Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 8

قَبْرِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُ رَبِّي وَ مُحَمَّدٌ نَبِيِّي وَ عَلِیٌّ وَلِيِّي وَ الْكَعْبَةُ قِبْلَتِي وَ الْقُرْآنُ بَهْجَتِي وَ عُدَّتِي وَ الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَانِي فَيَقُولُ اللَّهُ أَدْلَيْتَ بِالْحُجَّةِ فَوَجَبَتْ لَكَ أَعَالِي دَرَجَاتِ الْجَنَّةِ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَتَحَوَّلُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ أَنْزَهَ رِيَاضِ الْجَنَّةِ.

اللہ میرا پروردگار ہے، اور محمد اُس کے نبی ہیں، اور علی بن ابی طالب نبی کے جانشین ہیں، اور کعبہ میرا قبلہ ہے، اور قرآن میری سعادت و خوشبختی کا سبب ہے، اور اہلِ ایمان میرے بھائی ہیں۔ تب اللہ کی جانب سے خطاب آتا ہے: تُو نے حق ظاہر کیا اور اپنا صحیح عقیدہ بیان کیا، پس میں نے جنت کے بلند مقام و منازل تیرے لیے واجب کر دیے۔ اُس وقت اُس کی قبر جنت کے خوش منظر باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہے۔

إيضاح: الإفحام الإسكات في الخصومة و الإدلاء الإرسال و البهجة بالفتح الحسن و السرور.

«اِفحام» جھگڑے اور مخاصمت میں خاموش کر دینا ہے۔ «اِدلاء» بمعنی بھیجنا، اور «البَہجۃ» بمعنی نیکی و خوشی ہے۔

«15»- م، تفسير الإمام عليه السلام ج، الإحتجاج بِالْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ عليها السلام وَ قَدِ اخْتَصَمَ إِلَيْهَا امْرَأَتَانِ فَتَنَازَعَتَا فِي شَيْ ءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ إِحْدَاهُمَا مُعَانِدَةٌ وَ الْأُخْرَى مُؤْمِنَةٌ فَفَتَحَتْ عَلَى الْمُؤْمِنَةِ حُجَّتَهَا فَاسْتَظْهَرَتْ عَلَى الْمُعَانِدَةِ فَفَرِحَتْ فَرَحاً شَدِيداً فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عليها السلام إِنَّ فَرَحَ الْمَلَائِكَةِ بِاسْتِظْهَارِكِ عَلَيْهَا أَشَدُّ مِنْ فَرَحِكِ وَ إِنَّ حُزْنَ الشَّيْطَانِ وَ مَرَدَتِهِ بِحُزْنِهَا أَشَدُّ مِنْ حُزْنِهَا وَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِمَلَائِكَتِهِ أَوْجِبُوا لِفَاطِمَةَ بِمَا فَتَحَتْ عَلَى هَذِهِ الْمِسْكِينَةِ الْأَسِيرَةِ مِنَ الْجِنَانِ أَلْفَ أَلْفِ ضِعْفٍ مِمَّا كُنْتُ أَعْدَدْتُ لَهَا وَ اجْعَلُوا هَذِهِ سُنَّةً فِي كُلِّ مَنْ يَفْتَحُ عَلَى أَسِيرٍ مِسْكِينٍ فَيَغْلِبُ مُعَانِداً مِثْلَ أَلْفِ أَلْفِ مَا كَانَ مُعَدّاً لَهُ مِنَ الْجِنَانِ.

تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام اور الاحتجاج: امام عسکری علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک دن دو عورتیں جو دین کے ایک مسئلے میں اختلاف رکھتی تھیں، حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی اپنی رائے پیش کی۔ تب آپ علیہا السلام نے اُس کے عقیدے کے مطابق جس کا اعتقاد صحیح اور دعویٰ درست تھا، اپنی دلیل و برہان قائم کی؛ اور مؤمنہ عورت کی خوشی و مسرت دیکھ کر اُس سے فرمایا: حق کے ظہور و غلبے پر فرشتوں کی خوشی تمہاری خوشی سے کہیں زیادہ تھی، اور شیطان اور اُس کے ساتھیوں کا غم و اندوہ اُس عورت کے غم سے زیادہ تھا جو اپنے باطل عقیدے میں مغلوب ہوئی۔ اور پروردگار فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اِس عمل کے سبب فاطمہ کے لیے اُس سے ہزار ہزار گنا تیار کریں جو پہلے مہیا کیا گیا تھا۔ اور یہ ہمیشہ کا قانون ہے ہر اُس شخص کے لیے جو میرے بندے کی کسی ہٹ دھرم دشمن پر کامیابی و غلبے کا سامان فراہم کرے۔

