Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 317

لِأَهْلِ النَّارِ وَ الزَّايُ زَفِيرُ جَهَنَّمَ حُطِّي حُطَّتِ الْخَطَايَا عَنِ الْمُسْتَغْفِرِينَ كَلَمَنْ كَلَامُ اللَّهِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ سَعْفَصْ صَاعٌ بِصَاعٍ وَ الْجَزَاءُ بِالْجَزَاءِ قَرَشَتْ قَرَشَهُمْ فَحَشَرَهُمْ فَقَالَ الْمُؤَدِّبُ أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ خُذِي بِيَدِ ابْنِكِ فَقَدْ عُلِّمَ وَ لَا حَاجَةَ فِي الْمُؤَدِّبِ.

«زاء» دوزخ کی زفیر ہے، «حطی» استغفار کرنے والوں سے خطاؤں کا جھڑ جانا ہے۔ «کلمن» خدا کا کلام ہے جو بدلا نہیں جاتا، «سعفص» ایک پیمانے کے بدلے ایک پیمانہ اور جزا کے بدلے جزا، «قرشت» اُس نے اُنہیں سمیٹا اور محشور کیا۔ مؤدب نے کہا: اے عورت! اپنے فرزند کو لے جاؤ، وہ دانشمند ہے اور اُسے مؤدب کی ضرورت نہیں۔

بيان: قال الفيروزآبادي الكتاب كرمان الكاتبون و المكتب كمقعد موضع التعليم و قول الجوهري المكتب و الكتاب واحد غلط و قال قرشه يقرشه و يقرشه قطعه و جمعه من هاهنا و هاهنا و ضم بعضه إلى بعض.

فیروزآبادی کہتے ہیں: «کتّاب» کتابت سکھانے کے مکتبوں کے لکھنے والے۔ اگر مکتب اور کتاب کو ایک معنی میں لیں تو غلط ہے۔ «قرش» قطع اور جمع کے معنی میں آتا ہے، کہ کسی چیز کو یہاں وہاں سے اٹھا کر ایک جگہ جمع کریں۔

أقول: هذا الخبر و الأخبار الآتية تدل على أن للحروف المفردة وضعا و دلالة على معان و ليست فائدتها منحصرة في تركب الكلمات منها و لا استبعاد في ذلك و قد روت العامة في الم عن ابن عباس أن الألف آلاء اللّٰه و اللام لطفه و الميم ملكه و تأويلها بأن المراد التنبيه على أن هذه الحروف منبع الأسماء و مبادي الخطاب و تمثيل بأمثلة حسنة تكلف مستغنى عنه.

مؤلف: یہ خبر اور آنے والی خبریں دلالت کرتی ہیں کہ حروفِ مفردہ وضع رکھتے ہیں اور معنی پر دلالت کرتے ہیں اور اُن کا فائدہ کلمات کی ترکیب میں منحصر نہیں، اور اِس مطلب میں کوئی استبعاد نہیں۔ اور ابن عباس سے اہلِ سنت کے طریق میں «الم» کے بارے میں آیا ہے کہ اُنہوں نے کہا: «الف»: خدا کی آلاء، «لام»: اُس کا لطف، «م»: خدا کا ملک؛ اور اُس کی تاویل یہ ہے کہ مراد اِس مطلب کی طرف آگاہی دینا ہے کہ حروف اسماء کا منبع اور خطاب کے مبادی ہیں۔ اچھی مثالیں دینا ایک تکلف اور زحمت ہے جس سے ہم بے نیاز ہیں۔

