Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 300

أَبَا جَعْفَرٍ قَالَ جَعْفَرٌ لَا تَحْمِلُوا عَلَى الْقِيَاسِ فَلَيْسَ مِنْ شَيْ ءٍ يَعْدِلُهُ الْقِيَاسُ إِلَّا وَ الْقِيَاسُ يَكْسِرُهُ.

جبکہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قیاس نہ کرو، کیونکہ اگر ایک قیاس کسی چیز کی تصدیق کرے تو دوسرا قیاس اُس سے معارضہ کرے گا اور اُسے توڑ دے گا۔

بيان: قوله عليه السلام و صاروا في موضعنا أي رفعوا أنفسهم عن تقليد الإمام و ادعوا الإمامة حقيقة حيث زعموا أنهم يقدرون على العلم بأحكام اللّٰه من غير نص و قوله فليس من شي ء يعدله القياس أي ليس شي ء يحكم القياس بعدله و صدقه إلا و يكسره قياس آخر يعارضه فلا عبرة به و لا يصلح أن يكون مستندا لشي ء لوهنه.

اِن لوگوں نے امام کی تقلید اپنی گردن سے اتار دی، یا خود کو امام کی تقلید سے بالاتر سمجھا، کہ یہ درحقیقت دعوائے امامت ہے، اور خیال کیا ہے کہ معصومین کے نصوص و روایات کے بغیر وہ احکام کا علم رکھ سکتے ہیں، جبکہ اگر کسی حکم پر قیاس صادق ہو تو دوسرا قیاس اُس سے تعارض اور ٹکراؤ کرے گا اور اُسے توڑ دے گا۔ پس قیاس اپنی سستی اور بے قیمتی کی وجہ سے اعتبار نہیں رکھتا اور حکم کی دلیل نہیں بن سکتا۔

«28»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي الْمُفِيدُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ الْمَرَاغِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الْوَصَّافِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ خَالِدِ بْنِ طَلِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام يَقُولُ ذِمَّتِي بِمَا أَقُولُ رَهِينَةٌ وَ أَنَا بِهِ زَعِيمٌ إِنَّهُ لَا يَهِيجُ عَلَى التَّقْوَى زَرْعُ قَوْمٍ وَ لَا يَظْمَأُ عَلَى التَّقْوَى سِنْخُ أَصْلٍ أَلَا إِنَّ الْخَيْرَ كُلَّ الْخَيْرِ فِيمَنْ عَرَفَ قَدْرَهُ وَ كَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ لَا يَعْرِفَ قَدْرَهُ إِنَّ أَبْغَضَ خَلْقِ اللَّهُ إِلَى اللَّهِ رَجُلٌ قَمَشَ عِلْماً مِنْ أَغْمَارِ غَشْوَةٍ وَ أَوْبَاشِ فِتْنَةٍ فَهُوَ فِي عَمًى عَنِ الْهُدَى الَّذِي أُتِيَ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ وَ ضَالٌّ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَظُنُّ أَنَّ الْحَقَّ فِي صُحُفِهِ كَلَّا وَ الَّذِي نَفْسُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِهِ قَدْ ضَلَّ وَ أَضَلَّ مَنِ افْتَرَى سَمَّاهُ رَعَاعُ النَّاسِ عَالِماً وَ لَمْ يَكُنْ فِي الْعِلْمِ يَوْماً سَالِماً فَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مَا قَلَّ مِنْهُ خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ غَيْرِ حَاصِلٍ وَ اسْتَكْثَرَ مِنْ غَيْرِ طَائِلٍ جَلَسَ لِلنَّاسِ مُفْتِياً ضَامِناً لِتَخْلِيصِ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِمْ فَإِنْ نَزَلَتْ بِهِ إِحْدَى الْمُهِمَّاتِ هَيَّأَ لَهَا حَشْواً مِنْ رَأْيِهِ ثُمَّ قَطَعَ عَلَى الشُّبُهَاتِ خَبَّاطُ جَهَالاتٍ رَكَّابُ عَشَوَاتٍ وَ النَّاسُ مِنْ عِلْمِهِ فِي مِثْلِ غَزْلِ الْعَنْكَبُوتِ لَا يَعْتَذِرُ مِمَّا لَا يَعْلَمُ فَيَسْلَمَ وَ لَا يَعَضُّ عَلَى الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ فَيَغْنَمَ تَصْرُخُ مِنْهُ الْمَوَارِيثُ وَ تَبْكِی مِنْ قَضَائِهِ الدِّمَاءُ وَ تُسْتَحَلُّ بِهِ الْفُرُوجُ الْحَرَامُ غَيْرُ مَلِی ءٍ وَ اللَّهِ بِإِصْدَارِ مَا وَرَدَ عَلَيْهِ وَ لَا نَادِمٍ عَلَى مَا فَرَّطَ مِنْهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ حَلَّتْ عَلَيْهِمُ النِّيَاحَةُ وَ هُمْ أَحْيَاءٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَنْ نَسْأَلُ بَعْدَكَ وَ عَلَی مَا نَعْتَمِدُ فَقَالَ اسْتَفْتِحُوا كِتَابَ اللَّهِ فَإِنَّهُ إِمَامٌ مُشْفِقٌ وَ هَادٍ مُرْشِدٌ وَ وَاعِظٌ نَاصِحٌ وَ دَلِيلٌ يُؤَدِّي إِلَى جَنَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.

امالیِ شیخ طوسی: خالد بن طلیق سے، امام علی علیہ السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ سے سنا، فرما رہے تھے: میرا ذمہ اپنے کلام کے گرو اور ضمانت میں ہے کہ تقویٰ کے ساتھ کوئی کھیتی خشک نہیں ہوتی۔ تقویٰ کے ساتھ کوئی جڑ پیاسی نہیں رہتی۔ تمام خیر اِس میں ہے کہ آدمی اپنی قدر پہچانے۔ اپنی قدر نہ پہچاننا جہالت ہے۔ خداوند کے نزدیک مخلوقات میں سب سے مبغوض وہ آدمی ہے جو دانش کو احمقوں کے گروہ اور ہر پست و فتنہ گر جگہ سے حاصل کرے، کہ اِس صورت میں وہ راہِ ہدایت دیکھنے سے نابینا اور سنتِ پیغمبر سے گمراہ ہے؛ گمان کرتا ہے کہ حق ایک صفحے میں ہے۔ خدا کی قسم وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، وہ جو جھوٹی خبر دیتا ہے اور پست انسان اُسے عالم کہتے ہیں، جبکہ وہ ایک دن بھی عالم نہ تھا۔ بہت سی ایسی چیزیں جمع کی ہیں جن کی خیر کم ہے، بے حاصل معلومات بُنی اور فربہ کی ہیں۔ مشتبہات سے چھٹکارا پانے کے لیے، اگر اُس سے کسی اہم بات کا سوال ہو تو اپنی طرف سے کوئی زائد بات کہہ دیتا ہے اور شبہات پر قانع ہو جاتا ہے۔ وہ اُس شخص کی مانند ہے جو رات کی تاریکی میں بغیر چراغ کے چلے۔ لوگوں کا اُس کے علم پر عمل مکڑی کے تار کو تھامنے کی مانند ہے۔ خود وہ معذور نہیں اور اُس کی دانش یقینی برہان نہیں۔ وہ ایک چرواہا ہے جس کے ہاتھوں سے میراثیں فریاد کرتی ہیں، جس کی قضاوت سے خون روتے ہیں، اور حرام نوامیس حلال ہو جاتی ہیں۔ وہ حکم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اپنی کوتاہی پر پشیمان بھی نہیں؛ سزاوار ہے کہ ایسے لوگوں کے حال پر اُن کی زندگی ہی میں رویا جائے۔ راوی نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ کے بعد کس سے پوچھا جائے اور کس پر اعتماد کریں؟ فرمایا: کتابِ خداوند پر، جو مہربان ہدایت گر امام، واعظِ ناصح اور ایسا راہنما ہے جو بہشت کی طرف راہ دکھاتا ہے۔

بيان: الأغمار جمع غمر بالضم و هو الجاهل الغر الذي لم يجرب الأمور

«اغمار» یعنی بے تجربہ نادان،