Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 305

ختص، الإختصاص ابن عيسى عن الحسن بن فضال مثله بيان قوله لم تقول ذلك لعل مراده به أن هذا يضيق الأمر على الناس فأجاب عليه السلام بأنه لا إشكال فيه إذ ما من شي ء إلا و قد ورد فيه كتاب أو سنة أو مراده السؤال عن علة عدم جواز القياس فأجاب عليه السلام بأنه لا حاجة إليه أو يصير سببا لمخالفة ما ورد في الكتاب و السنة و يؤيد الثاني ما في الإختصاص فقلت له لم لا يقبل ذلك ١

اختصاص: حسن بن فضال نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔ راوی کی مراد شاید یہ ہو کہ اگر نص نہ ہو اور قیاس بھی جائز نہ ہو تو لوگوں پر کام تنگ ہو جاتا ہے۔ امام نے جواب دیا: ہر چیز کتاب و سنت میں ہے۔ یا راوی کی مراد یہ ہو کہ قیاس کیوں جائز نہیں؟ امام جواب دیتے ہیں: قیاس کی ضرورت نہیں، یا یہ کہ قیاس کتاب و سنت کی مخالفت کا سبب بنتا ہے، اور یہی معنی روایتِ اختصاص میں موردِ تائید ہے۔

«48»- ختص، الإختصاص ير، بصائر الدرجات السِّنْدِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ تَفَقَّهْنَا فِي الدِّينِ وَ رُوِّينَا وَ رُبَّمَا وَرَدَ عَلَيْنَا رَجُلٌ قَدِ ابْتُلِيَ بِشَيْ ءٍ صَغِيرٍ الَّذِي مَا عِنْدَنَا فِيهِ بِعَيْنِهِ شَيْ ءٌ وَ عِنْدَنَا مَا هُوَ يُشْبِهُ مِثْلَهُ أَ فَنُفْتِيهِ بِمَا يُشْبِهُهُ قَالَ لَا وَ مَا لَكُمْ وَ الْقِيَاسَ فِي ذَلِكَ هَلَكَ مَنْ هَلَكَ بِالْقِيَاسِ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بِمَا يَكْتَفُونَ بِهِ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بِمَا اسْتَغْنَوْا بِهِ فِي عَهْدِهِ وَ بِمَا يَكْتَفُونَ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ قُلْتُ ضَاعَ مِنْهُ شَيْ ءٌ قَالَ لَا هُوَ عِنْدَ أَهْلِهِ.

اختصاص، بصائر الدرجات: محمد بن حکیم کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن علیہ السلام سے عرض کیا: ہم دین میں فقیہ ہیں اور ہمارے لیے روایت ہوئی ہے، بسا اوقات کوئی شخص جزئی مسائل پوچھتا ہے اور ہمارے پاس اُس کا جواب بعینہٖ نہیں ہوتا، مگر اُس کے مشابہ موجود ہوتا ہے، کیا ہم جواب دے سکتے ہیں؟ فرمایا: تمہیں اُس قیاس سے کیا کام جو ہلاکت کا سبب بنے؟ پیغمبر نے ہر چیز قیامت تک بیان کی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا پیغمبر کے احکام میں سے کچھ ضائع ہوا؟ فرمایا: نہیں، وہ اپنے اہل کے پاس ہے۔

بيان: لعل قوله بالقياس بيان لقوله في ذلك و يحتمل أن يكون في ذلك متعلقا بالقياس و ليس في الإختصاص قوله بالقياس.

شاید «بالقیاس» سے مراد آپ کے قول کا بیان ہو اور احتمال ہے کہ «فی ذلک» قیاس سے متعلق ہو۔ اور نسخۂ اختصاص میں «بالقیاس» موجود نہیں۔

«49»- سن، المحاسن ابْنُ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِي الْمَغْرَاءِ عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ عليه السلام إِنَّ عِنْدَنَا مَنْ قَدْ أَدْرَكَ أَبَاكَ وَ جَدَّكَ وَ إِنَّ الرَّجُلَ يُبْتَلَى بِالشَّیْ ءِ لَا يَكُونُ عِنْدَنَا فِيهِ شَيْ ءٌ فَنَقِيسُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ قَاسُوا ٢

المحاسن: سماعہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن علیہ السلام سے عرض کیا: پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے بعض اصحاب نے آپ کے والد اور جد کو دیکھا ہے۔ کوئی شخص کسی مسئلے میں مبتلا ہوتا ہے، اُس کا جواب ہمارے پاس نہیں، کیا ہم قیاس کے ذریعے جواب دے سکتے ہیں؟ فرمایا: نہیں! قیاس اُن لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنا جو تم سے پہلے تھے۔

«50»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ قَوْماً مِنْ أَصْحَابِنَا قَدْ تَفَقَّهُوا وَ أَصَابُوا عِلْماً وَ رَوَوْا أَحَادِيثَ فَيَرِدُ عَلَيْهِمُ الشَّيْ ءُ فَيَقُولُونَ بِرَأْيِهِمْ فَقَالَ لَا وَ هَلْ هَلَكَ مَنْ مَضَى إِلَّا بِهَذَا وَ أَشْبَاهِهِ.

المحاسن: محمد بن حکیم کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اصحاب کا ایک گروہ فقیہ و عالم اور راویِ احادیث ہے، کیا جب اُن سے کوئی سوال ہو تو وہ اپنی رائے سے جواب دے سکتے ہیں؟ فرمایا: نہیں! کیا گزشتہ لوگ اِسی کام اور اُس جیسے کاموں کے سوا کسی اور چیز سے ہلاک ہوئے؟

«51»- سن، المحاسن أَبِی عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ

المحاسن: محمد بن حکیم کہتے ہیں:

(١)1- و يؤيد الأول ما يأتي بعده من قوله: أتى رسول اللّٰه صلّى اللّٰه عليه و آله بما يكتفون به؟.اور پہلے کی تائید وہ کرتا ہے جو اُس کے بعد آتا ہے: «کیا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وہ لائے جو کافی ہو؟»
(٢)2- الظاهر اتّحاده مع ما تقدم تحت الرقم 48 و ان اختلفا بالاجمال و التفصيلبظاہر وہ اُس کے ساتھ ایک ہی ہے جو نمبر ۴۸ کے تحت گزرا، اگرچہ ایک مجمل اور دوسرا مفصل ہے۔