«76»- نی، الغيبة للنعماني بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ الصَّيْرَفِيِّ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَوْمٌ يَزْعُمُونَ أَنِّي إِمَامُهُمْ وَ اللَّهِ مَا أَنَا لَهُمْ بِإِمَامٍ لَعَنَهُمُ اللَّهُ كُلَّمَا سَتَرْتُ سِتْراً هَتَكُوهُ أَقُولُ كَذَا وَ كَذَا فَيَقُولُونَ إِنَّمَا يَعْنِي كَذَا وَ كَذَا إِنَّمَا أَنَا إِمَامُ مَنْ أَطَاعَنِي.
الغیبۃِ نعمانی: ابن مسکان کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: ایک گروہ مجھے اپنا امام سمجھتا ہے؛ اللہ کی قسم، میں اُن کا پیشوا نہیں۔ اللہ اُن پر لعنت کرے کہ جس چیز پر میں پردہ ڈالتا ہوں، وہ اُس کا پردہ چاک کر دیتے ہیں (اُسے ظاہر کر دیتے ہیں)۔ میں یوں یوں کہتا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ ضرور اُن کی مراد فلاں اور فلاں تھی۔ میں صرف اُس کا امام ہوں جو میری فرمانبرداری کرے۔
«77»- نی، الغيبة للنعماني بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ سِرٌّ أَسَرَّهُ اللَّهُ إِلَى جَبْرَئِيلَ وَ أَسَرَّهُ جَبْرَئِيلُ إِلَى مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله وَ أَسَرَّهُ مُحَمَّدٌ صلى اللّٰه عليه و آله إِلَى عَلِيٍّ عليه السلام وَ أَسَرَّهُ عَلِيٌّ عليه السلام إِلَى مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ وَ أَنْتُمْ تَتَكَلَّمُونَ بِهِ فِي الطُّرُقِ.
الغیبۃِ نعمانی: ابوبصیر سے نقل ہے کہ اُنہوں نے کہا: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: ایک راز جو اللہ نے پوشیدہ طور پر جبرئیل سے کہا، اور جبرئیل نے بھی پوشیدہ طور پر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اور محمد نے پوشیدہ طور پر علی علیہ السلام سے، اور علی نے جسے اللہ نے چاہا، اور ہر ایک نے اُسی طرح دوسرے کے سپرد کیا؛ پھر تم ہر گلی کوچے میں اُس کا ذکر کرتے ہو۔
«78»- نی، الغيبة للنعماني مُحَمَّدُ بْنُ هَمَّامٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ الْمَدَائِنِيِّ عَنْ إِدْرِيسَ بْنِ زِيَادٍ الْكُوفِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا بَعْضُ شُيُوخِنَا قَالَ قَالَ: أَخَذْتُ بِيَدِكَ كَمَا أَخَذَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِي وَ قَالَ لِي يَا مُفَضَّلُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَيْسَ بِالْقَوْلِ فَقَطْ لَا وَ اللَّهِ حَتَّى تَصُونَهُ كَمَا صَانَهُ اللَّهُ وَ تُشَرِّفَهُ كَمَا شَرَّفَهُ اللَّهُ وَ تُؤَدِّیَ حَقَّهُ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ.
الغیبۃِ نعمانی: ادریس بن زیاد کوفی کہتے ہیں: ہمارے بعض اساتذہ نے روایت کی اور کہا: میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا، جس طرح امام صادق علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے مفضل! یہ امر (ولایت) محض گفتار نہیں ـ نہیں، اللہ کی قسم ـ بلکہ اُسے اُس طرح محفوظ رکھو جس طرح اللہ نے اُسے محفوظ رکھا، اور اُسے اُسی طرح شریف رکھو جس طرح اللہ نے اُسے شریف رکھا، اور اُس کا حق اُسی طرح ادا کرو جس طرح اللہ نے اُس کا حق ادا کیا۔
«79»- نی، الغيبة للنعماني بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنْ حَفْصٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ لِي يَا حَفْصُ حَدَّثْتُ الْمُعَلَّى بِأَشْيَاءَ فَأَذَاعَهَا فَابْتُلِىَ بِالْحَدِيدِ إِنِّي قُلْتُ لَهُ إِنَّ لَنَا حَدِيثاً مَنْ حَفِظَهُ عَلَيْنَا حَفِظَهُ اللَّهُ وَ حَفِظَ عَلَيْهِ دِينَهُ وَ دُنْيَاهُ وَ مَنْ أَذَاعَهُ سَلَبَهُ اللَّهُ دِينَهُ وَ دُنْيَاهُ يَا مُعَلَّى إِنَّهُ مَنْ كَتَمَ الصَّعْبَ مِنْ حَدِيثِنَا جَعَلَهُ اللَّهُ نُوراً بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَ رَزَقَهُ الْعِزَّ فِي النَّاسِ وَ مَنْ أَذَاعَ الصَّغِيرَ مِنْ حَدِيثِنَا لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعَضَّهُ السِّلَاحُ أَوْ يَمُوتَ مُتَحَيِّراً ١.
