Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 288

فَقَأَ عَيْنَ صَحِيحٍ ١ وَ أَقْطَعَ قَطَعَ يَدَ رَجُلٍ كَيْفَ يُقَامُ عَلَيْهِمَا الْحَدُّ قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ عَالِمٌ بِمَبَاعِثِ الْأَنْبِيَاءِ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى لِمُوسَى وَ هَارُونَ حِينَ بَعَثَهُمَا إِلَى فِرْعَوْنَ لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشى وَ لَعَلَّ مِنْكَ شَكٌّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَذَلِكَ مِنَ اللَّهِ شَكٌّ إِذْ قَالَ لَعَلَّهُ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لَا عِلْمَ لِي قَالَ تَزْعُمُ أَنَّكَ تُفْتِي بِكِتَابِ اللَّهِ وَ لَسْتَ مِمَّنْ وَرِثَهُ وَ تَزْعُمُ أَنَّكَ صَاحِبُ قِيَاسٍ وَ أَوَّلُ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ وَ لَمْ يُبْنَ دَيْنُ الْإِسْلَامِ عَلَى الْقِيَاسِ وَ تَزْعُمُ أَنَّكَ صَاحِبُ رَأْيٍ وَ كَانَ الرَّأْيُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله صَوَاباً وَ مِنْ دُونِهِ خَطَأً لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِما أَراكَ اللَّهُ وَ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ لِغَيْرِهِ وَ تَزْعُمُ أَنَّكَ صَاحِبُ حُدُودٍ وَ مَنْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ أَوْلَى بِعِلْمِهَا مِنْكَ وَ تَزْعُمُ أَنَّكَ عَالِمٌ بِمَبَاعِثِ الْأَنْبِيَاءِ وَ لَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُ بِمَبَاعِثِهِمْ مِنْكَ لَوْ لَا أَنْ يُقَالَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْ ءٍ مَا سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْ ءٍ فَقِسْ إِنْ كُنْتَ مُقِيساً قَالَ لَا تَكَلَّمْتُ بِالرَّأْيِ وَ الْقِيَاسِ فِي دِينِ اللَّهِ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ قَالَ كَلَّا إِنَّ حُبَّ الرِّئَاسَةِ غَيْرُ تَارِكِكَ كَمَا لَمْ يَتْرُكْ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ تَمَامَ الْخَبَرِ.

فرمایا: اُس اندھے کے بارے میں حد کے قائم کرنے کا طریقہ کیا ہے جو کسی سالم آدمی کی آنکھ نکال دے، اور اُس کٹے ہاتھ والے کے بارے میں جو کسی آدمی کا ہاتھ کاٹ دے، اِن مواردوں میں کیا ہے؟ کہا: میں صرف بعثتِ انبیاء کا عالم ہوں۔ فرمایا: بتاؤ، اُس آیت میں جو خداوند نے موسیٰ و ہارون سے اُن کی بعثت کے وقت فرعون کی طرف فرمائی: «لَعَلَّهُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشی» {شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈرے۔} یہ «لَعَلَّ» تمہاری نظر میں شک ہے؟ کہا: جی ہاں۔ فرمایا: اور کیا وہ خدا کی جانب سے شک تھا کہ اُس نے کہا «شاید»؟ ابوحنیفہ نے کہا: نہیں جانتا۔ حضرت نے فرمایا: تم خیال کرتے ہو کہ کتابِ خدا کی بنیاد پر فتویٰ دیتے ہو جبکہ تم اُس کے اہل نہیں؛ اور خیال کرتے ہو کہ صاحبِ قیاس ہو، حالانکہ پہلا قیاس کرنے والا ابلیسِ ملعون تھا، اور دینِ اسلام قیاس کی بنیاد پر نہیں بنا؛ اور خیال کرتے ہو کہ تم صاحبِ رائے و نظر ہو، جبکہ صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی رائے صواب اور درست ہے، اور اُس کے سوا خطا اور نادرست ہے، کیونکہ خداوندِ متعال نے فرمایا: «لِتَحْکُمَ بَیْنَ النّاسِ بِما أَراکَ اللَّهُ» {تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُس کے [مطابق] فیصلہ کرو جو خدا نے تمہیں دکھایا۔} اور یہ اُن کے غیر سے نہیں فرمایا۔ اور خیال کرتے ہو کہ تم صاحبِ حدود ہو، اور جس پر قرآن نازل ہوا وہ تم سے علمِ حدود کا زیادہ سزاوار ہے؛ اور خیال کرتے ہو کہ تم مبعثِ انبیاء کے عالم ہو، اور خود خاتم الانبیاء تم سے پہلے اُن پر واقف ہیں۔ اور اگر یہ نہ ہوتا کہ کہا جاتا: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرزند کے پاس گیا اور اُن سے کوئی سوال نہ کیا، تو میں تم سے کچھ نہ پوچھتا۔ اگر تم اہلِ قیاس ہو تو قیاس کرو! ابوحنیفہ نے کہا: اِس مجلس کے بعد میں دینِ خدا میں رائے و قیاس سے کوئی بات نہ کروں گا۔ فرمایا: ہرگز، بے شک حبِ ریاست تمہیں نہ چھوڑے گی، جیسا کہ اُس نے تم سے پہلوں کو نہ چھوڑا۔

