Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 309

عُثْمَانَ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا زُرَارَةُ إِيَّاكَ وَ أَصْحَابَ الْقِيَاسِ فِي الدِّينِ فَإِنَّهُمْ تَرَكُوا عِلْمَ مَا وُكِّلُوا بِهِ ١ وَ تَكَلَّفُوا مَا قَدْ كُفُوهُ يَتَأَوَّلُونَ الْأَخْبَارَ وَ يَكْذِبُونَ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كَأَنِّي بِالرَّجُلِ مِنْهُمْ يُنَادَى مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَدْ تَاهُوا وَ تَحَيَّرُوا فِي الْأَرْضِ وَ الدِّينِ.

زرارہ کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: دین میں اصحابِ قیاس سے دوری کرو، کیونکہ اُنہوں نے اُس علم کو ترک کیا جو اُن کے سپرد کیا گیا تھا اور خود کو اُس چیز کی وجہ سے زحمت میں ڈالا جو اُن سے روکی گئی تھی۔ وہ احادیث کی تاویل کرتے ہیں اور خدائے عزوجل پر جھوٹ باندھتے ہیں، گویا کوئی شخص اُن کے آگے سے پکار رہا ہو؛ وہ زمین اور دینِ خدا میں حیران و سرگرداں ہو گئے۔

«70»- جا، المجالس للمفيد الصَّدُوقُ عَنِ ابْنِ الْمُتَوَكِّلِ عَنِ السَّعْدَآبَادِيِّ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ أَصْحَابَ الْقِيَاسِ فَإِنَّهُمْ غَيَّرُوا كَلَامَ اللَّهِ وَ سُنَّةَ رَسُولِهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ اتَّهَمُوا الصَّادِقِينَ عليهم السلام فِي دِينِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ٢

مجالسِ مفید: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا اصحابِ قیاس پر لعنت کرے، کیونکہ اُنہوں نے خدا اور رسولِ خدا کے کلام کو بدل دیا اور دینِ خدا میں راست گویوں کو متہم کیا۔

«71»- جا، المجالس للمفيد أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله الْمِنْبَرَ فَتَغَيَّرَتْ وَجْنَتَاهُ وَ الْتُمِعَ لَوْنُهُ ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ ثُمَّ ضَمَّ السَّبَّاحَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ وَ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا أَلَا وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ أَلَا وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ فَفِي النَّارِ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَ لِوَرَثَتِهِ وَ مَنْ تَرَكَ كَلًّا أَوْ ضَيَاعاً فَعَلَيَّ وَ إِلَیَّ ٣.

مجالسِ مفید: منصور بن ابی یحییٰ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ منبر پر تشریف لائے اور جبکہ اُن کے چہرے سے رنگ اڑا ہوا تھا، لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: اے مسلمانو! میری بعثت اور قیامت میری اِن دو انگلیوں کی مانند ہم راہ ہیں ـ اور اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں ساتھ ساتھ رکھیں۔ پھر فرمایا: اے مسلمانو! بے شک بہترین روش محمد کی روش ہے، اور بہترین گفتار کتابِ خدا ہے، اور بدترین امور نئے اور نوپیدا امور ہیں۔ آگاہ رہو کہ ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کی جگہ آگ میں ہے۔ اے لوگو! جو اپنے بعد کوئی مال چھوڑے، وہ اُس کے اہل اور وارثوں کا ہے؛ اور جو عیال اور نان خور چھوڑ جائے، اُن کی سرپرستی میرے ذمے ہے۔

«72»- كش، رجال الكشي مُحَمَّدُ بْنُ قُولَوَيْهِ عَنْ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمِسْمَعِيِّ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ سِرْحَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنِّي لَأُحَدِّثُ الرَّجُلَ الْحَدِيثَ وَ أَنْهَاهُ عَنِ الْجِدَالِ وَ الْمِرَاءِ فِي دِينِ اللَّهِ وَ أَنْهَاهُ عَنِ الْقِيَاسِ فَيَخْرُجُ مِنْ عِنْدِي فَيُأَوِّلُ حَدِيثِي عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ إِنِّي أَمَرْتُ قَوْماً أَنْ يَتَكَلَّمُوا وَ نَهَيْتُ قَوْماً فَكُلٌّ يُأَوِّلُ لِنَفْسِهِ يُرِيدُ الْمَعْصِيَةَ لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ فَلَوْ سَمِعُوا وَ أَطَاعُوا لَأَوْدَعْتُهُمْ مَا أَوْدَعَ أَبِي أَصْحَابَهُ إِنَّ أَصْحَابَ أَبِي كَانُوا زَيْناً أَحْيَاءً وَ أَمْوَاتاً.

رجالِ کشی: داود بن سرطان کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا کہ فرمایا: میں کسی شخص کو حدیث بیان کرتا ہوں اور اُسے دینِ خدا میں جدال و لجاجت سے نہی کرتا ہوں اور قیاس سے منع کرتا ہوں۔ میرے پاس سے جب وہ نکلتا ہے تو میری حدیث کی غلط تاویل کرتا ہے۔ میں نے ایک گروہ کو بات کرنے کا حکم دیا اور ایک گروہ کو بات کرنے سے روکا، مگر ہر ایک اپنے فائدے میں تاویل کرتا ہے؛ یہ لوگ خدا اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اگر وہ سنیں اور اطاعت کریں تو میں اُنہیں ایک امانت سونپ دوں جو میرے والد نے اصحاب کو سونپی تھی؛ کیونکہ میرے والد کے اصحاب زندگی اور موت میں ہماری زینت تھے۔

(١)1- لعل المراد أنهم تركوا علم ما يجب معرفته أي معرفة الامام و من يجب الرجوع إليه في أمر الدين و تكلفوا ما قد بينوه الأئمّة و من عندهم علم الكتابشاید مراد یہ ہو کہ اُنہوں نے اُس چیز کا جاننا جس کی شناخت واجب ہے ـ یعنی امام کی شناخت اور اُس کی جس کی طرف امرِ دین میں رجوع کرنا چاہیے ـ چھوڑ دیا اور خود کو اُس چیز میں زحمت میں ڈالا جسے امام بیان کر چکے ہیں اور جس کتاب کا علم اُن کے پاس ہے۔
(٢)2- لانهم لم يقبلوا من الصادقين ما يروی عن رسول اللّٰه صلّى اللّٰه عليه و آله. و يلجئون إلی القياس و الرأي زعما عدم ورود النصّ منه صلّى اللّٰه عليه و آلهکیونکہ اُنہوں نے وہ قبول نہ کیا جو صادقین علیہم السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت ہوتا ہے، اور اِس گمان میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سے کوئی نص نہیں پہنچی، قیاس اور رائے کی پناہ لی۔
(٣)3- تقدم الحديث مع شرح ألفاظه في باب البدعة و السنةیہ حدیث اپنے الفاظ کی شرح کے ساتھ بابِ بدعت و سنت میں گزری۔