Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 82

لقمان: «وَ إِذا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا ما أَنْزَلَ اللَّهُ قالُوا بَلْ نَتَّبِعُ ما وَجَدْنا عَلَيْهِ آباءَنا أَ وَ لَوْ كانَ الشَّيْطانُ يَدْعُوهُمْ إِلى عَذابِ السَّعِيرِ»(21)

{اور جب اُن سے کہا جائے کہ اُس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا، تو کہتے ہیں: [نہیں!] بلکہ ہم اُس کی پیروی کرتے ہیں جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ کیا اگرچہ شیطان اُنہیں جلتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو؟}

الصافات: «إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آباءَهُمْ ضالِّينَ فَهُمْ عَلى آثارِهِمْ يُهْرَعُونَ»(69 ، 70)

الصافات: {اُنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا،} {پس وہ اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑے چلے جاتے ہیں!}

الزمر: «وَ الَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوها وَ أَنابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرى»(17)

{اور جو لوگ طاغوت سے بچے رہے کہ کہیں اُس کی پرستش نہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا، اُن کے لیے خوشخبری ہے؛ پس میرے اُن بندوں کو بشارت دو۔}

الزخرف: «وَ كَذلِكَ ما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قالَ مُتْرَفُوها إِنَّا وَجَدْنا آباءَنا عَلى أُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلی آثارِهِمْ مُقْتَدُونَ»(23)

{اور اِسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا مگر یہ کہ اُس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے [اور راہ] پر پایا اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔}

«1»- كش، رجال الكشي مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْكَشِّيُّ ١ وَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الْمَرْوَزِيِّ رَفَعَهُ قَالَ قَالَ الصَّادِقُ عليه السلام اعْرِفُوا مَنَازِلَ شِيعَتِنَا بِقَدْرِ مَا يُحْسِنُونَ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَنَّا فَإِنَّا لَا نَعُدُّ الْفَقِيهَ مِنْهُمْ فَقِيهاً حَتَّى يَكُونَ مُحَدَّثاً فَقِيلَ لَهُ أَ وَ يَكُونُ الْمُؤْمِنُ مُحَدَّثاً قَالَ يَكُونُ مُفَهَّماً وَ الْمُفَهَّمُ مُحَدَّثٌ.

رجال الکشی: ابن حمّاد مروزی ایک مرفوع حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعوں کا مرتبہ اُن کی ہماری روایات سے واقفیت کے مطابق پہچانو، کیونکہ ہم اُنہیں فقیہ نہیں سمجھتے جب تک وہ محدَّث نہ ہوں (اُنہیں الہام نہ ہو)۔ عرض کیا گیا: اے فرزندِ رسولِ خدا! کیا مؤمن محدَّث ہوتا ہے؟ فرمایا: اُسے سمجھا دیا جاتا ہے۔ (مُفہَم وہی محدَّث ہے۔)

«2»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ وَ إِبْرَاهِيمُ ابْنَا نُصَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الْمَدَائِنِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّائِيِّ قَالَ: كَتَبَ إِلَیَّ أَبُو الْحَسَنِ الْأَوَّلُ وَ هُوَ فِي السِّجْنِ وَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ يَا عَلِيُّ مِمَّنْ تَأْخُذُ مَعَالِمَ دِينِكَ لَا تَأْخُذَنَّ مَعَالِمَ دِينِكَ عَنْ غَيْرِ شِيعَتِنَا فَإِنَّكَ إِنْ تَعَدَّيْتَهُمْ أَخَذْتَ دِينَكَ عَنِ الْخَائِنِينَ الَّذِينَ خَانُوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ خَانُوا أَمَانَاتِهِمْ إِنَّهُمُ اؤْتُمِنُوا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ جَلَّ وَ عَلَا فَحَرَّفُوهُ وَ بَدَّلُوهُ فَعَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَ لَعْنَةُ رَسُولِهِ وَ مَلَائِكَتِهِ وَ لَعْنَةُ آبَائِيَ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَ لَعْنَتِي وَ لَعْنَةُ شِيعَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

رجال الکشی: ابن سوید سائی کہتے ہیں: امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے مجھے قید خانے سے لکھا: اپنے دینی مسائل ہمارے شیعوں کے سوا کسی سے نہ پوچھو، ورنہ تم نے اپنا دین اللہ اور رسول کے خائنوں سے لیا۔ کیونکہ کتابِ خدا اُن کے پاس امانت تھی اور وہ امین تھے، مگر اُنہوں نے اُس میں تحریف و تبدیل کی۔ پس اللہ، رسول، فرشتوں، میرے بزرگوار و نیکوکار آباء، میری اور میرے شیعوں کی لعنت قیامت تک اُن پر ہو۔

«3»- كش، رجال الكشي جَبْرَئِيلُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمِ بْنِ مَاهَوَيْهِ ٢قَالَ: كَتَبْتُ إِلَيْهِ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ الثَّالِثَ عليه السلام أَسْأَلُهُ عَمَّنْ آخُذُ مَعَالِمَ دِينِي وَ كَتَبَ أَخُوهُ أَيْضاً بِذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِمَا فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتُمَا فَاعْتَمِدَا فِي دِينِكُمَا عَلَى مُسِنٍّ فِي حُبِّكُمَا وَ كُلِّ كَثِيرِ الْقَدَمِ فِي أَمْرِنَا فَإِنَّهُمْ كَافُوكُمَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

رجال الکشی: حاتم بن ماہویہ کہتے ہیں: میں نے امام ہادی علیہ السلام کو لکھا ـ اُن کے بھائی نے بھی ایسا ہی لکھا تھا ـ کہ اپنے دینی مسائل کس سے پوچھوں؟ امام نے دونوں بھائیوں کے جواب میں لکھا: جو تم نے کہا وہ میں نے جان لیا۔ اپنے دین کے امور میں اُس پر اعتماد کرو جس کی عمر تمہاری محبت میں گزری ہو اور جس نے امر و ولایت کی راہ میں بہت قدم اٹھائے ہوں؛ وہ اللہ کے ارادے سے تمہارے لیے کافی ہے۔

«4»- مع، معاني الأخبار أَبِی عَنْ سَعْدٍ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِهِ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا تَكُونُ إِمَّعَةً ٣ تَقُولُ أَنَا مَعَ النَّاسِ وَ أَنَا كَوَاحِدٍ مِنَ النَّاسِ.

معانی الأخبار: احمد بن ابی عبداللہ نے اپنے والد سے، اپنی اسناد کے ساتھ جسے امام صادق علیہ السلام تک پہنچایا، نقل کیا کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: «إمّعہ» (أنا معہ کا مخفف) کہنے والے نہ بنو، جو کہتا ہے: میں لوگوں کے ساتھ ہوں اور میں لوگوں میں سے ایک کی مانند ہوں؛ جیسے باقی ہوں گے، میں بھی ویسا ہو جاؤں گا۔

(١)1- و في نسخة: محمّد بن سعيد الكشّيّ.اور ایک نسخے میں: «محمّد بن سعید الکشّی»۔
(٢)2- بفتح الهاء او بالسكون ثمّ الواو المكسورة.ہاء کے فتحہ یا اُس کے سکون کے ساتھ، پھر واوِ مکسور۔
(٣)3- خبر أريد به النهی.یہ ایک خبر ہے جس سے نہی مراد لی گئی ہے۔