Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 59

من العلم و إنما أنت بمنزلة رجل من الصديقين لأنك تقول حدثنا فلان عن فلان عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و آله عن جبرئيل عن اللّٰه فيسمعه الناس منك و يكتبونه عنك و يتخذونه دينا يعولون عليه و حكما ينتهون إليه و إنما أنهاك أن تعود لمثل الذي كنت عليه فإني أخاف عليك غضب من يأخذ العارفين قبل الجاهلين و يعذب فساق حملة القرآن قبل الكافرين فما رأيت حالا أعجب من حالنا و لا عظة أبلغ مما اتفق لنا و لما وقف صاحبي اضطرب لها اضطرابا بان فيها أثر لطف اللّٰه تعالى لنا و حدثني بعد ذلك أنه انزجر عن تفريطات كانت تقع منه في الدين و الدنيا و الحمد لله.

اور تم صدیقوں میں سے ایک آدمی کی مانند ہو، کیونکہ تم کہتے ہو: فلاں نے ہمیں فلاں سے، اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اُنہوں نے جبرئیل سے، اُنہوں نے اللہ تعالیٰ سے حدیث بیان کی؛ اور لوگ تم سے سنتے اور لکھتے ہیں اور اُسے اپنے دین کے احکام سمجھتے اور اُس پر اعتماد کرتے اور اُسے حکمِ خدا شمار کر کے اُس پر عمل کرتے ہیں۔ اور میں تمہیں اُس کام سے روکتا ہوں جو تم نے کیا، کیونکہ میں تم پر اُس ذات کے غضب سے ڈرتا ہوں جو عارفوں سے نادانوں سے پہلے بازپرس کرتا ہے اور قرآن دان فاسقوں کو کافروں سے پہلے عذاب دیتا ہے۔ اور میں نے اُس سے زیادہ عجیب اور اُس سے زیادہ مؤثر نصیحت نہ دیکھی جو ہم پر گزری۔ اور جب میرا ساتھی اُس تحریر سے آگاہ ہوا تو سخت پریشان ہوا، یہاں تک کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے لطف کا اثر اُس کے چہرے سے ظاہر ہوا؛ اور اُس کے بعد اُس نے مجھے بتایا کہ وہ دین داری اور دنیا کے کاموں میں اپنی گزشتہ کوتاہیوں سے باز آیا اور بیزار ہوا۔ و الحمد للہ۔

«41»- عدة، عدة الداعي فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ قَالَ يَعْنِي مَنْ يُصَدِّقُ قَوْلَهُ فِعْلُهُ وَ مَنْ لَمْ يُصَدِّقْ قَوْلَهُ فِعْلُهُ فَلَيْسَ بِعَالِمٍ.

عدۃ الداعی: امام صادق علیہ السلام سے آیتِ شریفہ «إِنَّما یَخْشَی اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ» کی تفسیر میں آیا ہے: یعنی عالم وہ ہے جس کا کردار اُس کے قول کی تصدیق کرے، اور جس کا قول اُس کے کردار سے تصدیق نہ پائے وہ عالم نہیں۔

«42»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ لِلْعَالِمِ ثَلَاثَ عَلَامَاتٍ الْعِلْمَ وَ الْحِلْمَ وَ الصَّمْتَ وَ لِلْمُتَكَلِّفِ ثَلَاثَ عَلَامَاتٍ يُنَازِعُ مَنْ فَوْقَهُ بِالْمَعْصِيَةِ وَ يَظْلِمُ مَنْ دُونَهُ بِالْغَلَبَةِ وَ يُظَاهِرُ الظَّلَمَةَ ١.

منیۃ المرید: امیر المؤمنین علیہ السلام ہمیشہ فرماتے تھے: عالم کی تین نشانیاں ہیں: علم، بردباری اور سکوت۔ اور متکلف کی تین نشانیاں ہیں: اپنے سے بالادست سے معصیت کے ساتھ دشمنی کرتا ہے، اپنے زیردست پر غلبے کے ساتھ ظلم کرتا ہے، اور ظالموں کا پشت پناہ ہے۔

باب 12 آداب التعليم

باب ۱۲: تعلیم کے آداب

الآيات؛

آیات:

الكهف: «قالَ لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ وَ لا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْراً»(73)

الکہف: {[موسیٰ نے] کہا: «جو میں بھول گیا اُس پر مجھے مؤاخذہ نہ کیجیے اور میرے کام میں مجھ پر سختی نہ کیجیے۔»}

«1»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي أَبُو الْمُفَضَّلِ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى بْنِ الْعَبَّادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَوْنِ بْنِ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام عَنْ سُؤَالٍ فَبَادَرَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَقَالَ الرَّجُلُ هَا أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مَا مَسْأَلَتُكَ قَالَ كَيْتَ وَ كَيْتَ فَأَجَابَهُ عَنْ سُؤَالِهِ فَقِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنَّا عَهِدْنَاكَ إِذَا سُئِلْتَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ كُنْتَ فِيهَا كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ جَوَاباً فَمَا بَالُكَ أَبْطَأْتَ الْيَوْمَ عَنْ جَوَابِ هَذَا

ایک شخص نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا اور آپ جلدی سے اپنے گھر میں داخل ہوئے، پھر باہر آئے اور فرمایا: سائل کہاں ہے؟ اُس شخص نے کہا: یا امیر المؤمنین! میں یہاں ہوں۔ آپ نے پوچھا: تمہارا سوال کیا ہے؟ اُس نے کہا: یوں اور یوں ہے۔ آپ نے اُس کا جواب دیا۔ آپ سے عرض کیا گیا: یا امیر المؤمنین! جب بھی ہمارا آپ سے کوئی سوال ہوتا، آپ کا جواب داغے ہوئے لوہے کی طرح حاضر ہوتا؛ آج کیا ہوا کہ اِس شخص کا جواب دیر سے

(١)1- 1 أي يعاونهم.یعنی وہ اُن کی مدد کرتا ہے۔