Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 291

كتاب عاصم بن حميد، عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر عليه السلام عن أمير المؤمنين صلوات اللّٰه عليه مثله.

کتابِ عاصم بن حمید: محمد بن مسلم سے، حضرت علی علیہ السلام سے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔

«9»- ع، علل الشرائع أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِيِّ الْقُرَشِيِّ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا حَنِيفَةَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقِيسُ قَالَ نَعَمْ أَنَا أَقِيسُ قَالَ لَا تَقِسْ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ حِينَ قَالَ خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ فَقَاسَ مَا بَيْنَ النَّارِ وَ الطِّينِ وَ لَوْ قَاسَ نُورِيَّةَ النَّارِ عَرَفَ فَضْلَ مَا بَيْنَ النُّورَيْنِ وَ صَفَاءَ أَحَدِهِمَا عَلَی الْآخَرِ وَ لَكِنْ قِسْ لِي رَأْسَكَ أَخْبِرْنِي عَنْ أُذُنَيْكَ مَا لَهُمَا مُرَّتَانِ قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ فَأَنْتَ لَا تُحْسِنُ تَقِيسُ رَأْسَكَ فَكَيْفَ تَقِيسُ الْحَلَالَ وَ الْحَرَامَ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ الْأُذُنَيْنِ مُرَّتَيْنِ لِئَلَّا يَدْخُلَهُمَا شَيْ ءٌ إِلَّا مَاتَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَقَتَلَ ابْنَ آدَمَ الْهَوَامُّ وَ جَعَلَ الشَّفَتَيْنِ عَذْبَتَيْنِ لِيَجِدَ ابْنُ آدَمَ طَعْمَ الْحُلْوِ وَ الْمُرِّ وَ جَعَلَ الْعَيْنَيْنِ مَالِحَتَيْنِ لِأَنَّهُمَا شَحْمَتَانِ وَ لَوْ لَا مُلُوحَتُهُمَا لَذَابَتَا وَ جَعَلَ الْأَنْفَ بَارِداً سَائِلًا لِئَلَّا يَدَعَ فِي الرَّأْسِ دَاءً إِلَّا أَخْرَجَهُ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَثَقُلَ الدِّمَاغُ وَ تَدَوَّدَ.

علل الشرائع: شیخ صدوق نے اپنے والد سے، عبداللہ قرشی سے نقل کیا: ابوحنیفہ حضرت امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا، امام علیہ السلام نے اُس سے فرمایا: اے ابوحنیفہ! میں نے ایسا سنا ہے کہ تم قیاس کرتے ہو؟ ابوحنیفہ نے کہا: جی ہاں، قیاس کرتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا: قیاس نہ کرو، کیونکہ پہلا شخص جس نے قیاس کیا ابلیس تھا جس نے حق تعالیٰ سے عرض کیا: مجھے آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا، میں اُسے کیسے سجدہ کروں؟ پس ابلیس نے اپنے اِس کلام میں آگ اور مٹی کے درمیان قیاس کیا، جبکہ اگر وہ آدم کے نور ہونے کو آگ کے نور ہونے سے قیاس کرتا تو دونوں نوروں کے درمیان برتری کو جان لیتا اور تصدیق کرتا کہ ایک دوسرے سے زیادہ صفا اور جلا رکھتا ہے۔ اب تم جو قیاس کا دعویٰ کرتے ہو، میرے لیے اپنے سر میں قیاس کرو اور مجھے اپنے دونوں کانوں کے بارے میں خبر دو کہ اُن میں تلخ مادہ کیوں ہے؟ ابوحنیفہ نے کہا: نہیں جانتا۔ حضرت نے فرمایا: پس تم اپنے سر میں قیاس نہیں کر سکتے، تو پھر خدا کے حلال و حرام میں کیسے قیاس کرتے ہو؟ اُس نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولِ خدا! آپ ہی مجھے اُس کی خبر دیں کہ اُن میں تلخ مادہ کیوں ہے؟ حضرت نے فرمایا: خدائے عزّوجلّ نے کانوں کو اِس لیے تلخ کیا کہ کوئی جاندار اُن میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ مر جائے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو حشرات انسان کو مار ڈالتے۔ اور خداوندِ مہربان نے ہونٹوں کو شیریں قرار دیا تاکہ بشر شیرینی اور تلخی کا ذائقہ محسوس کرے، اور آنکھوں کو کھارا بنایا اِس لیے کہ آنکھیں چربی ہیں اور اگر اُن میں کھارا مادہ نہ ہو تو پانی ہو جائیں۔ اور ناک میں ایک رواں رطوبت رکھی اِس لیے کہ سر میں کوئی درد اور آفت پیدا نہیں ہوتی مگر یہ کہ یہ رطوبت اُسے باہر نکال دیتی ہے، اور اگر یہ رطوبت نہ ہوتی تو مغز سخت اور ٹھوس ہو جاتا اور اُس میں کیڑے پڑ جاتے۔

ع، علل الشرائع أبي عن سعد عن البرقي عن محمد بن علي عن عيسى بن عبد اللّٰه مثله.

علل الشرائع: عیسیٰ بن عبداللہ نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔

«10»- ع، علل الشرائع مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَاتِمٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليهما السلام فَقَالَ لِأَبِي حَنِيفَةَ اتَّقِ اللَّهَ وَ لَا تَقِسِ الدِّينَ بِرَأْيِكَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِالسُّجُودِ لآِدَمَ فَقَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَالَ أَ تُحْسِنُ أَنْ تَقِيسَ رَأْسَكَ مِنْ بَدَنِكَ قَالَ لَا قَالَ جَعْفَرٌ عليه السلام فَأَخْبِرْنِي لِأَيِّ شَيْ ءٍ جَعَلَ اللَّهُ الْمُلُوحَةَ فِي الْعَيْنَيْنِ وَ الْمَرَارَةَ فِي الْأُذُنَيْنِ وَ الْمَاءَ الْمُنْتِنَ فِي الْمَنْخِرَيْنِ وَ الْعُذُوبَةَ فِي الشَّفَتَيْنِ قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ جَعْفَرٌ عليه السلام لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى خَلَقَ الْعَيْنَيْنِ فَجَعَلَهُمَا شَحْمَتَيْنِ وَ جَعَلَ الْمُلُوحَةَ فِيهِمَا مَنّاً مِنْهُ عَلَى ابْنِ آدَمَ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَذَابَتَا وَ جَعَلَ الْأُذُنَيْنِ مُرَّتَيْنِ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَهَجَمَتِ الدَّوَابُّ وَ أَكَلَتْ دِمَاغَهُ وَ جَعَلَ الْمَاءَ فِي الْمَنْخِرَيْنِ لِيَصْعَدَ مِنْهُ النَّفَسُ وَ يَنْزِلَ وَ يَجِدَ مِنْهُ الرِّيحَ الطَّيِّبَةَ مِنَ الْخَبِيثَةِ وَ جَعَلَ الْعُذُوبَةَ

علل الشرائع: احمد بن حسن قطان ابن شبرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا: میں اور ابوحنیفہ حضرت جعفر بن محمد علیہما السلام کے پاس گئے۔ امام علیہ السلام نے ابوحنیفہ سے فرمایا: خدا سے ڈرو اور دین میں اپنی رائے سے قیاس نہ کرو، کیونکہ پہلا شخص جس نے قیاس کیا ابلیس تھا۔ خداوند نے اُسے حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرے، اُس نے جواب میں کہا: «أَنَا خَیْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِینٍ» {میں اُس سے بہتر ہوں۔ تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے پیدا کیا۔} میں آدم سے بہتر ہوں، کیونکہ تُو نے مجھے آگ سے اور اُسے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر حضرت نے ابوحنیفہ سے فرمایا: کیا تم اپنے سر میں قیاس کر سکتے ہو؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: نہیں۔ حضرت نے فرمایا: بتاؤ، حق تعالیٰ نے شوری کو آنکھوں میں اور تلخی کو کانوں میں اور بدبودار پانی کو ناک کی نالی میں اور شیرینی کو دونوں ہونٹوں میں کیوں رکھا؟ ابوحنیفہ نے عرض کیا: نہیں جانتا۔ حضرت نے فرمایا: اُس کی وجہ یہ ہے کہ حق تبارک و تعالیٰ نے آنکھوں کی جنس چربی قرار دی اور انسان پر احسان کیا اور شوری اُس میں رکھی، اِس لیے کہ اگر اِس کے سوا ہوتا تو آنکھیں پانی ہو جاتیں۔ اور کانوں میں تلخ مادہ رکھا، کیونکہ اِس کے بغیر جاندار اور حشرات اُن پر ہجوم کرتے اور کان کی راہ سے مغز تک پہنچ کر اُسے کھا جاتے۔ اور ناک کی دونوں نالیوں میں پانی رکھا تاکہ سانس اُس سے اوپر نیچے آئے جائے اور نیز خوشبو بدبو سے ممتاز ہو۔ اور دونوں ہونٹوں میں شیرینی رکھی