شَحْمَتَيْنِ وَ لَذَاذَةَ الطَّعَامِ وَ حِينَ قَالَ خَلَقْتَنِي فَدَعُوا الرَّأْيَ وَ الْقِيَاسَ وَ مَا قَالَ قَوْمٌ لَيْسَ لَهُ فِي دِينِ اللَّهِ بُرْهَانٌ فَإِنَّ دِينَ اللَّهِ لَمْ يُوضَعْ بِالْآرَاءِ وَ الْمَقَايِيسِ
«علی شحمتین» اور «ولذاذۃ الطعام»، «حین قال خلقتنی»، «فدعوا الرأی و القیاس و ما قال قوم لیس لہ فی دین اللہ برہان»، «فإن دین اللہ لم یوضع بالآراء و المقاییس» آیا ہے۔
«4»- ج، الإحتجاج فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَنَّ الصَّادِقَ عليه السلام قَالَ لِأَبِي حَنِيفَةَ لَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ قَالَ عليه السلام مُفْتِي أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ نَعَمْ قَالَ بِمَا تُفْتِيهِمْ قَالَ بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ عليه السلام وَ إِنَّكَ لَعَالِمٌ بِكِتَابِ اللَّهِ نَاسِخِهِ وَ مَنْسُوخِهِ وَ مُحْكَمِهِ وَ مُتَشَابِهِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ قَدَّرْنا فِيهَا السَّيْرَ سِيرُوا فِيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنِينَ أَيُّ مَوْضِعٍ هُوَ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِلَى جُلَسَائِهِ وَ قَالَ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَسِيرُونَ بَيْنَ مَكَّةَ وَ الْمَدِينَةِ وَ لَا تَأْمَنُونَ عَلَى دِمَائِكُمْ مِنَ الْقَتْلِ وَ عَلَی أَمْوَالِكُمْ مِنَ السَّرَقِ فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَيْحَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقُولُ إِلَّا حَقّاً أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ مَنْ دَخَلَهُ كانَ آمِناً أَيُّ مَوْضِعٍ هُوَ قَالَ ذَلِكَ بَيْتُ اللَّهِ الْحَرَامُ فَالْتَفَتَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِلَى جُلَسَائِهِ وَ قَالَ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زُبَيْرٍ وَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ دَخَلَاهُ فَلَمْ يَأْمَنَا الْقَتْلَ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَيْحَكَ يَا أَبَا حَنِيفَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقُولُ إِلَّا حَقّاً فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لَيْسَ لِي عِلْمٌ بِكِتَابِ اللَّهِ إِنَّمَا أَنَا صَاحِبُ قِيَاسٍ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَانْظُرْ فِي قِيَاسِكَ إِنْ كُنْتَ مُقِيساً أَيُّمَا أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ الْقَتْلُ أَوِ الزِّنَا قَالَ بَلِ الْقَتْلُ قَالَ فَكَيْفَ رَضِيَ فِي الْقَتْلِ بِشَاهِدَيْنِ وَ لَمْ يَرْضَ فِي الزِّنَا إِلَّا بِأَرْبَعَةٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ الصَّلَاةُ أَفْضَلُ أَمِ الصِّيَامُ قَالَ بَلِ الصَّلَاةُ أَفْضَلُ قَالَ عليه السلام فَيَجِبُ عَلَى قِيَاسِ قَوْلِكَ عَلَى الْحَائِضِ قَضَاءُ مَا فَاتَهَا مِنَ الصَّلَاةِ فِي حَالِ حَيْضِهَا دُونَ الصِّيَامِ وَ قَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهَا قَضَاءَ الصَّوْمِ دُونَ الصَّلَاةِ ثُمَّ قَالَ لَهُ الْبَوْلُ أَقْذَرُ أَمِ الْمَنِيُّ قَالَ الْبَوْلُ أَقْذَرُ قَالَ عليه السلام يَجِبُ عَلَى قِيَاسِكَ أَنْ يَجِبَ الْغُسْلُ مِنَ الْبَوْلِ دُونَ الْمَنِيِّ وَ قَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ تَعَالَى الْغُسْلَ مِنَ الْمَنِيِّ دُونَ الْبَوْلِ قَالَ إِنَّمَا أَنَا صَاحِبُ رَأْيٍ قَالَ عليه السلام فَمَا تَرَى فِي رَجُلٍ كَانَ لَهُ عَبْدٌ فَتَزَوَّجَ وَ زَوَّجَ عَبْدَهُ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ فَدَخَلَا بِامْرَأَتَيْهِمَا فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ سَافَرَا وَ جَعَلَا امْرَأَتَيْهِمَا فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ فَوَلَدَتَا غُلَامَيْنِ فَسَقَطَ الْبَيْتُ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَ الْمَرْأَتَيْنِ وَ بَقِيَ الْغُلَامَانِ أَيُّهُمَا فِي رَأْيِكَ الْمَالِكُ وَ أَيُّهُمَا الْمَمْلُوكُ وَ أَيُّهُمَا الْوَارِثُ وَ أَيُّهُمَا الْمَوْرُوثُ قَالَ إِنَّمَا أَنَا صَاحِبُ حُدُودٍ قَالَ فَمَا تَرَى فِي رَجُلٍ أَعْمَى
