَرَكَاتِهِ فَرُوَيْداً لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ يُعْجِزُهُ تَنَاوُلُ الدُّنْيَا وَ رُكُوبُ الْحَرَامِ مِنْهَا لِضَعْفِ نِيَّتِهِ وَ مَهَانَتِهِ وَ جُبْنِ قَلْبِهِ فَنَصَبَ الدِّينَ فَخّاً لَهَا ١ فَهُوَ لَا يَزَالُ يَخْتِلُ النَّاسَ بِظَاهِرِهِ فَإِنْ تَمَكَّنَ مِنْ حَرَامٍ اقْتَحَمَهُ وَ إِذَا وَجَدْتُمُوهُ يَعِفُّ عَنِ الْمَالِ الْحَرَامِ فَرُوَيْداً لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَإِنَّ شَهَوَاتِ الْخَلْقِ مُخْتَلِفَةٌ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ يَنْبُو ٢ عَنِ الْمَالِ الْحَرَامِ وَ إِنْ كَثُرَ وَ يَحْمِلُ نَفْسَهُ عَلَى شَوْهَاءَ قَبِيحَةٍ فَيَأْتِي مِنْهَا مُحَرَّماً فَإِذَا وَجَدْتُمُوهُ يَعِفُّ عَنْ ذَلِكَ فَرُوَيْداً لَا يَغُرَّكُمْ حَتَّى تَنْظُرُوا مَا عَقَدَهُ عَقْلُهُ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ تَرَكَ ذَلِكَ أَجْمَعَ ثُمَّ لَا يَرْجِعُ إِلَى عَقْلٍ مَتِينٍ فَيَكُونُ مَا يُفْسِدُهُ بِجَهْلِهِ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُهُ بِعَقْلِهِ فَإِذَا وَجَدْتُمْ عَقْلَهُ مَتِيناً فَرُوَيْداً لَا يَغُرَّكُمْ حَتَّى تَنْظُرُوا أَ مَعَ هَوَاهُ يَكُونُ عَلَى عَقْلِهِ أَوْ يَكُونُ مَعَ عَقْلِهِ عَلَى هَوَاهُ وَ كَيْفَ مَحَبَّتُهُ لِلرِّئَاسَاتِ الْبَاطِلَةِ وَ زُهْدُهُ فِيهَا فَإِنَّ فِي النَّاسِ مَنْ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةَ يَتْرُكُ الدُّنْيَا لِلدُّنْيَا وَ يَرَى أَنَّ لَذَّةَ الرِّئَاسَةِ الْبَاطِلَةِ أَفْضَلُ مِنْ لَذَّةِ الْأَمْوَالِ وَ النِّعَمِ الْمُبَاحَةِ الْمُحَلَّلَةِ فَيَتْرُكُ ذَلِكَ أَجْمَعَ طَلَباً لِلرِّئَاسَةِ حَتَّى إِذا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِهادُ فَهُوَ يَخْبِطُ خَبْطَ عَشْوَاءَ يَقُودُهُ أَوَّلُ بَاطِلٍ إِلَى أَبْعَدِ غَايَاتِ الْخَسَارَةِ وَ يُمِدُّهُ رَبُّهُ بَعْدَ طَلَبِهِ لِمَا لَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ فِي طُغْيَانِهِ فَهُوَ يُحِلُّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَ يُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَا يُبَالِي بِمَا فَاتَ مِنْ دِينِهِ إِذَا سَلِمَتْ لَهُ رِئَاسَتُهُ الَّتِي قَدْ يَتَّقِي مِنْ أَجْلِهَا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهِيناً
امام رضا علیہ السلام امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جس کی صورت اور ظاہر اہلِ خیر و نیکی جیسا نہیں اور اپنی گفتار میں ریاکاری کرتا ہے اور اپنی حرکتوں میں فروتن ہے، تو جلدی اُس کی پیروی نہ کرو؛ ٹھہرو اور دھوکا نہ کھاؤ۔ کیونکہ کتنے ہی ایسے ہیں جو دنیا اور اُس کے حرام کے حصول سے عاجز ہیں، اور یہ ناتوانی نیت و ارادے کی کمزوری، پستی اور خوف کے سبب ہے؛ چنانچہ وہ دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بناتے ہیں اور ظاہر داری سے لوگوں کو فریب دیتے ہیں؛ اور اگر اُسے حرام پر قدرت ہو تو اُس میں کود پڑے۔ لیکن اگر تم دیکھو کہ وہ مالِ حرام سے پرہیز کرتا ہے، تب بھی ٹھہرو اور دھوکا نہ کھاؤ، کیونکہ لوگوں کی خواہشیں مختلف ہیں؛ کتنے ہی ایسے ہیں جو مالِ حرام کی طرف توجہ نہیں کرتے ـ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ہو ـ مگر وہی شخص کسی بدصورت عورت سے زنا کرتا ہے۔ اگر تم دیکھو کہ وہ ایسا کام نہیں کرتا، تب بھی غور کرو اور دھوکا نہ کھاؤ: دیکھو اُس کی عقل کیسی ہے، کیونکہ بہت سے موارد ہیں کہ کوئی مال اور شہوت ترک کر دیتا ہے مگر اُس کی عقل درست نہیں اور نادانی کے سبب اُس کا فساد اُس کی اصلاح سے زیادہ ہے۔ اگر تم دیکھو کہ اُس کی عقل درست ہے، تب بھی دھوکا نہ کھاؤ: دیکھو کہ اُس کی عقل ہوائے نفس پر غالب ہے یا برعکس، اور یہ بھی غور کرو کہ اُسے باطل سرداریوں سے لگاؤ ہے یا نہیں؛ کیونکہ بعض لوگوں نے دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھایا ہے: وہ دنیا کو دنیا ہی کے لیے چھوڑتے ہیں اور باطل سرداری کی لذت کو حلال اموال اور نعمتوں کی لذت سے بہتر سمجھتے ہیں اور سب کچھ سرداری تک پہنچنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں: «إِذا قِیلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِهادُ» {اور جب اُس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو غرور اُسے گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے۔ پس اُس کے لیے جہنم کافی ہے، اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔} وہ بصیرت کے بغیر اور اندھا دھند راہ طے کرتا ہے؛ باطل کی راہ میں اُس کا پہلا قدم اُسے خسارے کے آخری درجے تک پہنچا دیتا ہے۔ اور جب وہ اُن چیزوں کا دعویٰ کرتا ہے جن پر اُسے قدرت نہیں، جیسے امامت اور لوگوں پر سرداری کا دعویٰ اور فتویٰ دینا، تو اللہ کے لطف سے محرومی کا مستحق ہو جاتا ہے، سرکشی اور طغیان میں مضبوط ہو جاتا ہے، حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتا ہے؛ دین کا ہاتھ سے جانا اُس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اہم یہ ہے کہ اُس کی سرداری باقی رہے۔ اِنہی کے بارے میں آیتِ مبارکہ ہے: «وَ یُعَذِّبَ الْمُنافِقِینَ وَ الْمُنافِقاتِ وَ الْمُشْرِکِینَ وَ الْمُشْرِکاتِ الظَّانِّینَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَیْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ أَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَ ساءَتْ مَصِیراً»،