Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 284

محمد: «أَ فَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ كَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَ اتَّبَعُوا أَهْواءَهُمْ»(14)

محمد: «کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی جانب سے ایک حجت پر ہے، اُس شخص جیسا ہے جس کے لیے اُس کے عمل کی برائی خوشنما بنا دی گئی اور جنہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی؟»

النجم: «إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَ ما تَهْوَى الْأَنْفُسُ وَ لَقَدْ جاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدى»(23)

{[یہ بت] صرف کچھ نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے [اور] خدا نے اُن [کی حقانیت] پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ [وہ] گمان اور اُس کے سوا جو اُن کے دل چاہتے ہیں کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے، حالانکہ یقیناً اُن کے پروردگار کی جانب سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے۔}

«1»- نهج، نهج البلاغة ج، الإحتجاج رُوِیَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: تَرِدُ عَلَى أَحَدِهِمُ الْقَضِيَّةُ فِي حُكْمٍ مِنَ الْأَحْكَامِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِرَأْيِهِ ثُمَّ تَرِدُ تِلْكَ الْقَضِيَّةُ بِعَيْنِهَا عَلَى غَيْرِهِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِخِلَافِ قَوْلِهِ ثُمَّ تَجْتَمِعُ الْقُضَاةُ بِذَلِكَ عِنْدَ الْإِمَامِ الَّذِي اسْتَقْضَاهُمْ فَيُصَوِّبُ آرَاءَهُمْ جَمِيعاً وَ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ وَ كِتَابُهُمْ وَاحِدٌ أَ فَأَمَرَهُمُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِالاخْتِلَافِ فَأَطَاعُوهُ أَمْ نَهَاهُمْ عَنْهُ فَعَصَوْهُ أَمْ أَنْزَلَ اللَّهُ دِيناً نَاقِصاً فَاسْتَعَانَ بِهِمْ عَلَى إِتْمَامِهِ أَمْ كَانُوا شُرَكَاءَ لَهُ فَلَهُمْ أَنْ يَقُولُوا وَ عَلَيْهِ أَنْ يَرْضَی أَمْ أَنْزَلَ اللَّهُ دِيناً تَامّاً فَقَصَّرَ الرَّسُولُ صلى اللّٰه عليه و آله عَنْ تَبْلِيغِهِ وَ أَدَائِهِ وَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ يَقُولُ ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْ ءٍ وَ فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ ذَكَرَ أَنَّ الْكِتَابَ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضاً وَ أَنَّهُ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافاً كَثِيراً وَ إِنَّ الْقُرْآنَ ظَاهِرُهُ أَنِيقٌ وَ بَاطِنُهُ عَمِيقٌ لَا تَفْنَی عَجَائِبُهُ وَ لَا تَنْقَضِي غَرَائِبُهُ وَ لَا تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلَّا بِهِ.

نہج البلاغہ، الاحتجاج: امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اجتماعی احکام میں سے کسی حکم کے بارے میں ایک مقدمہ کسی عالم کے پاس لے جایا جاتا ہے جو اپنی رائے سے ایک حکم صادر کرتا ہے۔ پھر وہی مقدمہ کسی دوسرے کے پاس لے جایا جاتا ہے جو بالکل پہلے کی رائے کے خلاف حکم دیتا ہے۔ پھر تمام قاضی اپنے سربراہ کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے اُنہیں قضاوت پر مقرر کیا، اور وہ سب کی رائے کو حق شمار کرتا ہے! جبکہ اُن کا خدا ایک، اُن کا پیغمبر ایک اور اُن کی کتاب ایک ہے۔ کیا خدائے سبحان نے اُنہیں اختلاف کا حکم دیا اور اُنہوں نے اطاعت کی؟ یا اُنہیں اختلاف سے روکا اور اُنہوں نے خدا کی معصیت کی؟ کیا خدائے سبحان نے کوئی ناقص دین بھیجا اور اُس کی تکمیل میں اُن سے مدد چاہی؟ کیا وہ خدا کے شریک ہیں کہ احکامِ دین میں جو چاہیں کہیں اور خدا رضا دے؟ کیا خدائے سبحان نے کامل دین بھیجا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے اُس کے ابلاغ میں کوتاہی کی؟ جبکہ خدائے سبحان فرماتا ہے: «ما فَرَّطْنا فِی الْکِتابِ مِنْ شَیْ ءٍ» {ہم نے کتاب [لوحِ محفوظ] میں کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا۔} اور فرمایا: «وَ فِیهِ تِبیَانُ کُلُّ شَیْ ءٍ»۔ اور ہم نے یاد دلایا کہ قرآن کا بعض حصہ بعض دوسرے کا گواہ ہے اور اُس میں کوئی اختلاف نہیں۔ پس خدائے سبحان نے فرمایا: «وَ لَوْ کانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِیهِ اخْتِلافاً کَثِیراً» {اگر وہ غیرِ خدا کی جانب سے ہوتا تو یقیناً اُس میں بہت سا اختلاف پاتے۔} بے شک قرآن ایک خوب صورت ظاہر اور گہرا اور ناپیدا باطن رکھتا ہے، اُس کے عجائب تمام نہیں ہوتے، اور اُس کے پوشیدہ اسرار اختتام کو نہیں پہنچتے اور قرآن کے بغیر تاریکیاں برطرف نہ ہوں گی۔