الاحتجاج: اور ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے ابوحنیفہ کے داخل ہوتے ہی اُس سے فرمایا: تم کون ہو؟ کہا: ابوحنیفہ۔ فرمایا: وہی مفتیِ اہلِ عراق؟ کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تم لوگوں کو کس چیز سے فتویٰ دیتے ہو؟ کہا: قرآن سے۔ فرمایا: کیا تم پورے قرآن کے، ناسخ و منسوخ سے لے کر محکم و متشابہ تک، عالم ہو؟ کہا: جی ہاں۔ فرمایا: آیت «وَ قَدَّرْنا فِیهَا السَّیْرَ سِیرُوا فِیها لَیالِیَ وَ أَیَّاماً آمِنِینَ» {اور ہم نے اُن کے درمیان سفر کی مسافت معین کی تھی۔ اِن [راستوں] میں راتوں اور دنوں امن کے ساتھ چلو۔} میں خداوند کی مراد کون سی جگہ ہے؟ ابوحنیفہ نے کہا: وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ اِس جواب کے بعد امام صادق علیہ السلام نے اہلِ مجلس کی طرف رخ کیا اور فرمایا: تمہیں خدا کی قسم، کیا کبھی ایسا ہوا کہ تم مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرو اور اپنی جان و مال پر امان میں ہو؟ سب نے کہا: نہیں، خدا کی قسم وہی ہے جو آپ فرماتے ہیں۔ پس امام علیہ السلام نے فرمایا: افسوس تم پر اے ابوحنیفہ! خداوند حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ بتاؤ، آیت «وَ مَنْ دَخَلَهُ کانَ آمِناً» {جو اُس میں داخل ہو وہ امان میں ہے۔} میں خداوند کی مراد کون سی جگہ ہے؟ کہا: وہ بیت اللہ الحرام ہے۔ امام علیہ السلام نے اہلِ مجلس کی طرف رخ کیا اور فرمایا: تمہیں خدا کی قسم، کیا عبداللہ بن زبیر اور سعید بن جبیر بیت اللہ الحرام میں داخل ہونے سے قتل سے محفوظ رہے؟ سب نے کہا: خدا کی قسم ایسا ہی ہے جیسا آپ کہتے ہیں۔ امام نے فرمایا: افسوس تم پر اے ابوحنیفہ! خداوند حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ ابوحنیفہ نے کہا: مجھے قرآن کا علم نہیں، بلکہ میں قیاس کا عالم ہوں۔ فرمایا: اپنے علمِ قیاس کی طرف رجوع کر کے بتاؤ، خدا کے نزدیک [گناہِ] قتل عظیم تر ہے یا زنا؟ کہا: بلکہ قتل۔ فرمایا: تو پھر کیوں خداوند نے قتل میں دو گواہوں پر اکتفا فرمائی، مگر زنا میں چار گواہوں سے کم پر رضا نہ دی؟ پھر فرمایا: نماز افضل ہے یا روزہ؟ کہا: بلکہ نماز افضل ہے۔ فرمایا: تمہارے قیاس کی بنا پر حائض پر اُن نمازوں کی قضا واجب ہے جو اُس نے نہ پڑھیں، نہ کہ روزہ، حالانکہ خداوندِ متعال نے اُس پر روزے کی قضا واجب فرمائی ہے نہ کہ نماز کی۔ امام صادق علیہ السلام نے ابوحنیفہ سے فرمایا: نجاست پیشاب کی بڑھ کر ہے یا منی کی؟ کہا: پیشاب زیادہ نجس ہے۔ فرمایا: تمہارے قیاس کی بنا پر غسل پیشاب پر واجب ہے نہ کہ منی پر، حالانکہ خداوندِ متعال نے غسل منی پر واجب فرمایا ہے نہ کہ پیشاب پر۔ ابوحنیفہ نے کہا: میں صاحبِ رائے ہوں۔ فرمایا: تمہاری رائے اُس آدمی کے بارے میں کیا ہے جو اور اُس کا غلام دونوں ایک ہی دن [دو عورتوں سے] شادی کریں اور اُسی رات اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستر ہوں، پھر دونوں سفر پر چلے جائیں اور اپنی بیویوں کو ایک گھر میں چھوڑ جائیں۔ کچھ مدت بعد دونوں بیویوں میں سے ہر ایک کے ہاں ایک بیٹا ہوتا ہے۔ اتفاقاً گھر کی چھت گر جاتی ہے اور دونوں عورتیں مر جاتی ہیں اور دونوں بچے رہ جاتے ہیں؛ تمہاری رائے کے مطابق اُن دونوں لڑکوں میں سے کون غلام ہے اور کون مالک، اور کون وارث ہے اور کون موروث؟ کہا: میں صرف حدود میں وارد ہوں۔