Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 7

وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَاجُ بَهَاءٍ قَدِ انْبَثَّتْ ١ تِلْكَ الْأَنْوَارُ فِي عَرَصَاتِ الْقِيَامَةِ وَ دَوْرُهَا مَسِيرَةُ ثَلَاثِمِائَةِ أَلْفِ سَنَةٍ فَشُعَاعُ تِيجَانِهِمْ يَنْبَثُّ فِيهَا كُلِّهَا فَلَا يَبْقَى هُنَاكَ يَتِيمٌ قَدْ كَفَلُوهُ وَ مِنْ ظُلْمَةِ الْجَهْلِ أَنْقَذُوهُ وَ مِنْ حَيْرَةِ التِّيهِ أَخْرَجُوهُ إِلَّا تَعَلَّقَ بِشُعْبَةٍ مِنْ أَنْوَارِهِمْ فَرَفَعَتْهُمْ إِلَى الْعُلُوِّ حَتَّى يُحَاذِي بِهِمْ فَوْقَ الْجِنَانِ ثُمَّ يُنْزِلُهُمْ عَلَى مَنَازِلِهِمْ الْمُعَدَّةِ فِي جِوَارِ أُسْتَادِيهِمْ وَ مُعَلِّمِيهِمْ وَ بِحَضْرَةِ أَئِمَّتِهِمُ الَّذِينَ كَانُوا يَدْعُونَ إِلَيْهِمْ وَ لَا يَبْقَى نَاصِبٌ مِنَ النَّوَاصِبِ يُصِيبُهُ مِنْ شُعَاعِ تِلْكَ التِّيجَانِ إِلَّا عَمِيَتْ عَيْنُهُ وَ صَمَّتْ أُذُنُهُ وَ أَخْرَسَ لِسَانُهُ وَ تَحَوَّلَ عَلَيْهِ ٢ أَشَدَّ مِنْ لَهَبِ النِّيرَانِ فَيَتَحَمَّلُهُمْ حَتَّى يَدْفَعَهُمْ إِلَى الزَّبَانِيَةِ ٣ فَتَدْعُوهُمْ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيمِ.

ایک خوبصورت تاج ہو گا، اور یہ انوار قیامت کے تمام میدانوں میں تین لاکھ سال کی مسافت تک پھیل جائیں گے، اور اُن تاجوں کی کرنیں پورے میدان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ وہاں کوئی یتیم ایسا نہ بچے گا جس کی اُنہوں نے کفالت کی، جسے جہل کی تاریکی سے نجات دی اور گمراہی کی حیرت سے نکالا، مگر یہ کہ وہ اُن انوار کی ایک کرن سے جُڑ جائے گا اور اُسے تھام کر بلند ہو گا یہاں تک کہ جنت کے سامنے پہنچ جائے گا۔ تب اُن میں سے ہر ایک کو پہلے سے مقرر منزلوں میں اُس کے اساتذہ و معلمین کے پہلو میں اُتارا جائے گا، اور اُن اماموں کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا جن کی طرف وہ بلاتے تھے۔ اور اِن تاجوں کے نور کی کرنیں دشمنانِ اہلِ بیت کو اندھا، بہرا اور گونگا کر کے آگ کی طرف ہانک دیں گی۔

وَ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ الْعَسْكَرِيُّ عليه السلام إِنَّ مِنْ مُحِبِّي مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله مَسَاكِينَ مُوَاسَاتُهُمْ أَفْضَلُ مِنْ مساواة [مُوَاسَاةِ] مَسَاكِينِ الْفُقَرَاءِ وَ هُمُ الَّذِينَ سَكَنَتْ جَوَارِحُهُمْ وَ ضَعُفَتْ قُوَاهُمْ عَنْ مُقَابَلَةِ أَعْدَاءِ اللَّهِ الَّذِينَ يُعَيِّرُونَهُمْ بِدِينِهِمْ وَ يُسَفِّهُونَ أَحْلَامَهُمْ أَلَا فَمَنْ قَوَّاهُمْ بِفِقْهِهِ وَ عِلْمِهِ حَتَّى أَزَالَ مَسْكَنَتَهُمْ ثُمَّ سَلَّطَهُمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ الظَّاهِرِينَ النَّوَاصِبِ وَ عَلَی الْأَعْدَاءِ الْبَاطِنِينَ إِبْلِيسَ وَ مَرَدَتِهِ حَتَّى يَهْزِمُوهُمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ وَ يَذُودُوهُمْ عَنْ أَوْلِيَاءِ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله حَوَّلَ اللَّهُ تَعَالَى تِلْكَ الْمَسْكَنَةَ إِلَى شَيَاطِينِهِمْ فَأَعْجَزَهُمْ عَنْ إِضْلَالِهِمْ قَضَى اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ قَضَاءَ حَقٍّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله.

