Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 294

بِنْتُ أُمِّ الْوَلَدِ أَبَاهَا فَقَامَ الرَّجُلُ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَوَاقَعَ أَهْلَهُ الَّتِي لَا تَلِدُ وَ خَرَجَ إِلَى الْحَمَّامِ فَأَرَادَتِ الْحُرَّةُ أَنْ تَكِيدَ أُمَّ الْوَلَدِ وَ ابْنَتَهَا عِنْدَ الرَّجُلِ فَقَامَتْ إِلَيْهَا بِحَرَارَةِ ذَلِكَ الْمَاءِ فَوَقَعَتْ إِلَيْهَا وَ هِيَ نَائِمَةٌ فَعَالَجَتْهَا كَمَا يُعَالِجُ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَعَلِقَتْ أَيُّ شَيْ ءٍ عِنْدَكَ فِيهَا قَالَ لَا وَ اللَّهِ مَا عِنْدِي فِيهَا شَيْ ءٌ فَقَالَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ أَخْبِرْنِي عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَزَوَّجَهَا مِنْ مَمْلُوكٍ لَهُ وَ غَابَ الْمَمْلُوكُ فَوُلِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِهِ مَوْلُودٌ وَ وُلِدَ لِلْمَمْلُوكِ مَوْلُودٌ مِنْ أُمِّ وَلَدٍ لَهُ فَسَقَطَ الْبَيْتُ عَلَى الْجَارِيَتَيْنِ وَ مَاتَ الْمَوْلَى مَنِ الْوَارِثُ فَقَالَ جُعِلْتُ فِدَاكَ لَا وَ اللَّهِ مَا عِنْدِي فِيهَا شَيْ ءٌ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّ عِنْدَنَا قَوْماً بِالْكُوفَةِ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْمُرُهُمْ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ فُلَانٍ وَ فُلَانٍ ١ فَقَالَ وَيْلَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ لَمْ يَكُنْ هَذَا مَعَاذَ اللَّهِ فَقَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّهُمْ يُعَظِّمُونَ الْأَمْرَ فِيهِمَا ٢قَالَ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ تَكْتُبُ إِلَيْهِمْ قَالَ بِمَا ذَا قَالَ تَسْأَلُهُمْ الْكَفَّ عَنْهُمَا٣ قَالَ لَا يُطِيعُونِّي قَالَ بَلَى أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِذَا كُنْتَ أَنْتَ الْكَاتِبَ وَ أَنَا الرَّسُولُ أَطَاعُونِي قَالَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ أَبَيْتَ إِلَّا جَهْلًا كَمْ بَيْنِي وَ بَيْنَ الْكُوفَةِ مِنَ الْفَرَاسِخِ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا لَا يُحْصَى فَقَالَ كَمْ بَيْنِي وَ بَيْنَكَ قَالَ لَا شَيْ ءَ قَالَ أَنْتَ دَخَلْتَ عَلَيَّ فِي مَنْزِلِي فَاسْتَأْذَنْتَ فِي الْجُلُوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ آذَنْ لَكَ فَجَلَسْتَ بِغَيْرِ إِذْنِي خِلَافاً عَلَيَّ كَيْفَ يُطِيعُونِّي أُولَئِكَ وَ هُمْ ثَمَّ وَ أَنَا هَاهُنَا قَالَ فَقَنَّعَ رَأْسَهُ وَ خَرَجَ وَ هُوَ يَقُولُ أَعْلَمُ النَّاسِ وَ لَمْ نَرَهُ عِنْدَ عَالِمٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحَضْرَمِيُّ جُعِلْتُ فِدَاكَ الْجَوَابُ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ الْأَوَّلَتَيْنِ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ سِيرُوا فِيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنِينَ فَقَالَ مَعَ قَائِمِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ وَ أَمَّا قَوْلُهُ وَ مَنْ دَخَلَهُ كانَ آمِناً فَمَنْ بَايَعَهُ وَ دَخَلَ مَعَهُ وَ مَسَحَ عَلَی يَدِهِ وَ دَخَلَ فِي عَقْدِ أَصْحَابِهِ كَانَ آمِناً.