«16»- م، تفسير الإمام عليه السلام ج، الإحتجاج بِالْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام وَ قَدْ حَمَلَ إِلَيْهِ رَجُلٌ هَدِيَّةً فَقَالَ لَهُ أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ بَدَلَهَا عِشْرِينَ ضِعْفاً عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ أَوْ أَفْتَحَ لَكَ بَاباً مِنَ الْعِلْمِ تَقْهَرُ فُلَانَ النَّاصِبِيِّ فِي قَرْيَتِكَ تُنْقِذُ بِهِ ضُعَفَاءَ أَهْلِ قَرْيَتِكَ إِنْ أَحْسَنْتَ الِاخْتِيَارَ جَمَعْتُ لَكَ الْأَمْرَيْنِ وَ إِنْ أَسَأْتَ الِاخْتِيَارَ خَيَّرْتُكَ لِتَأْخُذَ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَقَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ فَثَوَابِي فِي قَهْرِي ذَلِكَ النَّاصِبَ وَ اسْتِنْقَاذِي لِأُولَئِكَ الضُّعَفَاءِ مِنْ يَدِهِ قَدْرُهُ عِشْرُونَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ بَلْ أَكْثَرُ مِنَ الدُّنْيَا عِشْرِينَ أَلْفَ أَلْفِ مَرَّةٍ فَقَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ فَكَيْفَ أَخْتَارُ الْأَدْوَنَ بَلْ أَخْتَارُ الْأَفْضَلَ الْكَلِمَةَ الَّتِي أَقْهَرُ بِهَا عَدُوَّ اللَّهِ وَ أَذُودُهُ ١ عَنْ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عليهما السلام قَدْ أَحْسَنْتَ الِاخْتِيَارَ وَ عَلَّمَهُ الْكَلِمَةَ وَ أَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَذَهَبَ فَأَفْحَمَ الرَّجُلَ فَاتَّصَلَ خَبَرُهُ بِهِ فَقَالَ لَهُ إِذْ حَضَرَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا رَبِحَ أَحَدٌ مِثْلَ رِبْحِكَ وَ لَا اكْتَسَبَ أَحَدٌ مِنَ الْأَوِدَّاءِ مَا اكْتَسَبْتَ

تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام اور الاحتجاج: امام عسکری علیہ السلام سے نقل ہے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اُس شخص سے فرمایا جو آپ کے لیے ہدیہ لایا تھا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں اِس کے بدلے تمہیں اِس کا بیس گنا دوں، یا تمہیں کچھ ایسی باتیں سکھاؤں جن سے تم فلاں ناصبی پر غالب آ سکو اور گمراہ و سادہ لوح لوگوں کے ایک گروہ کو اُس کے بُرے پروپیگنڈے سے بچا سکو؟ اور اگر تم اچھا انتخاب کرو اور بہتر کو چنو تو میں تمہارے لیے دونوں جمع کر دوں گا؛ اور اگر بہتر کی تشخیص میں خطا کرو تو بہرحال دونوں میں سے ایک کے انتخاب میں مختار رہو گے۔ اُس شخص نے کہا: کیا دشمنِ حق پر غلبہ پانے اور لوگوں کو اُس کے پروپیگنڈے اور باتوں کے شر سے بچانے کا میرا اجر بیس ہزار درہم کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اُس عمل کی قیمت پوری دنیا کی قیمت سے ہزار ہزار گنا ہے۔ اُس نے کہا: پھر میں کمتر اور پست چیز کو کیوں چنوں؟ بلکہ میں دوسری کو منتخب کرتا ہوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو اختیار تمہیں دیا گیا تھا، اُس میں تم نے بہترین کو چنا۔ پس آپ نے اُسے وہ باتیں سکھائیں اور بیس ہزار درہم بھی عطا فرمائے۔ چنانچہ وہ شخص اپنے شہر لوٹ کر اُس ناصبی سے مباحثہ و جدال کرنے لگا اور اُسے خاموش و مجاب کر دیا۔ اِس کامیابی کی خبر امام علیہ السلام تک پہنچی اور اگلی ملاقات میں آپ نے اُس سے فرمایا: کسی نے عمل اور کمائی میں وہ نفع نہیں پایا جو تم نے پایا

(١)1- أي ادفعه و اطرده.یعنی اُسے دُور کرو اور بھگا دو۔