قَالَ لِأَنَّكَ كُنْتَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ طَهَارَتِكَ ثُمَّ شَكَكْتَ فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَنْقُضَ الْيَقِينَ بِالشَّكِّ أَبَداً قُلْتُ فَهَلْ عَلَيَّ إِنْ شَكَكْتُ فِي أَنَّهُ أَصَابَهُ شَيْ ءٌ أَنْ أَنْظُرَ فِيهِ قَالَ لَا وَ لَكِنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تُذْهِبَ الشَّكَّ الَّذِي وَقَعَ فِي نَفْسِكَ قُلْتُ فَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ أَصَابَهُ وَ لَمْ أَدْرِ أَيْنَ هُوَ فَأَغْسِلَهُ قَالَ تَغْسِلُ مِنْ ثَوْبِكَ النَّاحِيَةَ الَّتِي تَرَى أَنَّهُ قَدْ أَصَابَهَا حَتَّى تَكُونَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ طَهَارَتِكَ الْخَبَرَ.
فرمایا: کیونکہ تمہیں پاک ہونے کا یقین تھا اور پھر تم نے شک کیا۔ پس تمہارے لیے نہیں کہ اپنے یقین کو ہمیشہ شک سے توڑو۔ میں نے عرض کیا: کیا اِس صورت میں یہ سزاوار نہیں کہ چونکہ میں نے اپنے لباس کے نجس ہونے میں شک کیا، میرا وظیفہ یہ تھا کہ دیکھوں؟ فرمایا: نہیں، لیکن تم چاہتے ہو کہ شک کو اپنے دل سے دور کرو۔ میں نے عرض کیا: میں نے جان لیا کہ میرا لباس نجس ہو گیا ہے، لیکن اُس کی جگہ مجھ پر مشخص نہ ہوئی کہ اُسے دھوؤں؟ فرمایا: لباس کا وہ حصہ جس کے بارے میں تم سوچتے ہو کہ نجس ہوا ہے، دھو لو تاکہ تمہیں اپنے لباس کی طہارت کا یقین ہو جائے۔
ع، علل الشرائع أبي عن علي عن أبيه عن حماد مثله.
علل الشرائع: حماد نے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔
«56»- يب، تهذيب الأحكام سَعْدٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: سَأَلَ أَبِي أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ أَنَا حَاضِرٌ إِنِّي أُعِيرُ الذِّمِّيَّ ثَوْبِي وَ أَنَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ وَ يَأْكُلُ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ فَيَرُدُّهُ عَلَيَّ فَأَغْسِلُهُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام صَلِّ فِيهِ وَ لَا تَغْسِلْهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ فَإِنَّكَ أَعَرْتَهُ إِيَّاهُ وَ هُوَ طَاهِرٌ وَ لَمْ تَسْتَيْقِنْ أَنَّهُ نَجَّسَهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ تُصَلِّيَ فِيهِ حَتَّى تَسْتَيْقِنَ أَنَّهُ نَجَّسَهُ.
تہذیب الأحکام: عبداللہ بن سنان کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا: میں اپنا لباس ایک کافرِ ذمی کو عاریت دیتا ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ شراب پیتا ہے اور سؤر کا گوشت کھاتا ہے، پھر وہ میرا لباس مجھے واپس کرتا ہے؛ کیا میں اُسے نماز پڑھنے سے پہلے دھوؤں؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اُس میں نماز پڑھو اور اِس وجہ سے اُسے نہ دھوؤ، کیونکہ جب تم نے وہ لباس اُسے عاریت دیا تو وہ پاک تھا اور تمہیں یقین نہ ہوا کہ وہ نجس ہوا ہے؛ پس کوئی اشکال نہیں کہ اُس میں نماز پڑھو، مگر یہ کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ نجس ہے۔
«57»- يب، تهذيب الأحكام الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ ضُرَيْسٍ الْكُنَاسِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام عَنِ السَّمْنِ وَ الْجُبُنِّ نَجِدُهُ فِي أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ بِالرُّومِ أَ نَأْكُلُهُ فَقَالَ أَمَّا مَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَدْ خَلَطَهُ الْحَرَامُ فَلَا تَأْكُلْ وَ أَمَّا مَا لَمْ تَعْلَمْ فَكُلْهُ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّهُ حَرَامٌ.
