«20»- كش، رجال الكشي جَبْرَئِيلُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبَلَةَ عَنْ ذَرِيحٍ ١الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَ مَا رَوَی فَلَمْ يُجِبْنِي وَ أَظُنُّهُ قَالَ سَأَلْتُهُ بِجَمْعٍ فَلَمْ يُجِبْنِي فَسَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ لِي يَا ذَرِيحُ دَعْ ذِكْرَ جَابِرٍ فَإِنَّ السَّفِلَةَ إِذَا سَمِعُوا بِأَحَادِيثِهِ شَنَّعُوا أَوْ قَالَ أَذَاعُوا ٢.
رجال الکشی: عبداللہ بن جبلہ نے روایت کی کہ ذریح محاربی نے کہا: میں نے امام صادق علیہ السلام سے جابر جعفی اور اُن کی روایتوں کے بارے میں پوچھا، تو امام نے جواب نہ دیا ـ اور میرا گمان ہے کہ اُنہوں نے کہا: میں نے ایک مجلس میں آپ سے جابر جعفی اور اُن کی احادیث کے بارے میں پوچھا، آپ نے جواب نہ دیا ـ۔ تیسری بار میں نے آپ سے پوچھا تو فرمایا: اے ذریح! جابر کے بارے میں گفتگو چھوڑ دو، کیونکہ نادان لوگوں نے جب اُن کی احادیث سنیں تو اُن پر طعن کیا ـ یا فرمایا: اُنہیں پھیلا دیا ـ۔
«21»- كش، رجال الكشي علي بن محمد عن محمد بن أحمد عن ابن يزيد عن عمرو بن عثمان عن أبي جميلة عن جابر قال رُوِّيتُ خَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مَا سَمِعَهُ أَحَدٌ مِنِّي.
رجال الکشی: ابوجمیلہ نے جابر سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: مجھ سے پچاس ہزار حدیثیں روایت کی گئی ہیں جو کسی نے مجھ سے نہیں سنیں۔
«22»- كش، رجال الكشي جَبْرَئِيلُ بْنُ أَحْمَدَ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام تِسْعِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ لَمْ أُحَدِّثْ بِهَا أَحَداً قَطُّ وَ لَا أُحَدِّثُ بِهَا أَحَداً أَبَداً قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّكَ قَدْ حَمَلْتَنِي وِقْراً عَظِيماً بِمَا حَدَّثْتَنِي بِهِ مِنْ سِرِّكُمُ الَّذِي لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَداً فَرُبَّمَا جَاشَ فِي صَدْرِي حَتَّى يَأْخُذَنِي مِنْهُ شِبْهُ الْجُنُونِ قَالَ يَا جَابِرُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاخْرُجْ إِلَى الْجِبَالِ ٣ فَاحْفِرْ حَفِيرَةً وَ دَلِّ رَأْسَكَ فِيهَا ثُمَّ قُلْ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ بِكَذَا وَ كَذَا.
رجال الکشی: ابوجمیلہ نے جابر جعفی سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: امام باقر علیہ السلام نے خود مجھے ایک ہزار حدیثیں بیان فرمائیں جو میں نے اب تک کسی سے بیان نہیں کیں اور نہ آئندہ کسی سے بیان کروں گا۔ جابر کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوں، آپ نے میرے کندھوں پر بھاری بوجھ رکھ دیا ہے کہ اپنے اسرار مجھے بیان فرمائے، اور میں نے اب تک اُنہیں کسی سے نقل نہیں کیا؛ کتنی بار میرا سینہ جوش مارتا ہے، یہاں تک کہ قریب ہے میں دیوانہ ہو جاؤں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے جابر! جب ایسا ہو تو پہاڑ کی طرف نکل جاؤ اور ایک گڑھا کھودو اور اپنا سر اُس میں ڈال کر کہو: محمد بن علی نے مجھ سے یوں یوں حدیث بیان کی۔
«23»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي الْمُفَضَّلِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحِ بْنِ فَيْضٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْحَسَنِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّا أُمِرْنَا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أَنْ نُكَلِّمَ النَّاسَ بِقَدْرِ عُقُولِهِمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله أَمَرَنِي رَبِّي بِمُدَارَاةِ النَّاسِ كَمَا أَمَرَنَا بِإِقَامَةِ الْفَرَائِضِ.
امالیِ شیخ طوسی: عبدالعظیم حسنی نے امام جواد سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے امیر المؤمنین علیہم السلام سے، اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہم گروہِ انبیاء کو حکم دیا گیا کہ لوگوں سے اُن کی عقلوں کے مطابق بات کریں۔ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے لوگوں کے ساتھ مدارا کا حکم دیا، جس طرح مجھے واجبات بجا لانے کا حکم دیا۔
«24»- يد، التوحيد ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الرِّضَا عليه السلام فَقَالَ لِي قُلْ لِلْعَبَّاسِيِّ يَكُفَّ عَنِ الْكَلَامِ فِي التَّوْحِيدِ وَ غَيْرِهِ وَ يُكَلِّمِ النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَ يَكُفَّ عَمَّا يُنْكِرُونَ وَ إِذَا سَأَلُوكَ عَنِ التَّوْحِيدِ فَقُلْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُولَدْ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ وَ إِذَا سَأَلُوكَ عَنِ الْكَيْفِيَّةِ فَقُلْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَيْسَ كَمِثْلِهِ
التوحید: محمد بن عبید کہتے ہیں: میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: عباسیوں سے کہو کہ توحید اور اِس کے سوا دیگر مسائل میں گفتگو سے باز رہیں، اور لوگوں سے اُن کی معرفت کے مطابق بات کریں اور اُس چیز سے رُکے رہیں جس کا وہ انکار کرتے ہیں۔ جب تم سے توحید کے بارے میں پوچھیں تو وہی کہو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُولَدْ وَ لَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ» {شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ کہہ دو: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ اُس کا کوئی ہمسر ہے۔} اور جب تم سے اللہ کی کیفیت کے بارے میں پوچھیں تو جواب میں وہی کہو جو اللہ نے فرمایا: «لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ»،