Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 307

فَهَا وَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَی فَمِهِ فَقُلْتُ وَ لِمَ ذَاكَ قَالَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَتَى النَّاسَ بِمَا اكْتَفَوْا بِهِ عَلَى عَهْدِهِ وَ مَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ مِنْ بَعْدِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

اُس وقت حضرت نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھا۔ میں نے عرض کیا: کیوں؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہر چیز کا حکم قیامت تک لائے ہیں۔

بيان: الظاهر أن ها حرف تنبيه و وضع اليد على الفم إشارة إلى السكوت و ما قيل من أنه اسم فعل بمعنى خذ و الإشارة لتعيين موضع الأخذ فلا يخفى بعده.

بظاہر «ہاء» حرفِ تنبیہ ہے اور منہ پر ہاتھ رکھنا سکوت کی طرف اشارہ ہے۔ مگر یہ جو بعض نے کہا ہے کہ «ہاء» اسمِ فعل بمعنی «خُذ» ہے اور اشارہ اخذ کی جگہ کے تعین کے لیے ہے، بعید نظر آتا ہے۔

«54»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الطَّيَّارِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام تُخَاصِمُ النَّاسَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَ لَا يَسْأَلُونَكَ عَنْ شَيْ ءٍ إِلَّا قُلْتَ فِيهِ شَيْئاً قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَيْنَ بَابُ الرَّدِّ إِذاً.

المحاسن: محمد بن طیار کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: کیا تم لوگوں سے جدل کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: جو کچھ تم سے پوچھتے ہیں جواب دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: تو پھر بابِ رد کہاں ہے؟

«55»- سن، المحاسن الْبَزَنْطِيُّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِنَا لِأَبِي الْحَسَنِ عليه السلام نَقِيسُ عَلَى الْأَثَرِ نَسْمَعُ الرِّوَايَةَ فَنَقِيسُ عَلَيْهَا فَأَبَى ذَلِكَ وَ قَالَ فَقَدْ رَجَعَ الْأَمْرُ إِذاً إِلَيْهِمْ فَلَيْسَ مَعَهُمْ لِأَحَدٍ أَمْرٌ.

المحاسن: بزنطی کہتے ہیں: ہمارے بعض اصحاب نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا: جو اثر اور روایت ہم سنتے ہیں، کیا اُس پر قیاس بھی کریں؟ امام علیہ السلام نے منع کیا اور فرمایا: اِس صورت میں امور کی بازگشت اہلِ قیاس کی طرف ہو گی اور کوئی دوسرا کچھ بھی نہ ہو گا۔

بيان: ضميرا الجمع راجعان إلى المعصومين عليهم السلام أي يجب إرجاع الأمر إليهم إذا أشكل عليكم إذ ليس لأحد معهم أمر و يحتمل رجوعهما إلى أصحاب القياس بل هو أظهر.

یعنی تمام کام معصومین علیہم السلام کی طرف لوٹتے ہیں اور واجب ہے کہ مشکلات میں اُن کی طرف رجوع کیا جائے؛ کیونکہ اُن کے مقابل کوئی کچھ نہیں۔ اور احتمال ہے کہ حدیث کا معنی یوں ہو: جب تم ہر سوال کا جواب دیتے ہو اور قیاس کرتے ہو، تو اہلِ بیت علیہم السلام کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔

«56»- سن، المحاسن عُثْمَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام عَنِ الْقِيَاسِ فَقَالَ وَ مَا لَكُمْ وَ لِلْقِيَاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُسْأَلُ كَيْفَ أَحَلَّ وَ كَيْفَ حَرَّمَ.

المحاسن: عثمان بن عیسیٰ کہتے ہیں: میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے قیاس کے بارے میں پوچھا؟ فرمایا: تمہیں قیاس سے کیا کام؟ بے شک خدا سے نہیں پوچھا جاتا کہ اُس نے کسی چیز کو حلال و حرام کیوں کیا۔

«57»- سن، المحاسن أَبِی عَنْ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ وَرَقَةُ يَسْأَلُهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنْتُمْ قَوْمٌ تَحْمِلُونَ الْحَلَالَ عَلَى السُّنَّةِ وَ نَحْنُ قَوْمٌ نَتَّبِعُ عَلَى الْأَثَرِ.

المحاسن: محمد بن بشر اسلمی کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا، ورقہ نے آپ سے ایک سوال کیا، امام نے فرمایا: تمہارا گروہ حلال کو سنت پر تحمیل کرتا ہے، مگر ہم پیغمبر کی روایات کے تابع ہیں۔

بيان: قوله عليه السلام تحملون الحلال كذا في النسخ و لعله كان بالخاء المعجمة أي تحملون الخصال و الأحكام على السنة من غير أن يكون فيها أي تقيسون الأشياء بما ورد في السنة و علی المهملة لعل المراد أنكم تحملون الشي ء الحلال الذي لم يرد فيه أمر و لا نهي على ما ورد في السنة فيه أمر أو نهي بالقياس الباطل.

«تحملون الحلال» نسخوں میں ایسا ہی ہے، مگر نسخۂ الخصال میں اور ایک دوسری خبر میں «تخملون الحلال» استعمال ہوا ہے۔ پہلے کی بنا پر اُس کا معنی یہ ہے کہ تم خصلتوں اور احکام کو سنت پر حمل کرتے ہو، جبکہ سنت میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں، اور بہتر تعبیر میں، تم اشیاء کو اُس چیز پر قیاس کرتے ہو جو سنت میں آئی ہے اور یہ کام سنت پر تحمیل ہے؛ اِس بنا پر شاید مراد یہ ہو کہ تم کسی حلال چیز کو جس کے بارے میں امر و نہی نہیں آئی، اُس چیز پر حمل کرتے ہو جس کے بارے میں امر و نہی وارد ہوئی ہے، یعنی قیاس کرتے ہو۔

«58»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ فَضَالَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ بَكْرٍ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع

المحاسن: فضیل کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: