دَفَّاعُ ١ مُعْضِلَاتٍ دَلِيلُ فَلَوَاتٍ يَقُولُ فَيُفْهِمُ وَ يَسْكُتُ فَيَسْلَمُ قَدْ أَخْلَصَ لِلَّهِ فَاسْتَخْلَصَهُ فَهُوَ مِنْ مَعَادِنِ دِينِهِ وَ أَوْتَادِ أَرْضِهِ قَدْ أَلْزَمَ نَفْسَهُ الْعَدْلَ فَكَانَ أَوَّلَ عَدْلِهِ نَفْيُ الْهَوَى عَنْ نَفْسِهِ يَصِفُ الْحَقَّ وَ يَعْمَلُ بِهِ لَا يَدَعُ لِلْخَيْرِ غَايَةً إِلَّا أَمَّهَا ٢وَ لَا مَظِنَّةً إِلَّا قَصَدَهَا قَدْ أَمْكَنَ الْكِتَابَ مِنْ زِمَامِهِ فَهُوَ قَائِدُهُ وَ إِمَامُهُ يَحُلُّ حَيْثُ حَلَّ ثَقَلُهُ وَ يَنْزِلُ حَيْثُ كَانَ مَنْزِلُهُ وَ آخَرُ قَدْ تَسَمَّی عَالِماً وَ لَيْسَ بِهِ فَاقْتَبَسَ جَهَائِلَ مِنْ جُهَّالٍ وَ أَضَالِيلَ مِنْ ضُلَّالٍ وَ نَصَبَ لِلنَّاسِ أَشْرَاكاً مِنْ حِبَالِ غُرُورٍ وَ قَوْلِ زُورٍ قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلَى آرَائِهِ وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلَى أَهْوَائِهِ يُؤْمِنُ مِنَ الْعَظَائِمِ وَ يُهَوِّنُ كَبِيرَ الْجَرَائِمِ يَقُولُ أَقِفُ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ وَ فِيهَا وَقَعَ وَ يَقُولُ أَعْتَزِلُ الْبِدَعَ وَ بَيْنَهَا اضْطَجَعَ فَالصُّورَةُ صُورَةُ إِنْسَانٍ وَ الْقَلْبُ قَلْبُ حَيَوَانٍ لَا يَعْرِفُ بَابَ الْهُدَى فَيَتَّبِعَهُ وَ لَا بَابَ الْعَمَى فَيَصُدَّ عَنْهُ فَذَلِكَ مَيِّتُ الْأَحْيَاءِ فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ فَأَنَّی تُؤْفَكُونَ وَ الْأَعْلَامُ قَائِمَةٌ وَ الْآيَاتُ وَاضِحَةٌ وَ الْمَنَارُ مَنْصُوبَةٌ إِلَى آخِرِ الْخُطْبَةِ.
اور دشواریوں کا دُور کرنے والا، اور سرگردانی کے بیابانوں میں بھٹکے ہوؤں کا رہنما ہے۔ بولتا ہے تو خوب سمجھاتا ہے، خاموش رہتا ہے تو سلامت گزرتا ہے۔ اُس نے اپنے اعمال اللہ کے لیے خالص کیے، اُس طرح جیسے اللہ نے قبول کیا۔ وہ دینِ خدا کے خزانوں اور زمین کے ارکان میں سے ہے۔ اُس نے خود کو عدل کا پابند کیا، اور اُس کے عدل کا آغاز یہ ہے کہ اُس نے ہوائے نفس کو دل سے نکال باہر کیا۔ وہ حق کو پہچنواتا ہے اور اُس پر عمل کرتا ہے۔ کوئی کارِ خیر ایسا نہیں جسے وہ انجام نہ دے، اور کہیں خیر کا گمان نہیں کیا مگر اُس کی طرف لپکا۔ اُس نے اپنا اختیار قرآن کے سپرد کیا اور قرآن کو اپنا رہنما اور پیشوا بنایا؛ جہاں قرآن بار اتارے وہ اُترتا ہے اور جہاں قرآن ٹھہرے وہ مسکن بناتا ہے۔ اور ایک دوسرا ہے جسے لوگ عالم کہتے ہیں مگر وہ علم سے بے بہرہ ہے: اُس نے نادانوں کی ایک جماعت سے نادانیوں کا ایک پلندہ اکٹھا کیا، اور گمراہوں سے گمراہ کن مطالب سیکھے، اور اُنہیں باہم بُنا؛ اور لوگوں کی راہ پر غرور کی رسیوں اور جھوٹی باتوں کے جال بچھا دیے۔ وہ قرآن کو اپنی خواہشوں پر منطبق کرتا ہے اور حق کی تفسیر اپنی ہوس کے مطابق کرتا ہے۔ لوگوں کو بڑے گناہوں سے بے خوف کرتا ہے اور بڑے جرائم کو ہلکا دکھاتا ہے۔ دعویٰ کرتا ہے کہ شبہات سے پرہیز کرتا ہے مگر اُن میں غوطہ زن ہے؛ کہتا ہے کہ بدعتوں سے دُور ہوں مگر اُن میں ڈوبا ہوا ہے۔ اُس کا ظاہری چہرہ انسان کا چہرہ ہے اور اُس کا دل درندے کا دل؛ نہ ہدایت کا راستہ پہچانتا ہے کہ اُس پر چلے، نہ خطا و باطل کی راہ جانتا ہے کہ اُس سے بچے — پس وہ زندوں کے درمیان ایک مُردہ ہے۔ اے لوگو! کہاں جا رہے ہو؟ حق سے کیوں منحرف ہوتے ہو؟ حق کے پرچم اور اُس کی نشانیاں آشکار ہیں، جبکہ ہدایت کے چراغ راہ روشن کر رہے ہیں… خطبے کے آخر تک۔
بيان: فاستشعر الحزن أي جعله شعارا له و تجلبب الخوف أي جعله جلبابا و هو ثوب يشمل البدن فزهر أي أضاء و القرى الضيافة فقرب على نفسه البعيد أي مثل الموت بين عينيه و هون الشديد أي الموت و رضی به و استعد له أو المراد بالبعيد أمله الطويل و بتقريبه تقصيره له بذكر الموت و هون الشديد أي كلف نفسه الرياضة على المشاق من الطاعات و قيل أريد بالبعيد رحمة اللّٰه أي جعل نفسه مستعدة لقبولها بالقربات و بالشديد عذاب اللّٰه فهونه بالأعمال الصالحة أو شدائد الدنيا باستحقارها في جنب ما أعد له من الثواب نظر أي بعينه فاعتبر أو بقلبه فأبصر الحق من عذب فرات أي العلوم الحقة و الكمالات الحقيقية و قيل من حب اللّٰه فشرب نهلا أي شربا أولا سابقا على أمثاله سبيلا جددا أي لا غبار فيه و لا وعث و السربال القميص و الردی الهلاك و قطع غماره أي ما كان مغمورا فيه من شدائد الدنيا من إصدار كل وارد عليه أي هداية الناس فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ أي تصرفون.
«فاستشعر الحزن» یعنی اُس نے غم کو اپنا شعار (زیریں لباس) بنایا، اور «تجلبب الخوف» یعنی خوف کو اپنا جلباب بنایا، وہ لباس جو پورے بدن کو ڈھانپے۔ «فزہر» یعنی روشنی بخشی۔ «والقری» یعنی مہمان نوازی۔ «فقرّب علی نفسہ البعید» یعنی وہ موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے؛ اور «ہوّن الشدید» یعنی اُس نے موت کو آسان بنایا، اُس پر راضی ہوا اور اُس کے لیے آمادہ ہوا۔ یا «بعید» سے مراد لمبی آرزوئیں ہیں، اور آرزو کو قریب کرنے سے مراد موت کی یاد سے اُسے کوتاہ کرنا ہے۔ «و ہوّن الشدید» یعنی اُس نے اپنے نفس کو ریاضت کے ذریعے اطاعتِ خدا کی مشقت کا مکلف بنایا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ «بعید» سے مراد اللہ کی رحمت ہے، چنانچہ وہ قربت کے لیے اللہ کی رحمت قبول کرنے کو آمادہ ہوتا ہے اور اللہ کے سخت عذاب کو نیک اعمال سے آسان کرتا ہے؛ یا دنیا کی سختیوں کو آخرت کے ثوابوں کے پہلو میں حقیر جان کر اپنی آنکھ یا دل میں چھوٹا کر لیتا ہے، اور علومِ حقہ اور کمالاتِ حقیقی کی بینائی پاتا ہے۔ «و من عَذْبٍ فُرات» یعنی علومِ حقہ اور کمالاتِ حقہ؛ بعض نے کہا ہے کہ مراد محبتِ خدا ہے۔ «فشرب نہلاً» یعنی پہلا گھونٹ جو دوسروں سے پہلے لیا جائے۔ «سبیلاً جدداً» یعنی وہ راستہ جس میں خار و خاشاک نہ ہو۔ «السربال» یعنی پیراہن۔ «الردیٰ» یعنی ہلاکت۔ «قطع غِمارہ» یعنی اُس نے دنیا کی سختیاں کاٹ دیں۔ «من إصدار کل واردٍ علیہ» یعنی لوگوں کی ہدایت۔ «و أنّی تؤفکون» یعنی کہاں جا رہے ہو۔