الجمع راجع إلى العامة أو كلام المؤلف أو الرواة فيحتمل إرجاعه إلى أهل البيت عليهم السلام أيضا.
اہلِ سنت کی طرف راجع ہے، یا مؤلف یا راوی کا کلام ہے، اور احتمال ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کی طرف بھی لوٹے۔
«59»- كِتَابُ النَّوَادِرِ، لِعَلِيِّ بْنِ أَسْبَاطٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام حَمِّلْنِي حَمْلَ الْبَاذِلِ قَالَ فَقَالَ لِي إِذًا تَنْفَسِخَ.
کتاب النوادر: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: علم کا بھاری بوجھ ہمارے کندھوں پر ہے۔ اور آپ نے مجھ سے فرمایا: کاش تم میں طاقت ہوتی!
بيان: حمل الباذل أي حملا ثقيلا من العلم إذا تنفسخ أي لا تطيق حمله و تهلك.
یعنی تم میں بھاری بوجھ کی طاقت نہیں اور تم ہلاک ہو جاؤ گے۔
«60»- نی، الغيبة للنعماني ابْنُ عُقْدَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ عُبَيْسِ بْنِ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ جَبَلَةَ عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ ١ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَ تُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَ أَمْسِكُوا عَمَّا يُنْكِرُونَ.
الغیبۃِ نعمانی: ابوالطفیل کہتے ہیں: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اُس کے رسول کا انکار کیا جائے؟ لوگوں سے ہماری باتوں میں سے وہی کہو جنہیں وہ پہچانتے ہیں، اور جن پر وہ یقین نہیں رکھتے اُن کے نقل کرنے سے باز رہو۔
«61»- نی، الغيبة للنعماني الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ خَلَفٍ الْبَزَّازِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَقُولُ لَا تُحَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا لَا يَعْرِفُونَ أَ تُحِبُّونَ أَنْ يُكَذَّبَ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ.
الغیبۃِ نعمانی: انس بن مالک کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا، فرما رہے تھے: لوگوں سے اُس چیز کے بارے میں حدیث نہ کہو جس سے وہ آشنا نہیں؛ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اُس کے رسول کو جھٹلایا جائے؟
«62»- نی، الغيبة للنعماني ابْنُ عُقْدَةَ عَنِ ابْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عليهما السلام يَا عَبْدَ الْأَعْلَى إِنَّ احْتِمَالَ أَمْرِنَا لَيْسَ مَعْرِفَتَهُ وَ قَبُولَهُ إِنَّ احْتِمَالَ أَمْرِنَا هُوَ صَوْنُهُ وَ سترته [سَتْرُهُ عَمَّنْ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ فَأَقْرِئْهُمُ السَّلَامَ وَ رَحْمَةَ اللَّهِ يَعْنِی الشِّيعَةَ وَ قُلْ قَالَ لَكُمْ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً اسْتَجَرَّ مَوَدَّةَ النَّاسِ إِلَى نَفْسِهِ وَ إِلَيْنَا بِأَنْ يُظْهِرَ لَهُمْ مَا يَعْرِفُونَ وَ يَكُفَّ عَنْهُمْ مَا يُنْكِرُونَ ٢.
الغیبۃِ نعمانی: عبدالاعلیٰ بن اعین کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالاعلیٰ! ہماری ولایت کو اٹھانا اور اُس پر ثابت قدم رہنا محض اُس کا جان لینا اور قبول کر لینا نہیں؛ بلکہ اُس کا اٹھانا یہ ہے کہ اُسے اُس سے محفوظ اور پوشیدہ رکھو جو اُس سے بیگانہ ہے۔ پس ہمارا سلام اور اللہ کی رحمت اُن (شیعوں) تک پہنچاؤ اور کہو: آپ نے تم سے فرمایا ہے: اللہ اُس شخص پر رحم کرے جو لوگوں کی محبت اپنی طرف اور ہماری طرف کھینچے، اُس بات کے بیان سے جسے لوگ پہچانتے ہیں اور اُس کے اظہار سے باز رہ کر جس پر وہ یقین نہیں رکھتے۔
«63»- نی، الغيبة للنعماني ابْنُ عُقْدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليهما السلام أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ هَذَا الْأَمْرُ مَعْرِفَتَهُ وَ وَلَايَتَهُ فَقَطْ حَتَّى تَسْتُرَهُ عَمَّنْ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ وَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَا قُلْنَا وَ تَصْمُتُوا عَمَّا صَمَتْنَا فَإِنَّكُمْ إِذًا قُلْتُمْ مَا نَقُولُ وَ سَلَّمْتُمْ لَنَا فِيمَا سَكَتْنَا عَنْهُ
الغیبۃِ نعمانی: عبدالاعلیٰ بن اعین نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہماری ولایت محض اُس کے پہچاننے اور دوست رکھنے سے نہیں ہوتی، مگر جب تم اُسے اُس سے پوشیدہ رکھو جو اُس سے بیگانہ ہے؛ اور تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو ہم نے کہا وہ کہو اور جس پر ہم خاموش رہے اُس پر تم بھی لب بند رکھو۔ پس اگر تم صرف وہی کہو جو ہم نے کہا اور جس پر ہم خاموش رہے اُس میں تسلیم رہو،