تہذیب الأحکام: ضریس کناسی کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے اُس روغن اور پنیر کے بارے میں سوال کیا جو روم ـ سرزمینِ مشرکین ـ سے ہمارے پاس پہنچتا ہے، کیا ہم اُس میں سے کھائیں؟ فرمایا: اُتنی مقدار جس کے بارے میں تم جانتے ہو کہ حرام سے مخلوط ہوئی ہے، نہ کھاؤ۔ اور رہی وہ مقدار جس کے بارے میں تم نہیں جانتے، تو اُسے کھاؤ، مگر یہ کہ یقیناً جان لو کہ حرام ہے۔
«58»- يب، تهذيب الأحكام ابْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام كُلُّ شَيْ ءٍ يَكُونُ فِيهِ حَرَامٌ وَ حَلَالٌ فَهُوَ لَكَ حَلَالٌ أَبَداً حَتَّى تَعْرِفَ الْحَرَامَ مِنْهُ بِعَيْنِهِ فَتَدَعَهُ.
تہذیب الأحکام: عبداللہ بن سنان کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر وہ چیز جس میں حرام اور حلال دونوں ہوں، وہ تمہارے لیے ہمیشہ حلال ہے، مگر یہ کہ اُس کی حرام مقدار مشخص طور پر جان لو، کہ [اُسے] چھوڑ دو۔
«59»- دَعَوَاتُ الرَّاوَنْدِيِّ، وَ الْكَافِي، عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: حَضَرَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام جَنَازَةَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَ أَنَا مَعَهُ وَ كَانَ عَطَاءٌ فِيهَا فَصَرَخَتْ صَارِخَةٌ فَقَالَ- عَطَاءٌ لَتَسْكُتَنَّ أَوْ لَنَرْجِعَنَّ قَالَ فَلَمْ تَسْكُتْ فَرَجَعَ عَطَاءٌ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام إِنَّ عَطَاءً قَدْ رَجَعَ قَالَ وَ لِمَ قُلْتُ كَانَ كَذَا وَ كَذَا قَالَ امْضِ بِنَا فَلَوْ أَنَّا إِذَا رَأَيْنَا شَيْئاً مِنَ الْبَاطِلِ تَرَكْنَا الْحَقَّ لَمْ نَقْضِ حَقَّ مُسْلِمٍ الْخَبَرَ.
دعوات الراوندی و کافی: زرارہ کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام قریش کے ایک آدمی کے جنازے کی تشییع کر رہے تھے اور میں بھی آپ کی ملازمت میں تھا؛ عطاء بن اسلم، فقیہِ مکہ، بھی جنازے کے ساتھ چلنے میں شریک تھا۔ مُردے کے رشتہ داروں میں سے ایک عورت نے شیون کیا اور عطاء نے اُس سے کہا: یا تو تم خاموش ہو جاؤ یا ہم لوٹ جائیں گے! وہ عورت خاموش نہ ہوئی اور عطاء جنازے کی مشایعت سے لوٹ گیا۔ میں نے امام باقر علیہ السلام سے کہا: عطاء لوٹ گیا۔ امام باقر علیہ السلام نے پوچھا: کیوں؟ میں نے قصہ بیان کیا۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: میرے ساتھ آؤ۔ اگر ہم کسی باطل روش کو کسی سنتِ برحق کے پہلو میں مشاہدہ کریں اور اُس باطل روش کی وجہ سے سنتِ برحق کو ترک کر دیں، تو ہم کسی مسلمان کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
«60»- كِتَابُ الْمَسَائِلِ، لِعَلِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَخِي مُوسَى عليه السلام عَمَّنْ يَرْوِي تَفْسِيراً أَوْ رِوَايَةً عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فِي قَضَاءٍ أَوْ طَلَاقٍ أَوْ عِتْقٍ أَوْ شَيْ ءٍ لَمْ نَسْمَعْهُ قَطُّ مِنْ مَنَاسِكَ أَوْ شِبْهِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسَمَّى لَكُمْ عَدُوّاً أَ يَسَعُنَا أَنْ نَقُولَ فِي قَوْلِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنْ كَانَ
کتاب المسائل: علی بن جعفر کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائی موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے اُس شخص کے بارے میں سوال کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے قضاوت یا طلاق یا عتق کے بارے میں، یا مناسکِ حج میں سے کسی ایسی چیز کے بارے میں جو میں نے اب تک نہیں سنی، یا اُس کی مانند، کوئی تفسیر یا روایت نقل کرتا ہے بغیر اِس کے کہ آپ کے دشمنوں میں سے کسی کا نام لے، کہ کیا ہم اُس کے قول کے بارے میں کہہ سکتے ہیں: اللہ اعلم، اگر