امام عسکری علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: محمد اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے محبوں میں ایک گروہ [علمی اعتبار سے] مسکین و فقیر ہے — وہی جو ہمارے دشمنوں کے سامنے ناتواں ہیں اور مخالفین کے اعتراض، ملامت اور طعن کا نشانہ بنتے ہیں۔ پس اِن فقراء کی مدد و اعانت عام بے مال و دولت فقیروں کی مدد سے افضل اور برتر ہے۔ اور جو اِس جماعت کی دستگیری کرے، علم و برہان کے ہتھیار سے دشمن کے مقابل اُنہیں طاقت دے، اُن کا فقر و عجز دُور کرے اور اُنہیں دشمن پر غالب کرے، اللہ تعالیٰ بھی اُنہیں دشمنوں — شیاطینِ انس و جن — کے مقابلے میں ہمیشہ کامیاب رکھے گا، اور اُن کے مخالفین پر عجز و ناتوانی مسلّط کر دے گا۔

بيان: التيه بالكسر الضلال و التحول التنقل و ضمن معنى التسلط أي انتقل إليه متسلطا عليه أو معنى الاقتدار فيحملهم أي ذلك الشعاع أو شعبته فتدعوهم أي الزبانية أو الشعاع إلى سواء الجحيم أي وسطه و يسفهون أحلامهم أي ينسبون عقولهم إلى السفه قوله عليه السلام إلى شياطينهم أي شياطين هؤلاء العلماء الهادين.

«التِّیہ» بمعنی گمراہی و ضلالت؛ «التحوّل» ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، اور اِس میں تسلّط کا مفہوم بھی شامل ہے — یعنی یہ شعاع تمام اطراف تک پہنچتی ہے اور اُن پر مسلّط ہے؛ یا یہ انتقال اقتدار کا مفہوم رکھتا ہے۔ «فیحملہم» یعنی یہ شعاع یا اِس کا کوئی حصہ نواصب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور زبانیہ یا شعاع اُنہیں جہنم کی آگ کے وسط کی طرف بلاتے ہیں۔ «یسفّہون احلامہم» یعنی اُن کی عقلوں کو سفاہت و بے خردی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ «الی شیاطینہم» یعنی اِن ہدایت گر علماء کے شیاطین۔

«14»- م، تفسير الإمام عليه السلام ج، الإحتجاج بِالْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام مَنْ قَوَّى مِسْكِيناً فِي دِينِهِ ضَعِيفاً فِي مَعْرِفَتِهِ عَلَى نَاصِبٍ مُخَالِفٍ فَأَفْحَمَهُ لَقَّنَهُ اللَّهُ ٤ يَوْمَ يُدْلَى فِي

تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام اور الاحتجاج: امام عسکری علیہ السلام سے نقل ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص علم و معرفت سے عاجز کسی بندے کو تقویت دے، دشمن کے مقابل اُسے لیس کرے اور غالب بنائے، اللہ بھی قبر میں بازپرس کے وقت اُسے یہ کلمات تلقین فرمائے گا:

(١)1- أي انتشرت.یعنی وہ پھیل گیا۔
(٢)2- و في نسخة: و تحول إليه.اور ایک نسخے میں: «و تحوّل إلیہ»۔
(٣)3- الزبانية عند العرب الشرط، و سموا بها بعض الملائكة لدفعهم أهل النار إليها.«زبانیہ» عرب کے نزدیک شرطہ (پہرہ دار) کو کہتے ہیں، اور بعض فرشتوں کو اِسی لیے اِس نام سے موسوم کیا گیا کہ وہ اہلِ آتش کو اُس کی طرف ہانکتے ہیں۔
(٤)4- أي فهمه إيّاه مشافهة.یعنی اُس نے وہ بات اُسے رو در رو سمجھائی۔