Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 306

مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عليهما السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ فُقِّهْنَا فِي الدِّينِ وَ أَغْنَانَا اللَّهُ بِكُمْ عَنِ النَّاسِ حَتَّى إِنَّ الْجَمَاعَةَ مِنَّا لَيَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ مَا يَسْأَلُ رَجُلٌ صَاحِبَهُ يَحْضُرُهُ الْمَسْأَلَةُ وَ يَحْضُرُهُ جَوَابُهَا مَنّاً مِنَ اللَّهِ عَلَيْنَا بِكُمْ فَرُبَّمَا وَرَدَ عَلَيْنَا الشَّيْ ءُ لَمْ يَأْتِنَا فِيهِ عَنْكَ وَ عَنْ آبَائِكَ شَيْ ءٌ فَنَنْظُرُ إِلَى أَحْسَنِ مَا يَحْضُرُنَا وَ أَوْفَقِ الْأَشْيَاءِ لِمَا جَاءَنَا مِنْكُمْ فَنَأْخُذُ بِهِ فَقَالَ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ فِي ذَلِكَ وَ اللَّهِ هَلَكَ مَنْ هَلَكَ يَا ابْنَ حَكِيمٍ ثُمَّ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ ١ قَالَ عَلِيٌّ وَ قُلْتُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ حَكِيمٍ لِهِشَامِ بْنِ الْحَكَمِ وَ اللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا أَنْ يُرَخِّصَ لِي فِي الْقِيَاسِ ٢.

میں نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! ہم دین میں فقیہ ہیں اور آپ کی برکت سے لوگوں سے بے نیاز ہو گئے ہیں، حتیٰ ہمارے اصحاب جب کسی مجلس میں ہوتے ہیں تو کوئی شخص دوسرے سے سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ مسئلہ اور اُس کا جواب اُس کے پاس حاضر ہوتا ہے، اور یہ ہم پر خدا کا احسان ہے جو آپ کے وجود کی برکت سے ہے۔ بسا اوقات ہم سے کوئی ایسا مسئلہ پوچھا جاتا ہے جس کے بارے میں ہمارے پاس آپ سے اور آپ کے آباء سے کوئی جواب نہیں، تو کیا ہم اُس بہترین چیز کو جو ہمارے پاس ہے اور آپ کی روایات میں سے سب سے زیادہ موافق چیز کو لے کر اُس سے جواب دے سکتے ہیں؟ فرمایا: ہرگز! ہرگز! خدا کی قسم یہ ہلاکت کا سبب ہے۔ خدا ابوحنیفہ پر لعنت کرے جو کہتا تھا: علی نے یوں کہا اور میں یوں کہتا ہوں۔ ـ محمد بن حکیم نے ہشام بن حکم سے کہا: خدا کی قسم! میں امام سے قیاس کی اجازت لینا چاہتا تھا۔ ـ

بيان: قوله ما يسأل رجل صاحبه في بعض النسخ إلا يحضره و هو ظاهر و في أكثر النسخ يحضره بغير أداة الاستثناء فتكون كلمة ما نافية أيضا أي لا يحتاج أحد من أهل المجلس أن يسأل صاحبه عن مسألة و جملة يحضره مستأنفة أو موصولة و هي مع صلتها مبتدأ و قوله يحضره خبر أو الجملة استئنافية أو صفة للمجلس و الأول أظهر.

راوی کا یہ کہنا کہ «کوئی آدمی اپنے ساتھی سے نہیں پوچھتا» بعض نسخوں میں «الا یحضرہ» آیا ہے؛ یعنی مگر یہ کہ وہ اُسے حضورِ ذہن میں ہو، اور یہ مطلب ظاہر ہے۔ بیشتر نسخوں میں لفظ «یحضرہ» بغیر اداتِ استثنا کے آیا ہے اور «ما یسأل رجل صاحبہ» میں کلمۂ «ما» بھی نافیہ ہے اور اُس کا مفہوم یہ ہے کہ: اہلِ مجلس میں سے کسی کو ضرورت نہیں کہ اپنے دوست سے مسئلہ پوچھے (کیونکہ وہ جانتا ہے)۔ ادبی لحاظ سے اِس عبارت میں چند احتمال موجود ہیں: ۱۔ جملۂ «یحضرہ» مستأنفہ ہو؛ ۲۔ جملۂ «ما یسأل…» صلہ اور موصول دونوں مل کر مبتدا، اور جملۂ «یحضرہ» اُس کی خبر ہو؛ ۳۔ جملۂ «ما یسأل…» میں استثنا ہو؛ ۴۔ «ما یسأل…» مجلس کی صفت ہو۔ اور اِن چار احتمالات میں سے پہلا اظہر ہے۔

