Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 63

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضِلَّ وَ أَزِلَّ أَوْ أُزِلَّ وَ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ وَ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ عَزَّ جَارُكَ وَ تَقَدَّسَتْ أَسْمَاؤُكَ وَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ وَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ حَسْبِيَ اللَّهُ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ ثَبِّتْ جَنَانِي وَ أَدِرِ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِي.

«اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہوں یا گمراہ کیا جاؤں، یا پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، یا ظلم کروں یا مجھ پر ظلم ہو، یا نادانی کروں یا مجھ سے نادانی کی جائے۔ تیری پناہ باعزت ہے، تیرے نام پاک ہیں، تیری ثنا بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔» پھر فرماتے: «اللہ کے نام سے، اللہ مجھے کافی ہے، میں نے اللہ پر توکل کیا، اور کوئی طاقت و قوت نہیں مگر اللہ بلند و عظیم کی۔ اے اللہ! میرے دل کو ثابت رکھ اور حق کو میری زبان پر جاری فرما۔»

«10»- و قال ناقلا عن بعض العلماء يقول قبل الدرس اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضِلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَىَّ اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَ عَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَ زِدْنِي عِلْماً وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَ مِنْ دُعَاءٍ لَا تُسْمَعُ.

شہیدِ ثانی نے بعض علماء سے نقل کیا کہ وہ درس سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے: «اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ گمراہ ہوں یا گمراہ کیا جاؤں، یا پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، یا ظلم کروں یا مجھ پر ظلم ہو، یا نادانی کروں یا مجھ سے نادانی کی جائے۔ اے اللہ! جو تُو نے مجھے سکھایا اُس سے مجھے نفع دے، اور مجھے وہ سکھا جو مجھے نفع دے، اور میرے علم میں اضافہ فرما؛ اور ہر حال میں اللہ ہی کی حمد ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اُس علم سے جو نفع نہ دے، اُس دل سے جو خشوع نہ کرے، اُس نفس سے جو سیر نہ ہو، اور اُس دعا سے جو سنی نہ جائے۔»

«11»- وَ رُوِیَ أَنَّ مَنِ اجْتَمَعَ مَعَ جَمَاعَةٍ وَ دَعَا يَكُونُ مِنْ دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا يَحُولُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ مَعْصِيَتِكَ وَ مِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَ مِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا اللَّهُمَّ مَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَ أَبْصَارِنَا وَ قُوَّتِنَا ١ مَا أَحْيَيْتَنَا وَ اجْعَلْهَا الْوَارِثَ مِنَّا وَ اجْعَلْ ثَارَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَی مَنْ عَادَانَا وَ لَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَ لَا تَجْعَلْ دُنْيَانَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَ لَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا.

روایت ہے کہ جو کوئی کسی جماعت کے ساتھ جمع ہو اور دعا کرنا چاہے تو یہ دعا پڑھے: «اے اللہ! ہمیں اپنے خوف کا وہ حصہ عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے؛ اور اپنی اطاعت کا وہ حصہ جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے؛ اور وہ یقین جس سے تُو دنیا کی مصیبتیں ہم پر آسان کر دے۔ اے اللہ! جب تک تُو ہمیں زندہ رکھے، ہمیں ہمارے کان، آنکھوں اور قوت سے بہرہ مند رکھ اور اُنہیں ہمارا وارث بنا؛ اور ہمارا انتقام اُن پر رکھ جنہوں نے ہم پر ظلم کیا؛ اور ہمیں اُن پر فتح دے جنہوں نے ہم سے دشمنی کی؛ اور ہماری مصیبت ہمارے دین میں نہ رکھ؛ اور ہماری دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر اور ہمارے علم کی انتہا نہ بنا؛ اور ہم پر اُسے مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے۔»

«12»- وَ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الصَّوْتَ الْخَفِيضَ وَ يُبْغِضُ الصَّوْتَ الرَّفِيعَ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ پست آواز کو پسند کرتا ہے اور بلند آواز کو ناپسند کرتا ہے۔

«13»- وَ رُوِیَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى اللّٰه عليه و آله كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ وَ أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا مَا أَخْطَأْنَا وَ مَا تَعَمَّدْنَا وَ مَا أَسْرَرْنَا وَ مَا أَعْلَنَّا وَ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنَّا أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ أَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَ يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَ أَتُوبُ إِلَيْكَ سُبْحانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَ سَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِينَ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ جب اپنی گفتگو ختم کرتے اور مجلس سے اٹھنا چاہتے تو یہ دعا پڑھتے: «اے اللہ! ہمارے وہ گناہ بخش دے جو ہم نے خطا سے کیے اور جو عمداً کیے، جو ہم نے چھپائے اور جو ظاہر کیے، اور وہ جو تُو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ تُو ہی آگے کرنے والا اور تُو ہی پیچھے کرنے والا ہے؛ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔» اور مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھتے: «پاک ہے تُو اے اللہ، اور تیری حمد کے ساتھ؛ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں؛ میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ پاک ہے تیرا رب، عزت کا رب، اُس سے جو وہ بیان کرتے ہیں؛ اور سلام ہو رسولوں پر؛ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔» ایک جماعت نے اِس دعا کو پیغمبر کے معمولات میں شمار کیا ہے۔

«14»- وَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ أَنَّ الثَّلَاثَ آيَاتٍ كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ.

بعض روایات میں آیا ہے: یہ تین آیتیں مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہیں: «سُبْحانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُونَ * وَ سَلامٌ عَلَی الْمُرْسَلِینَ * وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِینَ»، {پاک ہے تیرا رب، عزت والا رب، اُس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ہو رسولوں پر۔ اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔}

«15»- وَ رُوِیَ أَنَّ أَنْصَارِيّاً جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله يَسْأَلُهُ وَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ فَقَالَ

روایت ہے کہ ایک انصاری پیغمبر کی خدمت میں آیا اور آپ سے کچھ پوچھا، اور ثقیف کا ایک شخص بھی آیا، تو آپ نے فرمایا:

(١)1- 1 و في نسخة: و قو؟؟؟اور ایک نسخے میں: «و قو…» (ناخوانا)۔