«9»- ل، الخصال ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قِوَامُ الدِّينِ بِأَرْبَعَةٍ بِعَالِمٍ نَاطِقٍ مُسْتَعْمِلٍ لَهُ وَ بِغَنِىٍّ لَا يَبْخَلُ بِفَضْلِهِ عَلَى أَهْلِ دِينِ اللَّهِ وَ بِفَقِيرٍ لَا يَبِيعُ آخِرَتَهُ بِدُنْيَاهُ وَ بِجَاهِلٍ لَا يَتَكَبَّرُ عَنْ طَلَبِ الْعِلْمِ فَإِذَا كَتَمَ الْعَالِمُ عِلْمَهُ وَ بَخِلَ الْغَنِيُّ بِمَالِهِ وَ بَاعَ الْفَقِيرُ آخِرَتَهُ بِدُنْيَاهُ وَ اسْتَكْبَرَ الْجَاهِلُ عَنْ طَلَبِ الْعِلْمِ رَجَعَتِ الدُّنْيَا إِلَى وَرَائِهَا الْقَهْقَرَى فَلَا تَغُرَّنَّكُمْ كَثْرَةُ الْمَسَاجِدِ وَ أَجْسَادُ قَوْمٍ مُخْتَلِفَةٍ قِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ الْعَيْشُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَقَالَ خَالِطُوهُمْ بِالْبَرَّانِيَّةِ يَعْنِي فِي الظَّاهِرِ وَ خَالِفُوهُمْ فِي الْبَاطِنِ لِلْمَرْءِ مَا اكْتَسَبَ وَ هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَ انْتَظِرُوا مَعَ ذَلِكَ الْفَرَجَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.
الخصال: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: دین چار پر قائم ہے: وہ سخنور عالم جو اپنے علم پر عمل کرے؛ وہ توانگر جو اپنا فاضل مال اہلِ دین سے نہ روکے؛ وہ فقیہ جو اپنی آخرت دنیا کے بدلے نہ بیچے؛ اور وہ نادان جو تحصیلِ علم سے تکبر نہ کرے۔ جب عالم اپنا علم چھپائے، توانگر بخل کرے، فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ دے اور نادان طلبِ علم سے تکبر کرے، تو دنیا اُلٹی چلنے لگتی ہے۔ اُس وقت مسجدوں کی کثرت اور اُن میں آنے جانے والوں کی تعداد تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ عرض کیا گیا: اے امیر المؤمنین! اُس زمانے میں زندگی کیسی ہو گی؟ فرمایا: ظاہر میں اُن کے ساتھ میل جول رکھو اور باطن میں اُن سے اختلاف۔ ہر انسان کے لیے وہی ہے جو وہ کماتا ہے، اور وہ اُسی کے ساتھ ہے جسے دوست رکھتا ہے؛ اور اُس زمانے میں اللہ کی طرف سے کشائش کے منتظر رہو۔
«10»- ل، الخصال ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ الْعُبَيْدِيِّ عَنِ الدِّهْقَانِ عَنْ دُرُسْتَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَرْبَعَةٌ يَذْهَبْنَ ضَيَاعاً مَوَدَّةٌ تَمْنَحُهَا مَنْ لَا وَفَاءَ لَهُ وَ مَعْرُوفٌ عِنْدَ مَنْ لَا يَشْكُرُ لَهُ وَ عِلْمٌ عِنْدَ مَنْ لَا اسْتِمَاعَ لَهُ وَ سِرٌّ تُودِعُهُ عِنْدَ مَنْ لَا حَصَافَةَ لَهُ.
الخصال: امامِ ششم علیہ السلام نے فرمایا: چار چیزیں رائیگاں جاتی ہیں: بے وفاؤں سے دوستی؛ اُس پر احسان جو شکر نہ کرے؛ اُسے تعلیم دینا جس کے پاس سننے والا کان نہیں؛ اور وہ راز جو ایسے شخص کے سپرد کیا جائے جو راز دار نہیں۔
بيان: قال الفيروزآبادي حصف ككرم استحكم عقله فهو حصيف و أحصف الأمر أحكمه و في بعض النسخ من لا حفاظ له.
فیروزآبادی کہتے ہیں: «حَصُفَ» وزنِ «کَرُمَ» پر، یعنی اُس کی عقل مضبوط اور پختہ ہوئی، اور اِس کا اسمِ فاعل «حصیف» ہے۔ «أحصف الأمر» یعنی اُس نے کام مضبوط کیا۔ اور بعض نسخوں میں «من لا حفاظ لہ» ہے۔
«11»- نَوَادِرُ الرَّاوَنْدِيِّ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ نَكَثَ بَيْعَةً أَوْ رَفَعَ لِوَاءَ ضَلَالَةٍ أَوْ كَتَمَ عِلْماً أَوِ اعْتَقَلَ ١مَالًا ظُلْماً أَوْ أَعَانَ ظَالِماً عَلَى ظُلْمِهِ وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْإِسْلَامِ.
نوادرِ راوندی: امام کاظم علیہ السلام نے اپنے آباء سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو کوئی بیعت توڑے، یا گمراہی کا جھنڈا بلند کرے، یا علم چھپائے، یا کسی کا مال ظالمانہ روک رکھے، یا ظالم کی اُس کے ظلم میں مدد کرے جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے — تو وہ یقیناً اسلام سے نکل گیا۔
«12»- كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِّ، قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مَنْ كَتَمَ عِلْماً فَكَأَنَّهُ جَاهِلٌ.
کنز الکراجکی: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: جو کوئی علم کو وہاں چھپائے جہاں اُس کا بیان سزاوار ہے، وہ اُس کی مانند ہے جو جاہل و نادان ہے۔
«13»- وَ قَالَ عليه السلام الْجَوَادُ مَنْ بَذَلَ مَا يُضَنُّ بِمِثْلِهِ٢.
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: بخشنے والا وہ ہے جو اپنا علم بخش دے۔
«14»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ عليه السلام أَنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْخُذْ عَلَى الْجُهَّالِ عَهْداً بِطَلَبِ الْعِلْمِ حَتَّى أَخَذَ عَلَى الْعُلَمَاءِ عَهْداً بِبَذْلِ الْعِلْمِ لِلْجُهَّالِ لِأَنَّ الْعِلْمَ كَانَ قَبْلَ الْجَهْلِ ٣.
منیۃ المرید: امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں نے علی علیہ السلام کی کتاب میں پڑھا کہ اللہ نے نادانوں سے علم طلب کرنے اور حاصل کرنے کا عہد نہیں لیا جب تک کہ [اُس سے پہلے] علماء سے نادانوں کو علم بخشنے کا عہد نہ لے لیا؛ کیونکہ علم جہل سے پہلے تھا۔