الغیبۃِ نعمانی: حفص بن نسیب کہتے ہیں: اُن دنوں میں جب معلّیٰ بن خنیس (امام صادق علیہ السلام کے کارندے) قتل کیے جا چکے تھے، میں آپ کی خدمت میں گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اے حفص! میں نے معلّیٰ سے کچھ باتیں کہی تھیں، اُس نے اُنہیں پھیلا دیا اور خود کو تلوار کے حوالے کر دیا۔ میں نے اُس سے کہا تھا: ہمارے پاس ایک بات ہے؛ جو اُسے محفوظ رکھے (اُس کے کہنے سے باز رہے) اللہ بھی اُسے محفوظ رکھتا ہے اور اُس کے دین و دنیا کو نقصان سے بچاتا ہے؛ اور جو اُسے [ہماری مرضی کے] خلاف پھیلائے، اللہ بھی اُس سے اُس کا دین اور دنیا چھین لیتا ہے۔ اے معلّیٰ! جو ہماری کوئی ایسی حدیث پوشیدہ رکھے جس کا سمجھنا دشوار اور عام لوگوں پر اُس کا یقین کرنا سخت ہے، اللہ اُسے اُس کی آنکھوں کے سامنے نور بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اُسے عزت عطا کرتا ہے؛ اور جو اُس حدیث کو پھیلائے، اُسے موت نہیں آتی یہاں تک کہ ہتھیار اُسے پا لے (ہتھیار سے قتل ہو) یا سرگردانی اور آوارگی کے ساتھ دنیا سے جائے۔
«80»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنِّي أَقْعُدُ فِي الْمَسْجِدِ فَيَجِی ءُ النَّاسُ فَيَسْأَلُونِّي فَإِنْ لَمْ أُجِبْهُمْ لَمْ يَقْبَلُوا مِنِّي وَ أَكْرَهُ أَنْ أُجِيبَهُمْ بِقَوْلِكُمْ وَ مَا جَاءَ عَنْكُمْ فَقَالَ لِيَ انْظُرْ مَا عَلِمْتَ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ بِذَلِكَ.
رجال الکشی: ابان بن تغلب کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں مسجد میں بیٹھتا ہوں اور لوگ آ کر مجھ سے سوال کرتے ہیں؛ اگر میں اُن کا جواب نہ دوں تو وہ مجھ سے قبول نہیں کرتے، اور مجھے پسند نہیں کہ آپ کے اقوال اور آپ سے منقول احادیث سے جواب دوں۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اُن کے اپنے اقوال میں سے جو تم جانتے ہو، وہ اُن سے کہو۔
«81»- أَقُولُ رَوَى الطَّبْرِسِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي مَجْمَعِ الْبَيَانِ عَنِ الثَّعْلَبِيِّ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الزُّهْرِيَّ بَعْدَ أَنْ تَرَكَ الْحَدِيثَ وَ أَلْفَيْتُهُ٢عَلَی بَابِهِ فَقُلْتُ
مؤلف: طبرسی نے «مجمع البیان» میں ثعلبی سے، اُس کی سند سے حسن بن عمارہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: میں زہری کے پاس آیا ـ اُس کے بعد کہ اُنہوں نے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا تھا ـ اور اُنہیں اُن کے گھر کے دروازے پر ملا، تو میں نے کہا: