«17»- لي، الأمالي للصدوق أَبِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ يُونُسَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرْقَدٍ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: مَا ذَكَرْتُ حَدِيثاً سَمِعْتُهُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليهما السلام إِلَّا كَادَ أَنْ يَتَصَدَّعَ لَهُ قَلْبِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَ أُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا كَذَبَ عَلَى أَبِيهِ وَ لَا كَذَبَ أَبُوهُ عَلَی جَدِّهِ وَ لَا كَذَبَ جَدُّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ عَمِلَ بِالْمَقَايِيسِ فَقَدْ هَلَكَ وَ أَهْلَكَ وَ مَنْ أَفْتَى النَّاسَ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ وَ الْمُحْكَمَ مِنَ الْمُتَشَابِهِ فَقَدْ هَلَكَ وَ أَهْلَكَ ١.
امالیِ صدوق: ابن شبرمہ کہتے ہیں: میں نے حضرت صادق علیہ السلام سے ایک حدیث سنی جس کی یاد سے میرا دل پھٹتا ہے۔ میں نے سنا کہ فرما رہے تھے: میرے والد نے میرے جد سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے مجھے بیان کیا ـ خدا کی قسم کہ اُنہوں نے اپنے والد پر جھوٹ نہ باندھا نہ اُن کے والد نے اپنے جد پر اور نہ اُن کے جد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ پر ـ کہ جو قیاس پر عمل کرے، وہ ہلاک ہے اور ہلاک کر چکا ہے؛ اور جو لوگوں کو فتویٰ دے اور ناسخ کو منسوخ سے اور محکم کو متشابہ سے نہ پہچانے، وہ ہلاک ہے اور ہلاک کر چکا ہے۔
«18»- لي، الأمالي للصدوق فِي كَلِمَاتِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله بِرِوَايَةِ أَبِي الصَّبَّاحِ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام شَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاثُهَا.
امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بدترین امور بدعتیں ہیں۔
«19»- فس، تفسير القمي فِي رِوَايَةِ أَبِی الْجَارُودِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِهِ تَعَالَی وَ الَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّئاتِ جَزاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِها وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْبِدَعِ وَ الشُّبُهَاتِ وَ الشَّهَوَاتِ يُسَوِّدُ اللَّهُ وُجُوهَهُمْ ثُمَّ يَلْقَوْنَهُ.
تفسیر قمی: ابو جارود نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: خدائے تعالیٰ کے قول «وَ الَّذِینَ کَسَبُوا السَّیِّئاتِ جَزاءُ سَیِّئَةٍ بِمِثْلِها وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ما لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عاصِمٍ» {اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں، [وہ جان لیں کہ] [ہر] برائی کی جزا اُسی جیسی ہے اور خواری اُنہیں ڈھانپ لے گی۔ خدا کے مقابل اُن کے لیے کوئی بچانے والا نہیں۔} کے بارے میں فرمایا: وہ گروہ اہلِ بدعت اور شبہات اور شہوات کا ہے؛ خدا اُن کے چہرے سیاہ کرے گا اور پھر اُنہیں آتشِ جہنم میں ڈالے گا۔
«20»- فس، تفسير القمي وَ الشُّعَراءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ قَالَ نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ غَيَّرُوا دِينَ اللَّهِ وَ خَالَفُوا أَمْرَ اللَّهِ هَلْ رَأَيْتُمْ شَاعِراً قَطُّ يَتَّبِعُهُ أَحَدٌ إِنَّمَا عَنَى بِذَلِكَ الَّذِينَ وَضَعُوا دِيناً بِآرَائِهِمْ فَتَبِعَهُمُ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ.
تفسیر القمی: «وَ الشُّعَراءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغاوُونَ» {اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔} فرمایا: یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے دینِ خدا کو بدل دیا اور امرِ خدا کی مخالفت کی۔ کیا تم نے کوئی ایسا شاعر دیکھا ہے جس کی لوگ پیروی کریں؟ اِس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی رایوں کے واسطے سے ایک دین بنا لیا اور لوگوں نے بھی اُن کی پیروی کی۔
«21»- شی، تفسير العياشي عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ هُمْ قَوْمٌ تَعَلَّمُوا وَ تَفَقَّهُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا ٢.
تفسیرِ عیاشی: امام صادق علیہ السلام نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں فرمایا: وہ ایک ایسی قوم تھی جو سیکھتی اور بغیر علم کے تفقہ کرتی تھی، پس گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
بيان: على هذا التأويل إنما عبر عنهم بالشعراء لأنهم بنوا دينهم و أحكامهم على المقدمات الشعرية الباطلة.
اِس تاویل کی بنا پر اُن سے شعراء کی تعبیر کی جاتی ہے کہ اُنہوں نے اپنے دین کے احکام باطل شعری مقدمات پر رکھے؛ اِس تاویل کی بنا پر اُن سے شاعر کی تعبیر ہوئی، باوجود اِس کے کہ وہ اصطلاحی شاعر نہیں؛ کیونکہ اُنہوں نے اپنا دین اور احکام باطل شعری مقدمات پر رکھے ہیں۔
«22»- فس، تفسير القمي فِي رِوَايَةِ أَبِی الْجَارُودِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِهِ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَ هُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً قَالَ هُمُ النَّصَارَى وَ الْقِسِّيسُونَ وَ الرُّهْبَانُ وَ أَهْلُ الشُّبُهَاتِ وَ الْأَهْوَاءِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَ الْحَرُورِيَّةُ وَ أَهْلُ الْبِدَعِ.
تفسیر القمی: ابوجارود نے امام باقر علیہ السلام سے اِس آیت کی تفسیر میں: «هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِینَ أَعْمالًا الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ هُمْ یَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعاً» {کیا ہم تمہیں اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والوں سے آگاہ کریں؟ [وہ] وہی لوگ ہیں جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں رائیگاں گئی اور وہ خود سمجھتے ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔} روایت کی کہ آپ نے فرمایا: وہ عیسائی اور قسیس اور راہب اور اہلِ قبلہ میں سے اہلِ شبہ و ہواپرستی اور خوارج اور اہلِ بدعت ہیں۔