«2»- مع، معاني الأخبار لي، الأمالي للصدوق يد، التوحيد ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَطَّابِ وَ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام سَأَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَفْسِيرُ أَبْجَدْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله تَعَلَّمُوا تَفْسِيرَ أَبْجَدْ فَإِنَّ فِيهِ الْأَعَاجِيبَ كُلَّهَا وَيْلٌ لِعَالِمٍ جَهِلَ تَفْسِيرَهُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَفْسِيرُ أَبْجَدْ قَالَ أَمَّا الْأَلِفُ فَآلَاءُ اللَّهِ حَرْفٌ مِنْ أَسْمَائِهِ وَ أَمَّا الْبَاءُ فَبَهْجَةُ اللَّهِ وَ أَمَّا الْجِيمُ فَجَنَّةُ اللَّهِ وَ جَلَالُ اللَّهِ وَ جَمَالُهُ وَ أَمَّا الدَّالُ فَدِينُ اللَّهِ وَ أَمَّا هَوَّزْ فَالْهَاءُ هَاءُ الْهَاوِيَةِ فَوَيْلٌ لِمَنْ هَوَى فِي النَّارِ وَ أَمَّا الْوَاوُ فَوَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ وَ أَمَّا الزَّايُ فَزَاوِيَةٌ فِي النَّارِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِمَّا فِي الزَّاوِيَةِ يَعْنِي زَوَايَا جَهَنَّمَ وَ أَمَّا حُطِّي فَالْحَاءُ حُطُوطُ الْخَطَايَا عَنِ الْمُسْتَغْفِرِينَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَ مَا نَزَلَ بِهِ جَبْرَئِيلُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَطْلَعِ الْفَجْرِ وَ أَمَّا الطَّاءُ فَطُوبَى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَآبٍ وَ هِيَ شَجَرَةٌ غَرَسَهَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ نَفَخَ فِيهَا مِنْ رُوحِهِ وَ إِنَّ أَغْصَانَهَا لَتُرَى مِنْ وَرَاءِ سُورِ الْجَنَّةِ تَنْبُتُ بِالْحُلِيِّ وَ الْحُلَلِ مُتَدَلِّيَةً عَلَى أَفْوَاهِهِمْ وَ أَمَّا الْيَاءُ فَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ خَلْقِهِ سُبْحانَهُ وَ تَعالى عَمَّا يُشْرِكُونَ وَ أَمَّا كَلَمَنْ فَالْكَافُ كَلَامُ اللَّهِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَ لَنْ تَجِدَ

معانی الأخبار، امالیِ صدوق، توحید: عثمان بن عفان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے پوچھا: ابجد کی تفسیر کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: ابجد کی تفسیر سیکھو کہ تمام عجائب اُس میں ہیں۔ افسوس اُس عالم پر جو ابجد کی تفسیر نہ جانے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ابجد کی تفسیر کیا ہے؟ فرمایا: «الف» خدا کی آلاء ہیں اور اُس کے اسماء میں سے ایک حرف ہے، «باء» خدا کی بہجت ہے، «ج» خدا کی جنت اور جلال و جمال ہے، «د» خدا کا دین ہے۔ «ہوزہ» ہاویہ ہے؛ افسوس اُس پر جو آگ میں گرے اور افسوس اہلِ دوزخ پر، «ز» دوزخ میں ایک زاویہ ہے اور خدا کی پناہ اُس سے جو زاویے میں ہے یعنی دوزخ کے گوشوں میں۔ «حطی»: «ح» شبِ قدر میں استغفار کرنے والوں سے گناہ کا جھڑ جانا ہے اور وہ جو جبرئیل فرشتوں کے ساتھ صبحِ صادق تک اتارتے ہیں، «ط» اُن کے لیے طوبیٰ اور خوش انجامی ہے، اور وہ ایک درخت ہے جسے خدا نے لگایا اور اُس میں اپنی روح سے پھونکا اور اُس کی شاخیں بہشت کی دیوار کے پیچھے سے نمایاں ہیں۔ وہ زیور اور لباس اگاتا ہے اور بہشتیوں کے منہ کی طرف جھکا ہوا ہے، «ی» یداللہ ہے جو اُس کی ساری مخلوق کے اوپر ہے، «سُبْحانَهُ وَ تَعالی عَمَّا یُشْرِکُونَ»۔ «کلمن»: «کاف» خدا کا کلام ہے کہ خدا کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں