Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 72

يَوْماً وَ هُوَ كَئِيبٌ حَزِينٌ فَقُلْتُ لَهُ مَا لَكَ يَا مُعَلَّى كَأَنَّكَ ذَكَرْتَ أَهْلَكَ وَ مَالَكَ وَ وَلَدَكَ وَ عِيَالَكَ قَالَ أَجَلْ قُلْتُ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنِّي فَمَسَحْتُ وَجْهَهُ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَاكَ قَالَ أَرَانِي فِي بَيْتِي هَذِهِ زَوْجَتِي وَ هَذَا وَلَدِي فَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَمَلَّأَ مِنْهُمْ وَ اسْتَتَرْتُ مِنْهُمْ حَتَّى نَالَ مِنْهَا مَا يَنَالُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنِّي فَمَسَحْتُ وَجْهَهُ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَاكَ فَقَالَ أَرَانِي مَعَكَ فِي الْمَدِينَةِ هَذَا بَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا مُعَلَّى إِنَّ لَنَا حَدِيثاً مَنْ حَفِظَ عَلَيْنَا حَفِظَ اللَّهُ عَلَيْهِ دِينَهُ وَ دُنْيَاهُ يَا مُعَلَّى لَا تَكُونُوا أَسْرَى فِي أَيْدِي النَّاسِ بِحَدِيثِنَا إِنْ شَاءُوا مَنُّوا عَلَيْكُمْ وَ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوكُمْ يَا مُعَلَّى إِنَّهُ مَنْ كَتَمَ الصَّعْبَ مِنْ حَدِيثِنَا جَعَلَهُ اللَّهُ نُوراً بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْعِزَّةَ فِي النَّاسِ وَ مَنْ أَذَاعَ الصَّعْبَ مِنْ حَدِيثِنَا لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعَضَّهُ السِّلَاحُ أَوْ يَمُوتَ كَبْلًا ١ يَا مُعَلَّى بْنَ خُنَيْسٍ وَ أَنْتَ مَقْتُولٌ فَاسْتَعِدَّ.

اِس حال میں کہ وہ غمگین اور اندوہناک تھے۔ میں نے اُن سے کہا: اے معلّیٰ! تمہیں کیا پریشانی ہے؟ گویا تمہیں اپنے اہل و عیال اور اولاد یاد آ گئے ہیں؟ کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: میرے قریب آؤ۔ پس وہ میرے پاس آئے، میں نے اُن کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اُن سے کہا: اب تم کہاں ہو؟ کہا: میں اپنے گھر میں ہوں، اور یہ میری بیوی اور یہ میرا بچہ ہے۔ پس میں نے اُنہیں اُن کے گھر میں تنہا چھوڑ دیا اور خود کو اُن کی نظروں سے چھپا لیا، یہاں تک کہ وہ کچھ دیر اپنی بیوی کے پاس رہے اور اُس کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے اُن سے کہا: میرے قریب آؤ، اور وہ آئے؛ میں نے اُن کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور کہا: کیا دیکھتے ہو؟ کہا: خود کو آپ کے ساتھ مدینے میں دیکھتا ہوں، یہ آپ کا گھر ہے۔ میں نے کہا: اے معلّیٰ! ہمارے پاس کچھ حدیثیں ہیں؛ جو اُنہیں ہمارے لیے محفوظ رکھے، اللہ اُس کا دین اور اُس کی دنیا محفوظ رکھے گا۔ اے معلّیٰ! ہماری حدیثوں کے سبب لوگوں کے ہاتھوں اسیر نہ بنو کہ اگر وہ چاہیں تو تمہیں امان دیں اور اگر چاہیں تو تمہیں قتل کریں۔ اے معلّیٰ! جو ہماری دشوار حدیثیں چھپائے، اللہ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور رکھے گا اور لوگوں میں اُسے عزت عطا کرے گا؛ اور جو ہماری حدیثوں کے دشوار امور فاش کرے، وہ نہیں مرے گا مگر ہتھیار سے، اور اُسے قتل کر دیا جائے گا یا بیڑیوں اور قید میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تم قتل کیے جاؤ گے، اے معلّیٰ بن خنیس! تیار رہو۔

كش، رجال الكشي إبراهيم بن محمد بن العباس عن أحمد بن إدريس عن الأشعري عن ابن أبي الخطاب مثله.

رجال الکشی: ابن ابی الخطاب نے اوپر والی حدیث کی مانند نقل کیا ہے۔

«35»- سن، المحاسن ابْنُ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُمْهُورٍ الْقُمِّيِّ رَفَعَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدْعَةُ فِي أُمَّتِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ.

المحاسن: محمد بن جمہور قمی نے مرفوع سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوں تو عالم کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کرے؛ اور اگر اُس نے اپنا علم ظاہر نہ کیا تو اُس پر اللہ کی لعنت ہو۔

غو، غوالي اللئالي مثله مرسلا.

عوالی اللئالی: مرسل سند کے ساتھ اوپر والی حدیث کی مانند نقل ہوا ہے۔

«36»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ عليه السلام إِنَّ الْعَالِمَ الْكَاتِمَ عِلْمَهُ يُبْعَثُ أَنْتَنَ أَهْلِ الْقِيَامَةِ رِيحاً تَلْعَنُهُ كُلُّ دَابَّةٍ حَتَّى دَوَابُّ الْأَرْضِ الصِّغَارُ.

المحاسن: امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: بے شک وہ عالم جو اپنا علم چھپاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے اہلِ قیامت میں سب سے بدبودار اٹھائے گا، اور ہر جاندار، یہاں تک کہ زمین کے کیڑے مکوڑے بھی، اُس پر لعنت کریں گے۔

«37»- م، تفسير الإمام عليه السلام قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ عليه السلام قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَقُولُ مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ حَيْثُ يَجِبُ إِظْهَارُهُ وَ تَزُولُ عَنْهُ التَّقِيَّةُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَماً بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ.

تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: امام حسن عسکری علیہ السلام نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے سنا، آپ ہمیشہ فرماتے تھے: جس سے علم کے بارے میں پوچھا جائے اور وہ اُسے ایسی جگہ چھپائے جہاں اُس کا ظاہر کرنا واجب ہو اور تقیہ درکار نہ ہو، وہ قیامت کے دن میدانِ محشر میں اِس حال میں آئے گا کہ اُس کے منہ پر آگ کی لگام بندھی ہو گی۔

وَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا كَتَمَ الْعَالِمُ الْعِلْمَ أَهْلَهُ وَ زَهَا ٢لْجَاهِلُ فِي تَعَلُّمِ مَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَ بَخِلَ الْغَنِيُّ بِمَعْرُوفِهِ وَ بَاعَ الْفَقِيرُ دِينَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ جَلَّ الْبَلَاءُ وَ عَظُمَ الْعِقَابُ.

اور امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جب عالم اہل سے علم چھپائے، جاہل اپنے ضروری مسائل میں کاہلی کرے، مالدار اپنے مال کے خرچ میں بخل کرے اور فقیر اپنا دین دوسروں کی دنیا کے بدلے بیچ دے، تو بڑی بلا اور عظیم عذاب آئے گا۔

(١)1- الكبل بفتح الكاف و كسر الباء و سكون الواو: القيد. الحبس.«کَبل» کاف کے فتحہ، باء کے کسرہ اور واو کے سکون کے ساتھ: بیڑی، قید۔
(٢)2- الزهو: الفخر.«زہو»: خود ستائی۔