Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 295

فِيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنِينَ فعلى تأويله عليه السلام تكون هذه الجملة معترضة بين تلك القصة لبيان أن هذا الأمن الذي كان لهم في تلك القرى و قد زال عنهم بكفرانهم سيعود في ليالي و أيام زمان القائم عليه السلام و لذا قال تعالی وَ قَدَّرْنا و أما قوله تعالی وَ مَنْ دَخَلَهُ فعلى تأويله عليه السلام يكون المراد الدخول في ذلك الزمان مع بيعته عليه السلام في الحرم أو أنه لما كانت حرمة البيت مقرونة بحرمتهم عليهم السلام راجعة إليها فيكون الدخول فيها كناية عن الدخول في بيعتهم و متابعتهم علی هذا البطن من الآية.

جو مذکورہ قصے کے درمیان ایک جملۂ معترضہ ہے۔ امام علیہ السلام کی تاویل کی بنا پر اُس کا معنی یوں ہوتا ہے: وہ امنیت جو اُن بستیوں میں تھی اور لوگوں کے کفران کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی، مہدی عجل اللہ فرجہ کے زمانے میں پلٹ آئے گی، اور اِسی لیے خداوند نے فرمایا: «وَ قَدَّرنا»۔ اور رہا خداوند کا قول «و من دخلہ»، تو اُس کی تاویل امام علیہ السلام کے نقطۂ نظر سے یہ ہے کہ کامل امنیت کے ساتھ مہدی عجل اللہ فرجہ سے اُس زمانے میں حرم میں بیعت کی جائے گی؛ یا یہ کہ کعبے کی حرمت درحقیقت اہلِ بیت کی حرمت ہے اور حرم میں داخل ہونا اہلِ بیت کی بیعت و پیروی کا کنایہ ہے، اور یہ معنی آیت کے بطن و درون سے قابلِ استفادہ ہے۔

و أما قوله عليه السلام أيما أرجس لعله ذكره إلزاما عليه لأنه كان يقول بأن البول أرجس حتى إنه نسب إليه أنه قال بطهارة المني بعد الفرك و أما في مسألة السحق و إن لم يذكر عليه السلام جوابه هاهنا فقد قال الشيخ في النهاية إن على المرأة الرجم و يلحق الولد بالرجل و يلزم المرأة المهر و عليه دلت صحيحة محمد بن مسلم و غيرها و قد خالف بعض الأصحاب في لزوم الرجم بل اكتفوا بالجلد و بعضهم في تحقق النسب و سيأتي الكلام فيه في محله.

اور رہا آپ علیہ السلام کا یہ کلام «أیّما أرجس»، شاید آپ نے اُسے اُس پر الزام کے باب سے کہا ہو، کیونکہ وہ کہتا تھا کہ بول زیادہ پلید ہے، یہاں تک کہ اُس کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ وہ ملنے کے بعد منی کے پاک ہونے کا قائل ہوا۔ اور رہا مسئلۂ «سحق» ـ اگرچہ آپ علیہ السلام نے اُس کا جواب یہاں نہیں لایا ـ شیخ نے «النہایۃ» میں کہا ہے کہ عورت پر رجم ہے اور بچہ مرد سے ملحق ہوتا ہے اور مہر عورت پر لازم آتا ہے؛ اور محمد بن مسلم کی صحیحہ اور اُس کے علاوہ اِسی پر دلالت کرتی ہیں۔ اور بعض اصحاب نے رجم کے لازم ہونے میں مخالفت کی اور تازیانے پر اکتفا کی، اور بعض نے نسب کے ثابت ہونے میں؛ اور اِس بارے میں کلام اپنی جگہ آئے گا۔

و أما سقوط البيت على الجاريتين فالظاهر أن السؤال عن اشتباه ولد المملوك و ولد المولى كما مر و فرض سقوط البيت على الجاريتين لتقريب فرض الاشتباه و المشهور بين الأصحاب فيه القرعة كما تقتضيه أصولهم و كلاهما مرويان في الكافي.

اور دو کنیزوں پر گھر کے گرنے کے بارے میں، بظاہر سوال غلام کے بیٹے اور آقا کے بیٹے کے مشتبہ ہونے سے تھا، جیسا کہ گزرا، اور دو کنیزوں پر گھر گرنے کا فرض اشتباہ کے فرض کو ذہن سے قریب کرنے کے لیے ہے۔ اِس مورد میں اصحاب کے درمیان مشہور قرعہ ہے، جیسا کہ اُن کے قواعد و اصول بھی ایسا ہی تقاضا رکھتے ہیں، اور دونوں کتابِ کافی میں روایت ہوئے ہیں۔

«13»- ع، علل الشرائع الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الدَّارِيُّ عَنِ ابْنِ الْبَطَائِنِيِّ عَنْ سُفْيَانَ الْحَرِيرِيِّ عَنْ مُعَاذٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ يَحْيَى الْعَامِرِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ مَعِي نُعْمَانُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَنِ الَّذِي مَعَكَ فَقُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لَهُ نَظَرٌ وَ نَفَاذُ رَأْيٍ١ يُقَالُ لَهُ نُعْمَانُ قَالَ فَلَعَلَّ هَذَا الَّذِي يَقِيسُ الْأَشْيَاءَ بِرَأْيِهِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ يَا نُعْمَانُ هَلْ تُحْسِنُ أَنْ تَقِيسَ رَأْسَكَ فَقَالَ لَا فَقَالَ مَا أَرَاكَ تُحْسِنُ شَيْئاً وَ لَا فَرْضَكَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ غَيْرِكَ فَهَلْ عَرَفْتَ كَلِمَةً أَوَّلُهَا كُفْرٌ وَ آخِرُهَا إِيمَانٌ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ عَرَفْتَ مَا الْمُلُوحَةُ فِي الْعَيْنَيْنِ وَ الْمَرَارَةُ

علل الشرائع: حسین بن احمد نے یحییٰ عامری سے، ابن ابی لیلیٰ سے نقل کیا کہ اُنہوں نے کہا: میں نعمان کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کے پاس گیا، امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کون ہے جو تمہارے ساتھ ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! یہ اہلِ کوفہ کا ایک آدمی ہے جو صاحبِ نظر و نقد و دقت ہے اور اُسے نعمان کہتے ہیں۔ امام نے فرمایا: شاید یہ وہی ہے جو چیزوں کو اپنی رائے سے قیاس کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت نے فرمایا: اے نعمان! کیا تم اپنے سر میں قیاس جاری کر سکتے ہو؟ عرض کیا: نہیں۔ حضرت نے فرمایا: تو پھر میں نہیں دیکھتا کہ تم کسی چیز میں قیاس کر سکو اور کوئی دانائی اور عمل رکھو مگر یہ کہ وہ علم کسی دوسرے سے ہو۔ پھر فرمایا: کیا تم کوئی ایسا کلمہ جانتے ہو جس کا اول کفر اور انجام ایمان ہو؟ عرض کیا: نہیں۔ حضرت نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آنکھوں میں شوری اور کانوں میں تلخی اور ناک کی دونوں نالیوں میں برودت و سردی اور ہونٹوں میں شیرینی کیوں ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ ابن ابی لیلیٰ نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! جو کچھ آپ نے ہمارے لیے بیان کیا، اُس کی تفسیر فرمائیں۔

(١)1- و في نسخة و نقادر أياور ایک نسخے میں: «و نقادر»، یعنی…