Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 297

«15»- ع، علل الشرائع أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ نُوحٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: كَانَ رَجُلٌ فِي الزَّمَنِ الْأَوَّلِ طَلَبَ الدُّنْيَا مِنْ حَلَالٍ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا وَ طَلَبَهَا مِنْ حَرَامٍ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا فَأَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَهُ يَا هَذَا إِنَّكَ قَدْ طَلَبْتَ الدُّنْيَا مِنْ حَلَالٍ فَلَمْ تَقْدِرْ عَلَيْهَا وَ طَلَبْتَهَا مِنْ حَرَامٍ فَلَمْ تَقْدِرْ عَلَيْهَا أَ فَلَا أَدُلُّكَ عَلَی شَيْ ءٍ تَكْثُرُ بِهِ دُنْيَاكَ وَ يَكْثُرُ بِهِ تَبَعُكَ قَالَ بَلَى قَالَ تَبْتَدِعُ دِيناً وَ تَدْعُو إِلَيْهِ النَّاسَ فَفَعَلَ فَاسْتَجَابَ لَهُ النَّاسُ وَ أَطَاعُوهُ وَ أَصَابَ مِنَ الدُّنْيَا ثُمَّ إِنَّهُ فَكَّرَ فَقَالَ مَا صَنَعْتُ ابْتَدَعْتُ دِيناً وَ دَعَوْتُ النَّاسَ مَا أَرَى لِي تَوْبَةً إِلَّا أَنْ آتِيَ مَنْ دَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَأَرُدَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يَأْتِي أَصْحَابَهُ الَّذِينَ أَجَابُوهُ فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ الَّذِي دَعَوْتُكُمْ إِلَيْهِ بَاطِلٌ وَ إِنَّمَا ابْتَدَعْتُهُ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ لَهُ كَذَبْتَ وَ هُوَ الْحَقُّ وَ لَكِنَّكَ شَكَكْتَ فِي دِينِكَ فَرَجَعْتَ عَنْهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمَدَ إِلَى سِلْسِلَةٍ فَوَتَّدَ لَهَا وَتِداً ثُمَّ جَعَلَهَا فِي عُنُقِهِ وَ قَالَ لَا أَحُلُّهَا حَتَّى يَتُوبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَیَّ فَأَوْحَی اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى نَبِيٍّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قُلْ لِفُلَانٍ وَ عِزَّتِي لَوْ دَعَوْتَنِي حَتَّى تَنْقَطِعَ أَوْصَالُكَ مَا اسْتَجَبْتُ لَكَ حَتَّى تَرُدَّ مَنْ مَاتَ عَلَى مَا دَعَوْتَهُ إِلَيْهِ فَيَرْجِعَ عَنْهُ.

علل الشرائع: میرے والد رحمہ اللہ نے سعد بن عبداللہ سے، ہشام بن حکم سے، حضرت ابی عبداللہ علیہ السلام سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: گزشتہ زمانوں میں ایک آدمی تھا جس نے حلال راہ سے دنیا طلب کی اور اُسے نہ پایا۔ پھر حرام طریقے سے پیچھا کیا، پھر بھی اُس تک نہ پہنچا۔ شیطان اُس کے پاس آیا اور اُس سے کہا: فلاں! تم نے حلال و حرام راہ سے دنیا طلب کی اور اُس تک نہ پہنچے؛ اب کیا چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایسی چیز کی راہنمائی کروں جس سے تمہاری دنیا آباد اور فراواں ہو جائے؟ اُس آدمی نے کہا: جی ہاں۔ شیطان نے کہا: ایک نیا دین ایجاد کرو اور لوگوں کو اُس کی طرف دعوت دو۔ اُس آدمی نے ایسا ہی کیا اور لوگوں نے اُس کی دعوت قبول کی اور اُس کی اطاعت کی۔ کچھ مدت گزری اور اُس آدمی کی دنیا آباد ہوئی اور فراواں دولت اُسے نصیب ہوئی، مگر اچانک وہ ہوش میں آیا اور کہا: یہ دین جو میں نے ایجاد کیا اور لوگوں کو اُس کی طرف بلایا، میں اُس کی کوئی توبہ نہیں دیکھتا مگر یہ کہ اُن لوگوں کے پاس جاؤں جنہیں میں نے منحرف کیا اور اُنہیں اُس دین سے پلٹاؤں جس کی طرف میں نے اُنہیں بلایا۔ چنانچہ اپنے یاروں اور اصحاب کے پاس گیا اور کہا: جس چیز کی طرف میں نے تمہیں بلایا اور تم نے اُسے قبول کیا، وہ باطل اور میری اپنی ساختہ ہے نہ کہ دینِ خدا۔ اُنہوں نے کہا: تم جھوٹ کہتے ہو اور حق وہی ہے؛ اور تم اپنے دین میں شک و تردید میں پڑے اور اُس سے پلٹ گئے ہو۔ جب اُس آدمی نے ایسا دیکھا تو ایک زنجیر تیار کی اور ایک میخ اُس میں نصب کی اور زنجیر اپنی گردن میں ڈالی اور میخ زمین میں گاڑ دی اور کہا: میں زنجیر اپنی گردن سے نہ کھولوں گا یہاں تک کہ حق تعالیٰ میری توبہ قبول کرے۔ حق تعالیٰ نے اُس عہد کے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر پر وحی فرمائی: فلاں سے کہو: اپنی عزت و بزرگی کی قسم، اگر تم مجھے اِتنا پکارو کہ تمہاری ہڈیوں کے جوڑ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، میں تمہیں جواب نہ دوں گا جب تک تم اُن سب کو زندہ نہ کرو جو تمہارے دین پر دنیا سے گئے اور اُنہیں اپنے باطل اور ایجاد کردہ دین سے نہ پلٹاؤ۔