حضرت نے فرمایا: اے ابوحنیفہ! اِس سوال کا جواب دو: ایک آدمی کے پاس ایک امِ ولد کنیز تھی جس سے اُس کی ایک بیٹی ہے، اور اُس کی ایک آزاد بیوی بھی تھی جو بانجھ ہے۔ سحر کے وقت اِس آدمی کی وہ بیٹی جو امِ ولد سے ہے باپ کی زیارت کو آئی، اور آدمی نے نمازِ صبح پڑھنے کے بعد اپنی آزاد بیوی سے مباشرت کی اور پھر حمام چلا گیا؛ آزاد عورت امِ ولد اور اُس کی بیٹی کے ساتھ کینے اور حیلے کے مقام پر آئی، اُسی وقت جب شوہر حمام گیا تھا، اٹھی اور اپنے شوہر کی اُس بیٹی کے پاس گئی جو امِ ولد سے ہے، اور جبکہ وہ سوئی ہوئی تھی، خود کو اُس پر ڈال دیا اور جس طرح شوہر نے اُس کے ساتھ مواقعہ کیا تھا اور پانی اُس کے رحم میں ڈالا تھا، اُس نے بھی وہی پانی لڑکی کے رحم میں ڈال دیا اور لڑکی اُسی پانی سے حاملہ ہو گئی۔ تمہاری نظر میں اِس حمل کا حکم کیا ہے؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: خدا کی قسم، اُس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔ حضرت نے فرمایا: اے ابوحنیفہ! اِس سوال کا جواب دو: ایک آدمی کے پاس ایک کنیز ہے جسے وہ اپنے مملوک سے بیاہ دیتا ہے اور مملوک اُس سے غائب ہو جاتا ہے۔ پھر آدمی کی بیوی سے ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور اُس امِ ولد کنیز سے جو اُس کے پاس ہے اور جسے مذکورہ مملوک نے حاملہ کیا تھا، ایک بچہ دنیا میں آتا ہے، اور اُس کے بعد گھر گر جاتا ہے اور وہ آدمی جو مولا تھا اور دونوں کنیزیں ـ جن میں سے ایک امِ ولد تھی اور دوسری وہ کنیز جسے مولا نے عبد سے بیاہا تھا ـ تینوں مر جاتے ہیں۔ اب تم بتاؤ کہ وارث کون ہے؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں، خدا کی قسم اُس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ پھر ابوحنیفہ نے کہا: خدا آپ کا حال نیکو کرے، کوفہ میں ہمارے پاس ایک جماعت ہے جو معتقد ہے کہ آپ نے اُنہیں حکم دیا ہے کہ فلاں اور فلاں اور فلاں سے برائت اور بیزاری اختیار کریں، کیا یہ صحیح ہے؟ فرمایا: افسوس تم پر اے ابوحنیفہ! یہ صحیح نہیں، میں خدا کی پناہ لیتا ہوں!! ابوحنیفہ نے عرض کیا: خدا آپ کا حال نیکو کرے، یہ جماعت اِن تین افراد کے بارے میں معاملے کو بہت بڑا سمجھتی ہے اور اُن سے تبری و بیزاری کے مسئلے کا سختی سے پیچھا کرتی ہے۔ حضرت نے فرمایا: مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: اُنہیں ایک خط لکھ دیجیے۔ حضرت نے فرمایا: کس مضمون سے؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: اُن سے چاہیں کہ اِن تین افراد سے تبری سے باز رہیں۔ حضرت نے فرمایا: وہ میری اطاعت نہیں کرتے۔ ابوحنیفہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، خدا آپ کا حال نیکو کرے؛ جبکہ آپ خط لکھیں اور میں آپ کا رسول اور فرستادہ ہوں، البتہ وہ میری اطاعت کریں گے۔ حضرت نے فرمایا: اے ابوحنیفہ! تمہارا یہ اصرار نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ میرے اور کوفے کے درمیان کتنے فرسخ کا فاصلہ ہے؟ ابوحنیفہ نے کہا: بہت بہت زیادہ، اِس حد تک کہ شمار میں نہیں آتا۔ حضرت نے فرمایا: میرے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: کوئی فاصلہ نہیں۔ حضرت نے فرمایا: تم میرے گھر میں مجھ پر وارد ہوئے اور تین بار بیٹھنے کی اجازت مانگی، پس میں نے تمہیں اجازت نہ دی، اِس کے باوجود تم میری اجازت کے بغیر بیٹھ گئے اور میری مخالفت کی؛ تو وہ جماعت جبکہ اُن کا مجھ سے اِتنا فاصلہ ہے اور میں یہاں ہوں، میری اطاعت کیسے کرے؟ راوی کہتے ہیں: ابوحنیفہ نے امام کے سرِ مبارک کو بوسہ دیا اور آپ کے پاس سے نکل گیا اِس حال میں کہ کہہ رہا تھا: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ دانا ہیں حالانکہ ہم نے اُنہیں کسی عالم کے پاس نہیں دیکھا۔ ابوبکر حضرمی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: آپ پر فدا ہوں! پہلے اور دوسرے مسئلے کا جواب کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: اے ابوبکر! «سِیرُوا فِیها لَیالِیَ وَ أَیَّاماً آمِنِینَ» سے مقصود یہ ہے کہ: ہمارے قائمِ اہلِ بیت کے ساتھ سیر و سفر کرو کہ تم کامل امن میں ہو گے۔ اور «وَ مَنْ دَخَلَهُ کانَ آمِناً» سے مراد یہ ہے کہ جو کوئی ہمارے قائم سے بیعت کرے اور اُن کے حزب میں ہو اور اُس بزرگوار کے ہاتھ کو مس کرے اور اُن کے اصحاب کے گروہ میں ہو، وہ البتہ ہر گزند سے امان میں ہے۔

بيان: قوله عليه السلام و لست كما تقول جملة حالية اعترضت بين الشرط و الجزاء لرفع توهم أن هذا الشرط و التقدير محتمل الصدق و أما قوله تعالى سِيرُوا فِيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنِينَ فهو في القرآن مذكور بين الآيات التي أوردت في ذكر قصة أهل سبأ حيث قال وَ جَعَلْنا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بارَكْنا فِيها قُرىً ظاهِرَةً وَ قَدَّرْنا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا

«لَستَ کما تقول» جملۂ حالیہ اور معترضہ ہے جو شرط اور جزا کے درمیان واقع ہوا، اور چونکہ جملۂ شرطیہ درست ہونے کا امکان رکھتا ہے، امام اِس فرض اور اُس کے وہم کے امکان کو بالکل نفی کرنا چاہتے ہیں؛ یعنی ابوحنیفہ قطعاً اُن علوم میں آگاہی نہیں رکھتا جن کا دعویٰ کرتا ہے، حتیٰ اُس کے درست ہونے کا احتمال بھی نہیں۔ اور رہی آیت «سِیرُوا فِیها لَیالِیَ وَ أَیَّاماً آمِنِینَ»، تو وہ قرآن میں اہلِ سبا کی داستان سے متعلق آیات کے درمیان آئی ہے۔ جہاں خداوند نے فرمایا: «وَ جَعَلْنا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَی الَّتِی بارَکْنا فِیها قُریً ظاهِرَةً وَ قَدَّرْنا فِیهَا السَّیْرَ سِیرُوا فِیها لَیالِیَ وَ أَیَّاماً آمِنِینَ»

(١)1- و في نسخة: من فلان و فلان و فلان.اور ایک نسخے میں: «من فلان و فلان و فلان»۔
(٢)2- و في نسخة: انّهم يعظمون الامر فيهم.اور ایک نسخے میں: «انّہم یعظمون الأمر فیہم»۔
(٣)3- و في نسخة: تسألهم الكف عنهم.اور ایک نسخے میں: «تسألہم الکفّ عنہم»۔