بيان: هذا تشنيع على من يحكم برأيه و عقله من غير رجوع إلى الكتاب و السنة و إلی أئمة الهدى عليهم السلام فإن حقية هذا إنما يكون إما بإله آخر بعثهم أنبياء و أمرهم بعدم الرجوع إلى هذا النبي المبعوث و أوصيائه عليهم السلام أو بأن يكون اللّٰه شرك بينهم و بين النبي صلى اللّٰه عليه و آله في النبوة أو بأن لا يكون اللّٰه عز و جل بين لرسوله صلى اللّٰه عليه و آله جميع ما يحتاج إليه الأمة أو بأن بينه له لكن النبي قصر في تبليغ ذلك و لم يترك بين الأمة أحدا يعلم جميع ذلك و قد أشار عليه السلام إلى بطلان جميع تلك الصور فلم يبق إلا أن يكون بين الأمة من يعرف جميع ذلك و يلزمهم الرجوع إليه في جميع أحكامهم.

یہ حدیث جو امیر المؤمنین سے نہج البلاغہ میں روایت ہوئی ہے، اُس شخص کی تشنیع اور سرزنش ہے جو کتاب و سنت اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی طرف رجوع کیے بغیر اپنی رائے اور عقل سے حکم کرتا ہے۔ حقیقتاً اِن کا کام اِس وجہ سے ہے کہ یا تو وہ کسی دوسرے خدا کا معتقد ہے جس نے کچھ پیغمبر چنے اور اُنہیں حکم دیا کہ اِس پیغمبر اور اُن کے اوصیا کی طرف رجوع نہ کریں؛ یا خدا نے اُنہیں پیغمبر کے ساتھ نبوت میں شریک قرار دیا ہے؛ یا اِس وجہ سے کہ خداوند نے اپنے رسول کے لیے امت کی تمام ضروریات بیان نہیں فرمائیں؛ یا اِس وجہ سے کہ خداوند نے امت کی تمام ضروری احکام اپنے پیغمبر کے لیے بیان کیے لیکن پیغمبر نے اُن احکام کے ابلاغ میں تقصیر کی اور امت میں کسی کو نہ چھوڑا جو وہ تمام احکام جانتا ہو اور اُن سب کا علم رکھتا ہو۔ اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اِن تمام صورتوں کو باطل جانا اور اِن سب کے بطلان کی طرف اشارہ کیا۔ پس ایک ہی صورت باقی رہتی ہے اور وہ یہ کہ اِس امت میں کوئی موجود ہے جو وہ تمام احکام جانتا ہے اور امت پر لازم ہے کہ اُس تمام احکام سے آگاہ شخص کی طرف رجوع کرے۔

و أما الاختلاف الناشئ من الجمع بين الأخبار بوجوه مختلفة أو العمل بالأخبار المتعارضة باختلاف المرجحات التي تظهر لكل عالم بعد بذل جهدهم و عدم تقصيرهم فليس من ذلك في شي ء و قد عرفت ذلك في باب اختلاف الأخبار و يندفع بذلك إذا أمعنت النظر كثير من التشنيعات التي شنعها بعض المتأخرين على أجلة العلماء الأخيار.

اور رہا وہ اختلاف جو اخبار کے درمیان مختلف وجوہ سے جمع کرنے سے پیدا ہوتا ہے، یا متعارض اخبار پر اُن مرجحات کے اختلاف کے سبب عمل کرنے سے جو ہر عالم کے لیے اُس کی بذلِ جہد و کوشش اور عدمِ تقصیر کے بعد ظاہر ہوتے ہیں، تو وہ کوئی سخت چیز نہیں، اور تم نے اُسے بابِ اختلافِ اخبار میں پہچانا۔ اور اِس کلام سے، جب تم دقت کرو گے، اُن بہت سی تشنیعات اور سرزنشوں کا دفع ہو جاتا ہے جو بعض متأخرین نے ہمارے بزرگ اور اخیار علماء کے مقابلے میں کی ہیں۔

«2»- ج، الإحتجاج رُوِيَ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ: إِنَّ أَبْغَضَ الْخَلَائِقِ إِلَى اللَّهِ

الاحتجاج: نقل ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: دو شخص خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مبغوض لوگ ہیں: