يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَأَوْمَأَ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام إِلَى يُونُسَ ادْخُلِ الْبَيْتَ فَإِذَا بَيْتٌ مُسْبَلٌ عَلَيْهِ سِتْرٌ وَ إِيَّاكَ أَنْ تَتَحَرَّكَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ فَدَخَلَ الْبَصْرِيُّونَ فَأَكْثَرُوا مِنَ الْوَقِيعَةِ وَ الْقَوْلِ فِي يُونُسَ١ وَ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام مُطْرِقٌ حَتَّى لَمَّا أَكْثَرُوا فَقَامُوا وَ وَدَّعُوا وَ خَرَجُوا فَأَذِنَ يُونُسَ بِالْخُرُوجِ فَخَرَجَ بَاكِياً فَقَالَ جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ إِنِّي أُحَامِي عَنْ هَذِهِ الْمَقَالَةِ وَ هَذِهِ حَالِي عِنْدَ أَصْحَابِي فَقَالَ لَهُ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام يَا يُونُسُ فَمَا عَلَيْكَ مِمَّا يَقُولُونَ إِذَا كَانَ إِمَامُكَ عَنْكَ رَاضِياً يَا يُونُسُ حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ وَ اتْرُكْهُمْ مِمَّا لَا يَعْرِفُونَ كَأَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تُكَذَّبَ عَلَى اللَّهِ فِي عَرْشِهِ يَا يُونُسُ وَ مَا عَلَيْكَ أَنْ لَوْ كَانَ فِي يَدِكَ الْيُمْنَى دُرَّةٌ ثُمَّ قَالَ النَّاسُ بَعْرَةٌ أَوْ بَعْرَةٌ وَ قَالَ النَّاسُ دُرَّةٌ هَلْ يَنْفَعُكَ شَيْئاً فَقُلْتُ لَا فَقَالَ هَكَذَا أَنْتَ يَا يُونُسُ إِذَا كُنْتَ عَلَى الصَّوَابِ وَ كَانَ إِمَامُكَ عَنْكَ رَاضِياً لَمْ يَضُرَّكَ مَا قَالَ النَّاسُ.
اور یونس بن عبدالرحمن بھی ہماری جماعت میں تھے، کہ اچانک بصرہ کے کچھ لوگوں نے آپ سے ملاقات کی اجازت مانگی۔ امام رضا علیہ السلام نے یونس کو اشارہ کیا: کمرے میں چلے جاؤ اور جب تک میں اجازت نہ دوں اپنی جگہ سے نہ ہلنا۔ بصری امام کے گھر میں داخل ہوئے اور یونس بن عبدالرحمن کے خلاف بہت باتیں کیں، جبکہ امام رضا علیہ السلام خاموش رہے، یہاں تک کہ اُنہوں نے حد کر دی؛ پھر وہ اٹھے اور رخصت لے کر چلے گئے۔ تب امام نے یونس کو کمرے سے نکلنے کی اجازت دی۔ یونس روتے ہوئے باہر آئے اور عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوں! میں اِسی تعلیم کا دفاع کرتا ہوں اور اصحاب یہ خوب جانتے ہیں۔ امام رضا علیہ السلام نے اُن سے فرمایا: اے یونس! جب تمہارا امام تم سے راضی ہو تو تمہیں اُن کی باتوں کی کیا پروا؟ اے یونس! لوگوں سے اُن کی معرفت کے مطابق بات کرو اور اُن چیزوں کو چھوڑ دو جنہیں وہ نہیں پہچانتے، کیونکہ یہ ایسا ہے گویا تم نے اللہ کو اُس کے عرش پر جھٹلایا۔ اے یونس! اگر تمہارے دائیں ہاتھ میں موتی ہو اور لوگ کہیں کہ اونٹ کی مینگنی ہے، یا تمہارے ہاتھ میں اونٹ کی مینگنی ہو اور لوگ کہیں کہ موتی ہے، تو کیا تمہیں کچھ فائدہ ہو گا؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اسی طرح تم بھی، اے یونس! جب تم حق پر ہو اور تمہارا امام تم سے راضی ہو تو لوگوں کی باتیں تمہیں نقصان نہیں دیتیں۔
«6»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ يُونُسَ قَالَ قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ عليه السلام يَا يُونُسُ ارْفُقْ بِهِمْ فَإِنَّ كَلَامَكَ يَدِقُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ لِي زِنْدِيقٌ قَالَ لِي مَا يَضُرُّكَ أَنْ تَكُونَ فِي يَدَيْكَ لُؤْلُؤَةٌ فَيَقُولَ لَكَ النَّاسُ هِيَ حَصَاةٌ وَ مَا كَانَ يَنْفَعُكَ إِذَا كَانَ فِي يَدِكَ حَصَاةٌ فَيَقُولُ النَّاسُ هِيَ لُؤْلُؤَةٌ.
رجالِ کشی: حمدویہ نے یقطینی سے، اُنہوں نے یونس سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: عبدِ صالح علیہ السلام نے فرمایا: اے یونس! اُن کے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ تمہاری باتیں اُن پر گراں گزرتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: وہ مجھے زندیق کہتے ہیں۔ فرمایا: جب تمہارے ہاتھ میں جواہر ہوں اور لوگ کہیں کہ کنکر ہیں، تو تمہیں کیا نقصان؛ اور جب تمہارے ہاتھ میں کنکر ہوں اور لوگ کہیں کہ جواہر ہیں، تو کیا فائدہ؟
«7»- مع، معاني الأخبار لي، الأمالي للصدوق الْوَرَّاقُ عَنْ سَعْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ أَخِيهِ عَلِيٍّ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَحْوَلِ عَنْ جَمِيلِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ آبَائِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تُحَدِّثُوا بِالْحِكْمَةِ الْجُهَّالَ فَتَظْلِمُوهَا وَ لَا تَمْنَعُوهَا أَهْلَهَا فَتَظْلِمُوهُمْ وَ لَا تُعِينُوا الظَّالِمَ عَلَى ظُلْمِهِ فَيَبْطُلَ فَضْلُكُمْ الْخَبَرَ.
معانی الأخبار اور امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیل میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے بنی اسرائیل! حکمت نادانوں کو نہ سکھاؤ کہ اُس پر ظلم کرو گے، اور اُسے اُس کے اہل سے نہ روکو کہ اُن پر ظلم کرو گے، اور ظالم کی اُس کے ظلم میں مدد نہ کرو کہ اپنی فضیلت باطل کر دو گے… حدیث کے آخر تک۔
«8»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ مَرَّارٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام قَالَ: قَامَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عليه السلام خَطِيباً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تُحَدِّثُوا الْجُهَّالَ بِالْحِكْمَةِ فَتَظْلِمُوهَا ٢ وَ لَا تَمْنَعُوهَا أَهْلَهَا فَتَظْلِمُوهُمْ.
امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے بنی اسرائیل! حکمت نادانوں سے نہ کہو کہ اُس پر ظلم کر بیٹھو گے، اور اُسے اُس کے اہل سے نہ روکو کہ اُن پر ظلم کر بیٹھو گے۔