قَالَ: إِنَّ السُّنَّةَ لَا تُقَاسُ وَ كَيْفَ تُقَاسُ السُّنَّةُ وَ الْحَائِضُ تَقْضِي الصِّيَامَ وَ لَا تَقْضِی الصَّلَاةَ.
سنت قیاس نہیں کی جاتی، ورنہ یہ کیسے ہے کہ حائض عورت روزے کی قضا کرتی ہے مگر نماز کی قضا نہیں کرتی؟
«59»- سن، المحاسن الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى عَنْ جَدِّهِ الْحَسَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي كِتَابِ آدَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام لَا تَقِيسُوا الدِّينَ فَإِنَّ أَمْرَ اللَّهِ لَا يُقَاسُ وَ سَيَأْتِي قَوْمٌ يَقِيسُونَ وَ هُمْ أَعْدَاءُ الدِّينِ.
المحاسن: محمد بن مسلم امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کتاب «آدابِ علی علیہ السلام» میں آیا ہے: دین اور امرِ خدا میں قیاس نہیں کرنا چاہیے، عنقریب «قیاس گرایوں» کا وہ گروہ آئے گا جو دین کے دشمن ہیں۔
«60»- ضا، فقه الرضا عليه السلام أَرْوِي عَنِ الْعَالِمِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَ كُلُّ ضَلَالَةٍ إِلَى النَّارِ ١
فقہ الرضا: امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام آگ ہے۔
«61»- وَ نَرْوِي أَنَّ أَدْنَى الشِّرْكِ أَنْ يَبْتَدِعَ الرَّجُلُ رَأْياً فَيُحِبَّ عَلَيْهِ وَ يُبْغِضَ.
شرک سے سب سے قریب چیز یہ ہے کہ آدمی دین میں کوئی نئی رائے بدعت کے طور پر رکھے اور اُس پر دوستی اور دشمنی کرے۔
«62»- وَ نَرْوِي مَنْ رَدَّ صَاحِبَ بِدْعَةٍ عَنْ بِدْعَتِهِ فَهُوَ سَبِيلٌ مِنْ سُبُلِ اللَّهِ.
بدعت گزار کو اُس کی بدعت سے روکنا خدا کی راہوں میں سے ہے۔
«63»- وَ أَرْوِی مَنْ دَعَا النَّاسَ إِلَى نَفْسِهِ وَ فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ فَهُوَ مُبْتَدِعٌ ضَالٌّ.
جو لوگوں کو اپنی طرف بلائے جبکہ اُن کے درمیان اُس سے زیادہ دانا موجود ہو، وہ بدعت گزار اور گمراہ ہے۔
«64»- وَ نَرْوِي مَنْ طَلَبَ الرِّئَاسَةَ لِنَفْسِهِ هَلَكَ فَإِنَّ الرِّئَاسَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِأَهْلِهَا.
ریاست طلبی ہلاکت کا سبب ہے، کیونکہ ریاست اپنے اہل ہی کے لیے کارساز ہے۔
«65»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ الْمَشِيخَةِ لِابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ عِنْدَنَا بِالْجَزِيرَةِ رَجُلًا رُبَّمَا أَخْبَرَ مَنْ يَأْتِيهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الشَّيْ ءِ يُسْرَقُ أَوْ شِبْهِ ذَلِكَ أَ فَنَسْأَلَهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ مَشَى إِلَى سَاحِرٍ أَوْ كَاهِنٍ أَوْ كَذَّابٍ يُصَدِّقُهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ كِتَابٍ.
سرائر، کتاب المشیخہ سے: ہیثم بن واقد کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: جزیرے میں، جو ہماری رہائش کی جگہ ہے، ایک آدمی ہے جو گمشدہ چیزوں اور اُن کے علاوہ کی خبر دیتا ہے، کیا ہم اُس سے پوچھیں؟ فرمایا: پیغمبر نے فرمایا: جو کسی جادوگر، کاہن یا کذاب کے پاس جائے اور اُن کی تصدیق کرے، وہ کتابِ خدا کا کافر ہو گیا۔
«66»- سر، السرائر مِنْ كِتَابِ الْمَشِيخَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام مَا أَدْنَى النَّصْبِ قَالَ أَنْ تَبْتَدِعَ شَيْئاً فَتُحِبَّ عَلَيْهِ وَ تُبْغِضَ عَلَيْهِ.
سرائر، کتاب المشیخہ سے: ابوحمزہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: شرک سے سب سے قریب چیز کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم کوئی چیز بدعت کے طور پر رکھو اور اُس پر دوستی اور دشمنی کرو۔
«67»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله تَعْمَلُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بُرْهَةً بِالْكِتَابِ وَ بُرْهَةً بِالسُّنَّةِ وَ بُرْهَةً بِالْقِيَاسِ ٢ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ ضَلُّوا.
عوالی اللئالی: پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: یہ امت کچھ مدت کتاب پر اور کچھ مدت سنت پر اور پھر کچھ زمانہ قیاس پر عمل کرے گی، کہ اِس صورت میں وہ گمراہ ہو جائیں گے۔
«68»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله إِيَّاكُمْ وَ أَصْحَابَ الرَّأْيِ فَإِنَّهُمْ أَعْيَتْهُمُ السُّنَنُ أَنْ يَحْفَظُوهَا فَقَالُوا فِي الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ بِرَأْيِهِمْ فَأَحَلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَ حَرَّمُوا مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا.
پیغمبر نے فرمایا: اصحابِ رائے سے پرہیز کرو، کیونکہ وہ سنت کے حفظ سے ناتواں ہیں۔ اپنی رائے سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہیں کہ اِس صورت میں وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والے ہیں۔
«69»- جا، المجالس للمفيد الصَّدُوقُ عَنِ ابْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ
مجالسِ مفید: