Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 311

فقلت له أما قول اللّٰه فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصارِ فليس لك حجة على موضع القياس لأن اللّٰه تعالى ذكر أمر اليهود و جنايتهم على أنفسهم في تخريب بيوتهم بأيديهم و أيدي المؤمنين ما يستدل به على حقية رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه و آله و أن اللّٰه تعالى أمده بالتوفيق و نصره و خذل عدوه و أمر الناس باعتبار ذلك ليزدادوا بصيرة في الإيمان و ليس هذا بقياس في المشروعات و لا فيه أمر بالتعويل على الظنون في استنباط الأحكام.

میں نے اُس کے جواب میں کہا: رہا خدائے عزوجل کا قول: «فَاعْتَبِرُوا یا أُولِی الْأَبْصارِ» {پس اے دیدہ ورو! عبرت لو۔} تو وہ قیاس کے بارے میں تمہارے لیے کوئی حجت نہیں؛ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہود کے حال اور اُن کے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور مؤمنوں کے ہاتھوں ویران کرنے میں خود پر جنایت کی خبر دی، اور یہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی حقانیت کی دلیل ہے اور اِس کی کہ خداوند نے اُنہیں توفیق دی اور یاری کی اور اُن کے دشمن کو سرکوب کیا، اور لوگوں سے فرمایا کہ اُس سے عبرت لیں تاکہ ایمان میں اُن کی بینائی بڑھے۔ اور اِس کا احکامِ شرعیہ میں قیاس سے کوئی تعلق نہیں اور یہ احکام کے استنباط میں ظن پر اعتبار و اعتماد کی دلیل نہیں۔

و أما قوله سبحانه يَحْكُمُ بِهِ ذَوا عَدْلٍ مِنْكُمْ ليس فيه أن العدلين يحكمان في جزاء الصيد بالقياس و إنما تعبد اللّٰه عباده بإنفاذ الحكم في الجزاء عند حكم العدلين بما علماه من نص اللّٰه تعالى و لو كان حكمهما قياسا لكانا إذا حكما في جزاء النعامة بالبدنة قد قاسا مع وجود النص بذلك فيجب أن يتأمل هذا.

اور رہا یہ کہ خدا نے فرمایا: «فَجَزاءٌ مِثْلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِهِ ذَوا عَدْلٍ مِنْکُمْ» {اور تم میں سے جو کوئی جان بوجھ کر اُسے مارے، اُسے چاہیے کہ جو اُس نے مارا اُس کی مانند چوپایوں میں سے کفارہ دے، جس [کی مانند ہونے] کی تصدیق تم میں سے دو عادل کریں۔} تو یہ دلالت نہیں کرتا کہ دو عادل کفارۂ صید میں قیاس سے حکم کرتے ہیں؛ اور اِس کے سوا کچھ نہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ کفارے کا حکم دو عادلوں کے حکم سے نافذ کریں جو اُسے نصِ خدائے تعالیٰ سے جانتے ہوں؛ اور اگر اُن دونوں کا حکم قیاس سے ہوتا تو چونکہ شتر مرغ کے صید کے کفارے میں وہ ایک اونٹ کا حکم دیتے، اُنہیں قیاس کرنا پڑتا؛ جبکہ اُس کا حکم نصِ خبر میں وارد ہوا ہے۔ پس اُس میں غور کرنا چاہیے۔

و أما الخبران اللذان أوردتهما فهما من أخبار الآحاد التي لا تثبت بهما الأصول المعلومة في العبادات على أن رواة خبر معاذ مجهولون و هم في لفظه أيضا مختلفون فمنهم

اور رہیں وہ دو خبریں جو تم لائے، وہ اخبارِ آحاد میں سے ہیں جو عبادات میں اصولِ معلومہ کے بارے میں اعتبار نہیں رکھتیں اور اُن پر اعتماد نہیں کیا جاتا؛ اِس کے علاوہ خبرِ معاذ کی سند کے رجال مجہول اور ناشناختہ ہیں اور اُس کے متن میں بھی اختلاف رکھتے ہیں

رَوَى أَنَّهُ لَمَّا قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي قَالَ لَهُ عليه السلام لَا اكْتُبْ إِلَيَّ أَكْتُبْ إِلَيْكَ.

اور بعض نے روایت کی کہ جب معاذ نے کہا: اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، تو حضرت نے فرمایا: مجھے پسند نہیں۔ مجھے لکھو تاکہ میں تمہیں جواب لکھوں۔

و لو سلمنا صيغة الخبر على ما ذكرت لاحتمل أن يكون معنى أجتهد رأيي أني أجتهد حتى أجد حكم اللّٰه تعالى في الحادثة من الكتاب و السنة.

اور اگر خبر کا لفظ بھی قبول کر لیں تو ہو سکتا ہے مقصود یہ ہو کہ میں اپنی فکر سے کوشش کروں گا کہ اُس حادثے کا حکم قرآن سے یا سنت سے حاصل کروں۔

و أما رواية الحسن عليه السلام ففيه تصحيف ممن رواه و الخبر المعروف

اور رہا وہ جو تم نے حسن بن علی علیہما السلام سے امیر المؤمنین علیہ السلام کے حکم کی سند کے بارے میں روایت کیا، وہ تصحیف کا شکار ہے، اور خبر کے متن میں معروف یہ ہے

أَنَّهُ قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئاً فِي السُّنَّةِ زَجَرَ فَأَصَابَ.

کہ آپ نے فرمایا: اگر سنت میں کچھ نہ ہو تو قرعہ ڈالتے اور درست دریافت کرتے،

يعني بذلك القرعة بالسهام و هو مأخوذ من الزجر و الفال و القرعة عندنا من الأحكام المنصوص عليها و ليست بداخلة في القياس و الآيات و الأخبار دالة على نفيه١ قال اللّٰه تعالى وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ ٢» لسنا نشك أن الحكم بالقياس حكم بغير التنزيل و قال سبحانه وَ لا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هذا حَلالٌ وَ هذا حَرامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ٣و مستخرج الحكم في الحادثة بالقياس لا يصح أن يضيفه إلى اللّٰه و لا إلی رسوله و إذا لم يصح إضافته إليهما فإنما هو مضاف إلى القائس و هو المحلل و المحرم في الشرع من عنده و كذب

اور اُس سے اُن کا مقصود تیروں سے قرعہ ہے، اور قرعہ ہمارے نزدیک احکامِ شرعیہ میں سے ہے جس پر نص وارد ہوئی ہے اور وہ بابِ قیاس سے نہیں۔ اور تم پر روشن ہو گیا کہ اُن آیات و اخبار میں جو تم لائے، تمہارے دعوے کی کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ قیاس کے بطلان اور اُس سے منع پر قرآن اور صحیح اخبار سے دلائل بہت ہیں: خدائے عزوجل نے فرمایا: «وَ مَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِکَ هُمُ الْکافِرُونَ» {اور جن لوگوں نے اُس کے مطابق فیصلہ نہ کیا جو خدا نے نازل کیا، وہی کافر ہیں۔} اور ہمیں کوئی شک نہیں کہ قیاس سے حکم کرنا «ما انزل اللہ» کے خلاف حکم ہے۔

(١)1- تقدم روايات في حكاية ذلك عن عليّ عليه السلام في باب أنهم عليهم السلام عندهم مواد العلم.اِس کے حکایت میں علی علیہ السلام سے روایات اُس باب میں گزریں کہ «علم کے مواد اُن علیہم السلام کے پاس ہیں»۔
(٢)2- المائدة: 44.المائدۃ: ۴۴۔
(٣)3- النحل: 116النحل: ۱۱۶۔