بِالْعِلْمِ فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ إِنَّمَا جَعَلَكَ قَيِّماً لَهُمْ فِيمَا آتَاكَ مِنَ الْعِلْمِ وَ فَتَحَ لَكَ مِنْ خَزَائِنِهِ فَإِنْ أَحْسَنْتَ فِي تَعْلِيمِ النَّاسِ وَ لَمْ تَخْرَقْ بِهِمْ وَ لَمْ تَضْجَرْ عَلَيْهِمْ زَادَكَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ إِنْ أَنْتَ مَنَعْتَ النَّاسَ عِلْمَكَ وَ خَرِقْتَ بِهِمْ عِنْدَ طَلَبِهِمُ الْعِلْمَ كَانَ حَقّاً عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ يَسْلُبَكَ الْعِلْمَ وَ بَهَاءَهُ وَ يُسْقِطَ مِنَ الْقُلُوبِ مَحَلَّكَ.
علم میں، تو وہ یہ ہے کہ تم جان لو کہ اللہ عزّوجل نے تمہیں اُس علم میں اُن کا سرپرست بنایا جو اُس نے تمہیں دیا اور اپنے خزانوں کا جو دروازہ تم پر کھولا۔ اگر تم لوگوں کو خوش خلقی سے سکھاؤ، اور اُن سے بد اخلاقی نہ کرو اور دل تنگ نہ ہو، تو اللہ اپنے فضل سے تمہیں زیادہ دے گا؛ اور اگر تم اپنا علم لوگوں سے روکو اور جب وہ تمہارے علم کے طلب گار ہوں تو اُن پر تنگ خلقی کرو، تو سزاوار ہے کہ اللہ تم سے وہ علم اور اُس کی آبرو چھین لے اور تمہاری قدر دلوں سے نکال دے۔
بيان: الخرق ترك الرفق و الغلظة و السفاهة و الضجر التبرم و ضيق القلب عن كثرة السؤال.
«الخُرق» نرمی کا ترک، اور درشتی اور بے خردی کو کہتے ہیں۔ «الضَّجَر» تھک جانا، ملول ہونا اور سوالوں کی کثرت سے دل تنگی کو کہتے ہیں۔
«3»- أَقُولُ وَجَدْتُ بِخَطِّ الشَّيْخِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْجُبَّائِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ نَقْلًا مِنْ خَطِّ الشَّهِيدِ قُدِّسَ سِرُّهُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ عليه السلام قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ نَظَرَ إِلَى فَرْجِ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ وَ رَجُلًا خَانَ أَخَاهُ فِي امْرَأَتِهِ وَ رَجُلًا احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيْهِ لِيُفَقِّهَهُمْ فَسَأَلَهُمُ الرِّشْوَةَ.
مجلسی کہتے ہیں: میں نے شیخ محمد بن علی جبّائی ـ رحمہ اللہ ـ کے دستِ خط میں، جو اُنہوں نے شہید قدّس سرّہ کے خط سے نقل کیا تھا، یوسف بن جابر سے، اُنہوں نے امام باقر علیہ السلام سے روایت پائی کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اُس شخص پر لعنت کی جو کسی ایسی عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے جو اُس کے لیے حلال نہیں؛ اور اُس مرد پر جو اپنے دینی بھائی کی ناموس میں خیانت کرے؛ اور اُس مرد پر جس سے لوگ دینی مسائل پوچھنے کے محتاج ہوں اور وہ رشوت مانگے۔
«4»- الدُّرَّةُ الْبَاهِرَةُ، قَالَ الصَّادِقُ عليه السلام مِنْ أَخْلَاقِ الْجَاهِلِ الْإِجَابَةُ قَبْلَ أَنْ يَسْمَعَ وَ الْمُعَارَضَةُ قَبْلَ أَنْ يَفْهَمَ وَ الْحُكْمُ بِمَا لَا يَعْلَمُ.
الدرۃ الباہرۃ: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نادان کی خصوصیات میں سے ہے: سننے سے پہلے جواب دینا، سمجھنے سے پہلے اعتراض کرنا، اور نادانی سے حکم لگانا۔
«5»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ رَفَعَهُ قَالَ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عليه السلام يَا مَعْشَرَ الْحَوَارِيِّينَ١ لِي إِلَيْكُمْ حَاجَةٌ فَاقْضُوهَا لِي قَالُوا قُضِيَتْ حَاجَتُكَ يَا رُوحَ اللَّهِ فَقَامَ فَغَسَلَ أَقْدَامَهُمْ فَقَالُوا كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا يَا رُوحَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِالْخِدْمَةِ الْعَالِمُ إِنَّمَا تَوَاضَعْتُ هَكَذَا لِكَيْمَا تَتَوَاضَعُوا بَعْدِي فِي النَّاسِ كَتَوَاضُعِي لَكُمْ ثُمَّ قَالَ عِيسَى عليه السلام بِالتَّوَاضُعِ تَعْمَرُ الْحِكْمَةُ لَا بِالتَّكَبُّرِ كَذَلِكَ فِي السَّهْلِ يَنْبُتُ الزَّرْعُ لَا فِي الْجَبَلِ.
منیۃ المرید: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے حواریو اور پاک ساتھیو! مجھے تم سے ایک خواہش ہے جسے میں چاہتا ہوں کہ تم پوری کرو۔ اُنہوں نے کہا: اے روح اللہ! آپ کی حاجت پوری ہے۔ پھر عیسیٰ بن مریم اٹھے اور حواریوں کے پاؤں دھوئے۔ اُنہوں نے عیسیٰ سے عرض کیا: مناسب تو یہ تھا کہ ہم آپ کے پاؤں دھوتے۔ فرمایا: خدمت کرنے کا سب سے زیادہ سزاوار خود عالم ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اِس کام سے میرا واحد مقصد یہ تھا کہ تمہارے سامنے اپنی تواضع ظاہر کر کے تم میرے بعد لوگوں میں تواضع کرو۔ پھر فرمایا: علم و حکمت تواضع سے آباد ہوتے ہیں، تکبر سے نہیں؛ جیسے کھیتی نرم اور ہموار زمین میں اُگتی ہے، پہاڑوں پر نہیں۔
«6»- وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَ لا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ قَالَ لِيَكُنِ النَّاسُ عِنْدَكَ فِي الْعِلْمِ سَوَاءً.
امام صادق علیہ السلام نے آیت «وَ لا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ»، {اور لوگوں سے [نخوت سے] رُخ نہ موڑو} کی تفسیر میں فرمایا: علم سکھانے میں سب لوگ تمہارے نزدیک برابر ہونے چاہئیں۔
«7»- وَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله لَيِّنُوا لِمَنْ تُعَلِّمُونَ وَ لِمَنْ تَتَعَلَّمُونَ مِنْهُ.
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے شاگردوں اور استادوں کے ساتھ نرمی کرو۔
«8»- وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله لِأَصْحَابِهِ إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ وَ إِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْراً.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: یقیناً لوگ تمہاری پیروی کریں گے اور زمین کے اطراف سے لوگ دینی مسائل سیکھنے تمہارے پاس آئیں گے؛ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو اُنہیں خیر کی وصیت کرو۔
«9»- وَ قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَدْعُو عِنْدَ خُرُوجِهِ مُرِيداً لِلدَّرْسِ بِالدُّعَاءِ الْمَرْوِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ص
شہیدِ ثانی ـ رحمہ اللہ ـ درس کے لیے گھر سے نکلتے وقت پیغمبر سے روایت شدہ یہ دعا پڑھتے تھے: