Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 32

رَفِيعَةٍ لِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ أَيْ عِلْمِ التَّقْوَى وَ الْيَقِينِ.

اور بلندی ہے، اور اسی لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: علم کا طلب کرنا اور حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے۔ اور مراد وہ علوم ہیں جو تقویٰ اور تحصیلِ یقین سے متعلق ہیں۔

«21»- وَ قَالَ عَلِيٌّ عليه السلام اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَوْ بِالصِّينِ وَ هُوَ عِلْمُ مَعْرِفَةِ النَّفْسِ وَ فِيهِ مَعْرِفَةُ الرَّبِّ عَزَّ وَ جَلَّ.

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: علم طلب کرو خواہ چین میں ہو؛ اور مراد وہ علوم ہیں جو معرفتِ نفس سے متعلق ہیں، اور نفس کی شناخت پروردگارِ متعال کی معرفت کا سبب بنتی ہے۔

«22»- قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ ثُمَّ عَلَيْكَ مِنَ الْعِلْمِ بِمَا لَا يَصِحُّ الْعَمَلُ إِلَّا بِهِ وَ هُوَ الْإِخْلَاصُ.

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اُس نے یقیناً اپنے رب کو پہچانا۔ اور پھر تم پر لازم ہے کہ وہ علوم سیکھو جو تمہارے اعمال کی اصلاح اور فرائض کی تصحیح میں مؤثر ہوں؛ اور وہ اخلاص سے متعلق علوم ہیں، جن کے بغیر کوئی عمل صحیح اور مقبول نہیں ہوتا۔

«23»- قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَ هُوَ الْعِلْمُ الَّذِي يُضَادُّ الْعَمَلَ بِالْإِخْلَاصِ وَ اعْلَمْ أَنَّ قَلِيلَ الْعِلْمِ يَحْتَاجُ إِلَى كَثِيرِ الْعَمَلِ لِأَنَّ عِلْمَ سَاعَةٍ يُلْزِمُ صَاحِبَهُ اسْتِعْمَالَهُ طُولَ عُمُرِهِ.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اُس علم سے جو نفع نہ دے؛ اور وہ وہ علم ہے جو خالصانہ عمل کے مخالف ہو۔ اور متوجہ رہو کہ تھوڑا سا علم بھی بہت سے عمل کا تقاضا کرتا ہے؛ کیونکہ جب انسان کو کسی موضوع میں علم حاصل ہو جائے تو اُسے مسلسل اور اپنی عمر کے آخر تک اُس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

«24»- قَالَ عِيسَى عليه السلام رَأَيْتُ حَجَراً مَكْتُوباً عَلَيْهِ قَلِّبْنِي فَقَلَّبْتُهُ فَإِذَا عَلَى بَاطِنِهِ مَنْ لَا يَعْمَلُ بِمَا يَعْلَمُ مَشُومٌ عَلَيْهِ طَلَبُ مَا لَا يَعْلَمُ وَ مَرْدُودٌ عَلَيْهِ مَا عَلِمَ.

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے ایک پتھر دیکھا جس پر لکھا تھا: مجھے پلٹاؤ! پس میں نے اُسے پلٹایا تو دوسری طرف لکھا تھا: جو اپنے علم پر عمل نہ کرے، اُس کے لیے اُس چیز کی طلب منحوس ہے جو وہ نہیں جانتا، اور جو وہ جانتا ہے وہ اُسی پر پلٹ آتا ہے۔

«25»- أَوْحَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِلَى دَاوُدَ عليه السلام أَنَّ أَهْوَنَ مَا أَنَا صَانِعٌ بِعَالِمٍ غَيْرِ عَامِلٍ بِعِلْمِهِ أَشَدُّ مِنْ سَبْعِينَ عُقُوبَةً أَنْ أُخْرِجَ مِنْ قَلْبِهِ حَلَاوَةَ ذِكْرِي وَ لَيْسَ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ طَرِيقٌ يَسْلُكُ إِلَّا بِعِلْمٍ وَ الْعِلْمُ زَيْنُ الْمَرْءِ فِي الدُّنْيَا وَ سَائِقُهُ إِلَی الْجَنَّةِ وَ بِهِ يَصِلُ إِلَى رِضْوَانِ اللَّهِ تَعَالَى وَ الْعَالِمُ حَقّاً هُوَ الَّذِي يَنْطِقُ عَنْهُ أَعْمَالُهُ الصَّالِحَةُ وَ أَوْرَادُهُ الزَّاكِيَةُ وَ صِدْقُهُ وَ تَقْوَاهُ لَا لِسَانُهُ وَ تَصَاوُلُهُ وَ دَعْوَاهُ وَ لَقَدْ كَانَ يَطْلُبُ هَذَا الْعِلْمَ فِي غَيْرِ هَذَا الزَّمَانِ مَنْ كَانَ فِيهِ عَقْلٌ وَ نُسُكٌ وَ حِكْمَةٌ وَ حَيَاءٌ وَ خَشْيَةٌ وَ أَنَا أَرَى طَالِبَهُ الْيَوْمَ مَنْ لَيْسَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْ ءٌ وَ الْعَالِمُ يَحْتَاجُ إِلَى عَقْلٍ وَ رِفْقٍ وَ شَفَقَةٍ وَ نُصْحٍ وَ حِلْمٍ وَ صَبْرٍ وَ بَذْلٍ وَ قَنَاعَةٍ وَ الْمُتَعَلِّمُ يَحْتَاجُ إِلَى رَغْبَةٍ وَ إِرَادَةٍ وَ فَرَاغٍ وَ نُسُكٍ وَ خَشْيَةٍ وَ حِفْظٍ وَ حَزْمٍ.

اللہ تعالیٰ نے داؤد کی طرف وحی کی: سب سے ہلکی چیز جس سے میں بے عمل عالم کو عذاب دیتا ہوں، ستّر سزاؤں سے سخت تر ہے: میں اپنی یاد کی مٹھاس اُس کے دل سے نکال دیتا ہوں۔ اور اللہ کی طرف جانے والا راستہ علم کے سوا کوئی نہیں؛ اور علم دنیا میں انسان کا زیور ہے اور اُسے جنت کی طرف کھینچنے والا ہے۔ اور سچا عالم — جس سے فائدہ اٹھانا سزاوار ہے — وہ ہے جس کے اعمالِ صالح و پاکیزہ، اُس کی سچائی اور پرہیزگاری اندر سے اُس کے مقام کی گواہی دیں، نہ کہ اُس کی زبان، بحث و جدال، دوسروں سے مقابلہ و برابری، نزاع و حملہ اور دعویٰ — کیونکہ یہ چیزیں اُس کا حقیقی مقام و مرتبہ کبھی ظاہر نہ کریں گی۔ گزشتہ زمانے میں جو شخص طلبِ علم اور اُس کی تحصیل میں ہوتا، وہ عقل، عبادت، حیا اور خوف کے ساتھ خشوع سے متصف ہوتا؛ مگر ہمارے زمانے میں ایسے لوگ علم طلب کرتے ہیں جن میں اِن صفات میں سے کچھ بھی نہیں۔ اور عالم کو ضرورت ہے عقل رکھنے کی، نرم و ملائم ہونے کی، مہربانی، خلوص و صفائے رفتار و کردار، حلیم ہونے، صبر و بردباری، بذلِ علم، دست و دل کھلا ہونے اور قناعت کی۔ اور طالبِ علم میں بھی علاقہ و شوق، عزم، فراغتِ خاطر، عبادت و بندگی، خوف کے ساتھ خشوع، فرائض کی محافظت، مطالب کا حفظ اور امور میں احتیاط جیسی صفات ہونی چاہئیں، تاکہ وہ تحصیلِ علم میں توفیق پائے اور اِس راہ پر ثابت قدم اور مستقیم رہے۔

بيان: علم التقوى هو العلم بالأوامر و النواهي و التكاليف التي يتقى بها من عذاب اللّٰه و علم اليقين علم ما يتعلق من المعارف بأصول الدين و يحتمل أن يكون علم التقوى أعم منهما و يكون اليقين معطوفا على العلم و تفسيرا له أي العلم المأمور به هو اليقين قوله عليه السلام و فيه معرفة الرب أي معرفة الشئون التي جعلها اللّٰه تعالى للنفس و معرفة معايبها و ما يوجب رفعتها و كمالاتها يوجب اكتساب ما يوجب كمال معرفته تعالى

«علمِ تقویٰ» وہی اوامر و نواہی اور اُن تکالیف کا علم ہے جن کے ذریعے اللہ کے عذاب سے بچا جاتا ہے۔ «علمِ یقین» اصولِ دین کی معارف و شناخت ہے؛ اگرچہ احتمال ہے کہ علمِ تقویٰ دونوں کو شامل ہو اور «یقین» جو «علم» پر عطف ہوا، اُس کی تفسیر ہو۔ «عطفِ تفسیری» یعنی وہ علم جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور جو یقین ہی ہے۔ «نفس سے متعلق امور کی شناخت» — جیسے نفسانی عیوب و کمالات کی شناخت —