«73»- كش، رجال الكشي جَبْرَئِيلُ بْنُ أَحْمَدَ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْقَصِيرِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام ائْتِ زُرَارَةَ وَ بُرَيْداً وَ قُلْ لَهُمَا مَا هَذِهِ الْبِدْعَةُ أَ مَا عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي أَخَافُ مِنْهُمَا فَأَرْسَلَ مَعِي لَيْثَ الْمُرَادِيِّ فَأَتَيْنَا زُرَارَةَ فَقُلْنَا لَهُ مَا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ وَ اللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِيَ الِاسْتِطَاعَةَ وَ مَا شَعَرَ وَ أَمَّا بُرَيْدٌ فَقَالَ وَ اللَّهِ لَا أَرْجِعُ عَنْهَا أَبَداً.
رجالِ کشی: عبدالرحیم قصیر کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جاؤ اور زرارہ اور برید سے کہو: یہ بدعت کیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے؟ میں نے عرض کیا: میں اُن سے ڈرتا ہوں۔ حضرت نے لیث مرادی کو میرے ساتھ بھیجا۔ ہم نے حضرت کا پیغام اُن دونوں کو پہنچایا۔ زرارہ نے کہا: خدا کی قسم! ناخودآگاہ مجھے استطاعت دے دی۔ مگر برید نے کہا: اپنی نظر میں میں ہرگز نہ پلٹوں گا۔
بيان: كان بدعتهما في القول بالاستطاعة و سيأتي تحقيقها.
اُن کی بدعت «استطاعت» کے موضوع کے بارے میں تھی جس کی تحقیق عنقریب آتی ہے۔
«74»- ختص، الإختصاص عَلَاءٌ ١ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام ٢ يَقُولُ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِطَاعَةِ مَنْ يَعْصِي اللَّهَ وَ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِفِرْيَةِ بَاطِلٍ عَلَى اللَّهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِجُحُودِ شَيْ ءٍ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ.
اختصاص: محمد کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا کہ فرمایا: وہ دین نہیں رکھتا جو کسی معصیت کار شخص کی اطاعت سے دین داری کرے۔ وہ دین نہیں رکھتا جو خدا پر جھوٹ اور باطل سے دین داری کرے۔ وہ دین نہیں رکھتا جو خدا کی کسی نشانی کے انکار سے دین داری کرے۔
أقول: قال أبو الفتح الكراجكي في كنز الفوائد بعد إقامة الدلائل على مخاصم كان يجوز القياس في الشرعيات و لو فرضنا جواز تكليف العباد بالقياس في السمعيات لم يكن بد من ورود السمع بذلك إما في القرآن أو في صحيح الأخبار و في خلو السمع من تعلق التكليف به دلالة على أن اللّٰه تعالى لم يكلف خلقه به قال فإنا نجد ذلك في آيات القرآن و صحيح الأخبار قال اللّٰه عز و جل فَاعْتَبِرُوا يا أُولِي الْأَبْصارِ ٣ فأوجب الاعتبار و هو الاستدلال و القياس و قال فَجَزاءٌ مِثْلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوا عَدْلٍ مِنْكُمْ ٤ فأوجب بالمماثلة المقايسة
مؤلف: ابوالفتح کراجکی «کنز الفوائد» میں ایک ایسے مخالف پر دلائل قائم کرنے کے بعد جو قیاس کو شرعیات میں جائز سمجھتا تھا، کہتے ہیں: اگر ہم فرض کریں کہ بندے قیاس اور اُس پر عمل کے مکلف ہوئے ہیں تو ضرور تھا کہ اِس موضوع پر قرآنِ مجید یا صحیح اخبار سے کوئی قطعی شرعی دلیل موجود ہوتی۔ اور یہی قیاس پر عمل کے جواز پر سمعی دلیل کا نہ ہونا اِس مسئلے کی دلیل ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اُس کا مکلف نہیں کیا۔ اُس مخالف شخص نے جواب میں کہا: ہمارے پاس قیاس پر عمل کے جواز کے بارے میں آیتِ قرآن بھی ہے اور صحیح اخبار بھی: خداوند عزوجل نے فرمایا: «فَاعْتَبِرُوا یا أُولِی الْأَبْصارِ» {پس اے دیدہ ورو! عبرت لو۔} اور اِس آیت میں عبرت لینے کو واجب کیا اور مقصود وہی قیاس سے استدلال ہے۔ اور پھر فرمایا: «فَجَزاءٌ مِثْلُ ما قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِهِ ذَوا عَدْلٍ مِنْکُمْ» {اور تم میں سے جو کوئی جان بوجھ کر اُسے مارے، اُسے چاہیے کہ جو اُس نے مارا اُس کی مانند چوپایوں میں سے کفارہ دے، جس [کی مانند ہونے] کی تصدیق تم میں سے دو عادل کریں۔} اور کفارے کی ہم مانندی کو حکمِ قیاس سے لازم جانا، اور یہ آیت قیاس کے حجت ہونے کے لیے ہے۔ اور رہی وہ روایت جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے نقل ہوئی: جب معاذ کو یمن کی طرف بھیجا (کہ وہاں کے امیر ہوں) تو اُن سے فرمایا: کس سند سے حکم کرو گے؟ جواب دیا: قرآنِ مجید سے جو کتابِ خدا ہے۔ فرمایا: اگر حکم کتابِ خدا میں نہ پاؤ؟ جواب دیا: سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے اور اُس حکم کے مطابق جو آپ نے کیا۔ فرمایا: اگر سنتِ رسولِ خدا میں بھی نہ پاؤ؟ کہا: اپنے اجتہاد سے کہ اپنی رائے نکالوں اور قضاوت کروں۔
وَ رُوِیَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى اللّٰه عليه و آله لَمَّا أَرْسَلَ مَعَاذاً إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ بِمَا ذَا تَقْضِي قَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ أَجْتَهِدُ رَأْيِي فَقَالَ صلى اللّٰه عليه و آله الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يَرْضَاهُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ.
آپ نے فرمایا: سپاس خدا کا جس نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرستادے کو اُس چیز کی توفیق دی جو خدا اور اُس کے رسول کی پسند ہے۔
وَ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عليهما السلام أَنَّهُ سُئِلَ فَقِيلَ بِمَا ذَا كَانَ يَحْكُمُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ رَجَمَ فَأَصَابَ.
اور حسن بن علی علیہما السلام سے روایت ہے کہ اُن سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین علیہ السلام کس سند سے حکم کرتے تھے؟ فرمایا: کتابِ خدا سے، اور اگر نہ پاتے تو سنتِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اور اگر نہ پاتے تو رائے دیتے اور اُن کی رائے درست ہوتی اور حق تک پہنچتی۔
فهذا كله دليل على صحة القياس و الأخذ بالاجتهاد و الظن و الرأي
اور یہ سب قیاس کی صحت اور اجتہاد و ظن و رائے کو لینے کی دلیل ہیں۔