عِنْدَكُمْ بِالْعِرَاقِ وَ لَكُمْ بِهِ خَبَرٌ قَالَ فَأَطْرَاهُ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَ قَالَ قَوْلًا عَظِيماً فَقَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَإِنَّ عَلِيّاً عليه السلام أَبَى أَنْ يُدْخِلَ فِي دِينِ اللَّهِ الرَّأْيَ وَ أَنْ يَقُولَ فِي شَيْ ءٍ مِنْ دِينِ اللَّهِ بِالرَّأْيِ وَ الْمَقَايِيسِ فَقَالَ أَبُو سَاسَانَ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ لِي يَا أَبَا سَاسَانَ لَمْ يَدَعْنِي صَاحِبُكُمْ ابْنُ شُبْرُمَةَ حَتَّى أَجَبْتُهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ عَلِمَ ابْنُ شُبْرُمَةَ مِنْ أَيْنَ هَلَكَ النَّاسُ مَا دَانَ بِالْمَقَايِيسِ وَ لَا عَمِلَ بِهَا.
جو عراق میں تھے اور تم اُنہیں پہچانتے تھے، کیسے آدمی تھے؟ ابن شبرمہ نے علی کی مدح میں بہت مبالغہ کیا اور حد سے گزر گیا۔ حضرت نے فرمایا: علی علیہ السلام اِس سے انکار کرتے تھے کہ دینِ خدا میں قیاس داخل کریں، اور اِسی طرح آپ اِس سے امتناع فرماتے تھے کہ احکامِ دینی کا کوئی مسئلہ رائے و قیاس سے کہیں اور اُس سے حکم کریں۔ ابو ساسان کہتے ہیں: میں رات کو امام صادق علیہ السلام کے پاس گیا۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا: ابن شبرمہ نے مجھے نہ چھوڑا یہاں تک کہ میں نے اُس کا جواب دیا، اور اگر ابن شبرمہ جانتا کہ لوگ کس راہ سے ہلاک ہوتے ہیں تو قیاس کو مشروع نہ جانتا اور اُس پر عمل نہ کرتا۔
بيان: الإطراء مجاوزة الحد في المدح.
«الاطراء»: مدح و ستائش میں حد سے زیادہ تجاوز کرنے کو کہتے ہیں۔
«78»- سن، المحاسن ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ بِدْعَةٍ تَكُونُ بَعْدِي يُكَادُ بِهَا الْإِيمَانُ وَلِيّاً مِنْ أَهْلِ بَيْتِي مُوَكَّلًا بِهِ يَذُبُّ عَنْهُ يَنْطِقُ بِإِلْهَامٍ مِنَ اللَّهِ وَ يُعْلِنُ الْحَقَّ وَ يُنَوِّرُهُ وَ يَرُدُّ كَيْدَ الْكَائِدِينَ وَ يُعَبِّرُ عَنِ الضُّعَفَاءِ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ وَ تَوَكَّلُوا عَلَى اللَّهِ.
معاویۃ بن وہب کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: خدا کے لیے ہر اُس بدعت کے سامنے جو میرے بعد آئے اور ایمان کے زوال کا موجب ہو، میرے اہلِ بیت میں سے ایک سرپرست اور نمائندہ ہے جو دین و ایمان کا دفاع کرتا ہے۔ وہ خدا کے الہام سے بات کرتا ہے، حق کو آشکار کرتا ہے، فریب کاروں کے فریب کو رد کرتا ہے اور اُن لوگوں کی طرف سے بات کرتا ہے جو دین کے دفاع سے عاجز ہیں۔
بيان: قوله يكاد من الكيد بمعنى المكر و الخدعة و الحرب و يحتمل أن يكون المراد أن يزول بها الإيمان و قوله عليه السلام و يعبر عن الضعفاء أي يتكلم من جانب الضعفاء العاجزين عن دفع الفتن و الشبه الحادثة في الدين.
«یکاد» مادۂ کید سے بمعنی مکر و فریب و جنگ ہے اور احتمال ہے کہ مراد وہ چیز ہو جس کے واسطے سے ایمان زائل ہوتا ہے۔ «ویعبر عن الضعفاء» یعنی اُن کمزوروں کی طرف سے بات کرتا ہے جو دین میں پیدا ہونے والے فتنوں اور شبہوں کے دفع سے عاجز ہیں۔
«79»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام لَا رَأْيَ فِي الدِّينِ.
المحاسن: طلحۃ بن زید امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: علی علیہ السلام نے فرمایا: دین میں رائے اور قیاس موجود نہیں۔
«80»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ فَضَالَةَ عَنْ أَبَانٍ الْأَحْمَرِ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ أَصْحَابَ الْمَقَايِيسِ طَلَبُوا الْعِلْمَ بِالْمَقَايِيسِ فَلَمْ تَزِدْهُمُ الْمَقَايِيسُ مِنَ الْحَقِّ إِلَّا بُعْداً وَ إِنَّ دِينَ اللَّهِ لَا يُصَابُ بِالْمَقَايِيسِ.
المحاسن: ابن شیبہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ فرما رہے تھے: اصحابِ قیاس علم کو قیاس کی راہ سے تلاش کرتے ہیں، اور اِس کام کا حق سے دوری کے سوا کوئی نتیجہ نہیں، کیونکہ دینِ خدا میں قیاس نہیں کیا جاتا۔
«81»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لِأَبِي حَنِيفَةَ وَيْحَكَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ فَلَمَّا أَمَرَهُ بِالسُّجُودِ لآِدَمَ قَالَ خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ
المحاسن: حماد بن عیسیٰ اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے ابوحنیفہ سے فرمایا: افسوس تم پر! پہلا قیاس کرنے والا ابلیس تھا کہ جب اُسے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اُس نے کہا: «خَلَقْتَنِی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِینٍ» {تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے پیدا کیا۔}
«82»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام النَّاسَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ وَ أَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ يُخَالَفُ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ يُقَلِّدُ فِيهَا رِجَالٌ رِجَالًا وَ لَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ
المحاسن: محمد بن مسلم امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے اپنی تقریر میں فرمایا: اے لوگو! فتنوں کا آغاز ہوائے نفس کی پیروی اور احکام میں ایسی بدعت ہے جو کتابِ خدا کے مخالف ہو۔ لوگ ایک دوسرے کی تقلید کرتے ہیں۔