بيان: غرضه عليه السلام بيان جهله و عجزه عن استنباط الأحكام الشرعية بدون الرجوع إلى إمام الحق و المقيس لعله اسم آلة أو اسم مكان و سيأتي شرح كل جزء من أجزاء الخبر في المقام المناسب لذكره و ذكرها هناك موجب للتكرار.

امام علیہ السلام کی غرض اُس شخص کی نادانی اور امامِ حق کی طرف رجوع کیے بغیر احکامِ شرعیہ کے استنباط سے اُس کے عجز کا بیان ہے؛ اور کلمۂ «المقیاس» شاید اسمِ آلہ ہو یا اسمِ مکان، اور اِس خبر کے جزو جزو کی شرح اپنی مناسب جگہ پر ذکر ہو گی۔ اور اُس کا یہاں ذکر تکرار کا موجب ہے۔

«5»- ج، الإحتجاج عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ قَالَ: دَخَلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَقَالَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقِيسُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَا تَقِسْ فَإِنَّ أَوَّلَ مَنْ قَاسَ إِبْلِيسُ لَعَنَهُ اللَّهُ حِينَ قَالَ خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ فَقَاسَ مَا بَيْنَ النَّارِ وَ الطِّينِ وَ لَوْ قَاسَ نُورِيَّةَ آدَمَ بِنُورِيَّةِ النَّارِ عَرَفَ مَا بَيْنَ النُّورَيْنِ وَ ضِيَاءَ أَحَدِهِمَا عَلَى الْآخَرِ.

الاحتجاج: اور عیسیٰ بن عبداللہ قرشی سے نقل ہے: ایک دن ابوحنیفہ امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا، حضرت نے اُس سے فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم قیاس کرتے ہو؟ کہا: جی ہاں۔ فرمایا: قیاس نہ کرو، کیونکہ پہلا قیاس کرنے والا ابلیسِ ملعون تھا، جب اُس نے کہا: «خَلَقْتَنِی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَهُ مِنْ طِینٍ» {تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اُسے مٹی سے پیدا کیا۔} اُس نے آگ اور خاک کے درمیان قیاس کیا، اور اگر وہ آدم کی نورانیت کو آگ کی نورانیت سے قیاس کرتا تو دونوں نوروں کے درمیان امتیاز اور ایک کی دوسرے پر پاکیزگی کو پا لیتا۔

إيضاح: يحتمل أن يكون المراد بالقياس هنا أعم من القياس الفقهي من الاستحسانات العقلية و الآراء الواهية التي لم تؤخذ من الكتاب و السنة و يكون المراد أن طريق العقل مما يقع فيه الخطأ كثيرا فلا يجوز الاتكال عليه في أمور الدين بل يجب الرجوع في جميع ذلك إلى أوصياء سيد المرسلين صلوات اللّٰه عليهم أجمعين و هذا هو الظاهر في أكثر أخبار هذا الباب فالمراد بالقياس هنا القياس اللغوي و يرجع قياس

احتمال ہے کہ یہاں قیاس سے مراد قیاسِ فقہی سے اعم ہو، جو اُن عقلی استحسانات اور واہی و باطل آراء سے عبارت ہے جو کتاب و سنت سے نہ لی گئی ہوں۔ مراد یہ ہے کہ طریقِ عقل اُن چیزوں میں سے ہے جن میں اکثر اوقات خطا واقع ہوتی ہے، پس امورِ دین میں اُس عقل پر اعتماد جائز نہیں، بلکہ دین کے تمام احکام میں اوصیاءِ سید المرسلین، صلواتِ خدا اُن سب پر، کی طرف رجوع واجب ہے، اور یہ مطلب اِس باب کی بہت سی اخبار میں ظاہر ہے۔ پس یہاں قیاس سے مراد قیاسِ لغوی ہے،

(١)1- أي قلع عين صحيح.یعنی کسی سالم آنکھ کو جگہ سے نکال دیا۔