«52»- سن، المحاسن الْوَشَّاءُ عَنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَرِدُ عَلَيْنَا أَشْيَاءُ لَيْسَ نَعْرِفُهَا فِي كِتَابٍ وَ لَا سُنَّةٍ فَنَنْظُرُ فِيهَا ٣ فَقَالَ لَا أَمَا إِنَّكَ إِنْ أَصَبْتَ لَمْ تُؤْجَرْ وَ إِنْ كَانَ خَطَأً كَذَبْتَ عَلَى اللَّهِ.

المحاسن: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ہم سے ایسے سوالات ہوتے ہیں جن کا جواب ہم کتاب و سنت سے نہیں دے سکتے، کیا ہم قیاس اور ذاتی نظر سے جواب دے سکتے ہیں؟ فرمایا: نہیں! کیونکہ اگر تم واقع تک پہنچ جاؤ تو تمہارا کوئی اجر نہیں اور اگر غلط ہو تو تم نے خدا پر جھوٹ باندھا۔

سن، المحاسن ابن محبوب أو غيره عن المثنى مثله.

المحاسن: مثنیٰ نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔

«53»- سن، المحاسن أَبِي عَنِ النَّضْرِ عَنْ دُرُسْتَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ عليه السلام إِنَّا نَتَلَاقَى فِيمَا بَيْنَنَا فَلَا يَكَادُ يَرِدُ عَلَيْنَا إِلَّا وَ عِنْدَنَا فِيهِ شَيْ ءٌ وَ ذَلِكَ شَيْ ءٌ أَنْعَمَ اللَّهُ بِهِ عَلَيْنَا بِكُمْ وَ قَدْ يَرِدُ عَلَيْنَا الشَّيْ ءُ وَ لَيْسَ عِنْدَنَا فِيهِ شَيْ ءٌ وَ عِنْدَنَا مَا يُشْبِهُهُ فَنَقِيسُ عَلَى أَحْسَنِهِ فَقَالَ لَا وَ مَا لَكُمْ وَ لِلْقِيَاسِ ثُمَّ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا فُلَانٍ كَانَ يَقُولُ قَالَ عَلِيٌّ عليه السلام وَ قُلْتُ وَ قَالَ الصَّحَابَةُ وَ قُلْتُ ثُمَّ قَالَ لِي أَ كُنْتَ تَجْلِسُ إِلَيْهِ قُلْتُ لَا وَ لَكِنْ هَذَا قَوْلُهُ فَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ عليه السلام إِذَا جَاءَكُمْ مَا تَعْلَمُونَ فَقُولُوا وَ إِذَا جَاءَكُمْ مَا لَا تَعْلَمُونَ

المحاسن: محمد بن حکیم کہتے ہیں: میں نے امام کاظم علیہ السلام سے عرض کیا: ہماری آپس میں ملاقات ہوتی ہے۔ ہم سے ہونے والے بہت سے سوالات کا جواب ہم آپ کے وجود کی برکت سے دیتے ہیں، مگر بعض سوالات کے جواب میں ہمارے پاس جواب نہیں ہوتا البتہ اُس کے مشابہ ہمارے پاس موجود ہوتا ہے، کیا ہم اُن میں سے بہترین پر قیاس کر سکتے ہیں؟ فرمایا: نہیں! تمہیں قیاس سے کیا کام؟ خدا ابو فلاں پر لعنت کرے جو کہتا تھا: علی نے یوں کہا اور میں یوں کہتا ہوں اور صحابہ نے یوں کہا اور میں یوں کہتا ہوں۔ کیا تم اُس کے پاس جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں! مگر جانتا ہوں کہ وہ ایسا کہتا ہے۔ فرمایا: اگر جانتے ہو تو جواب دو؛ اور اگر نہیں تو خاموش رہو۔

(١)1- و في نسخة: كان يقولاور ایک نسخے میں: «کان یقول»۔
(٢)2- الظاهر اتّحاده مع ما يأتي تحت الرقم 54بظاہر وہ اُس کے ساتھ ایک ہی ہے جو نمبر ۵۴ کے تحت آتا ہے۔
(٣)3- أي برأينا و قياسنایعنی ہماری رائے اور قیاس سے۔