سن، المحاسن أبی عن ابن أبي عمير مثله- ضا، فقه الرضا عليه السلام مثله.

المحاسن: ابن ابی عمیر سے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔ فقہ الرضا علیہ السلام: اُسی کی مانند روایت ہوا ہے۔

«16»- يد، التوحيد ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام لي، الأمالي للصدوق ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الرَّيَّانِ ١ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ مَا آمَنَ بِي مَنْ فَسَّرَ بِرَأْيِهِ كَلَامِي وَ مَا عَرَفَنِي مَنْ شَبَّهَنِي بِخَلْقِي وَ مَا عَلَى دِينِي مَنِ اسْتَعْمَلَ الْقِيَاسَ فِي دِينِي.

توحید و عیون أخبار الرضا علیہ السلام، امالیِ صدوق: امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی اور فرمایا: خدائے متعال نے فرمایا: جو میرے کلام کی تفسیر اپنی رائے سے کرے، وہ مجھ پر ایمان نہ لایا؛ اور جو مجھے میری مخلوقات سے تشبیہ دے، اُس نے مجھے درست نہ پہچانا؛ اور جو میرے دین میں قیاس سے کام لے، وہ میرے دین پر نہیں۔

ج، الإحتجاج مرسلا مثله.

الاحتجاج: اُسی کی مانند روایت ہوا ہے۔

(١)1- بفتح الراء المهملة و الياء المشددة، مشترك بين الرجلين: أحدهما ابن شبيب الثقة خال المعتصم، و الآخر ابن الصلت البغداديّ الأشعريّ القمّيّ الثقة الصدوق، و يعسر تميزهما و لكن لما كان كلاهما عدلان فلا إشكال في روايتهما. و يحتمل أن يكون الواقع في السند ابن الصلت لمكان رواية إبراهيم بن هاشم عنه، حيث قال الشيخ في الفهرست: الريان بن الصلت له كتاب أخبرنا به الشيخ أبو عبد اللّٰه محمّد بن محمّد بن النعمان و الحسين بن عبيد اللّٰه، عن محمّد بن عليّ بن الحسين، عن أبيه، و حمزة بن محمّد، و محمّد بن علي، عن عليّ بن إبراهيم، عن أبيه، عن الريان بن الصلتراءِ بے نقطہ کے فتحہ اور یاءِ مشدد کے ساتھ؛ یہ دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے: ایک ابن شبیب، ثقہ اور معتصم کے ماموں؛ اور دوسرے ابن الصلت بغدادی اشعری قمی، ثقہ اور راست گو۔ اُن دونوں کو پہچاننا دشوار ہے، مگر چونکہ دونوں عادل ہیں، اُن کی روایت میں کوئی اشکال نہیں۔ اور احتمال ہے کہ جو سند میں آیا ہے وہ ابن الصلت ہوں، ابراہیم بن ہاشم کی اُن سے روایت کے سبب؛ جیسا کہ شیخ فہرست میں کہتے ہیں: ریّان بن الصلت ایک کتاب رکھتے ہیں؛ شیخ ابوعبداللہ محمد بن محمد بن النعمان اور حسین بن عبیداللہ نے، محمد بن علی بن الحسین سے، اُن کے والد سے، اور حمزۃ بن محمد اور محمد بن علی نے، علی بن ابراہیم سے، اُن کے والد سے، ریّان بن الصلت سے ہمیں اُس کی خبر دی۔