أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ كُفِيَ مَا لَمْ يَعْلَمْ.
امام صادق علیہ السلام کے قول سے کہا کہ آپ نے فرمایا: جو اُس پر عمل کرے جو وہ جانتا ہے، اُسے اُن چیزوں سے کفایت کی جائے گی جو وہ نہیں جانتا۔
«50»- يد، التوحيد أَبِي عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ الْحَجَّالِ عَنْ ثَعْلَبَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَمَّنْ لَا يَعْرِفُ شَيْئاً هَلْ عَلَيْهِ شَيْ ءٌ قَالَ لَا.
توحید: عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے اُس شخص کے بارے میں پوچھا جو کچھ بھی نہ جانتا ہو، کیا اُس پر کوئی تکلیف ہے؟ فرمایا: نہیں۔
«51»- يب، تهذيب الأحكام الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ سِبَاعِ الطَّيْرِ وَ الْوَحْشِ حَتَّى ذُكِرَ لَهُ الْقَنَافِذُ وَ الْوَطْوَاطُ وَ الْحَمِيرُ وَ الْبِغَالُ فَقَالَ لَيْسَ الْحَرَامُ إِلَّا مَا حَرَّمَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ الْخَبَرَ.
تہذیب الأحکام: محمد بن مسلم نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ سے شکاری پرندوں اور درندوں کے بارے میں پوچھا، حتیٰ آپ سے خارپشت، چمگادڑ، گدھے اور خچر کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: کوئی چیز حرام نہیں سوائے اُس کے جو خدا نے قرآن میں حرام کی ہے… تا آخرِ خبر۔
«52»- كا، الكافي يب، تهذيب الأحكام الْعِدَّةُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِذَا اسْتَيْقَنْتَ أَنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَتَوَضَّأْ وَ إِيَّاكَ أَنْ تُحْدِثَ وُضُوءاً أَبَداً حَتَّى تَسْتَيْقِنَ أَنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ.
کافی، تہذیب الأحکام: ابن بکیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تمہیں یقین ہو جائے کہ تم سے حدث سرزد ہوا اور تم نے وضو کیا تھا، تو اِس سے بچو کہ اپنا وضو باطل کرو اور دوبارہ وضو کرو، مگر یہ کہ تمہیں یقین ہو کہ تم سے حدث سرزد ہوا ہے۔
«53»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْفَضْلِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَحَدِهِمَا عليهما السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ مَنْ لَمْ يَدْرِ فِي أَرْبَعٍ هُوَ أَمْ فِي ثِنْتَيْنِ وَ قَدْ أَحْرَزَ ثِنْتَيْنِ قَالَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَ أَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَ هُوَ قَائِمٌ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَ يَتَشَهَّدُ وَ لَا شَيْ ءَ عَلَيْهِ وَ إِذَا لَمْ يَدْرِ فِي ثَلَاثٍ هُوَ أَوْ فِي أَرْبَعٍ وَ قَدْ أَحْرَزَ الثَّلَاثَ قَامَ فَأَضَافَ إِلَيْهَا أُخْرَى وَ لَا شَيْ ءَ عَلَيْهِ وَ لَا يَنْقُضُ الْيَقِينَ بِالشَّكِّ وَ لَا يُدْخِلُ الشَّكَّ فِي الْيَقِينِ وَ لَا يَخْلِطُ أَحَدَهُمَا بِالْآخَرِ وَ لَكِنَّهُ يَنْقُضُ الشَّكَّ بِالْيَقِينِ وَ يَتِمُّ عَلَى الْيَقِينِ فَيَبْنِي عَلَيْهِ وَ لَا يَعْتَدُّ بِالشَّكِّ فِي حَالٍ مِنَ الْحَالاتِ.
کافی: زرارہ نے امام باقر یا امام صادق علیہما السلام سے روایت کی کہ میں نے اُن سے عرض کیا: جو نہ جانے کہ وہ چوتھی رکعت میں ہے یا دوسری میں، اور یقین رکھتا ہو کہ دو رکعت پڑھ چکا ہے، [کیا کرے]؟ فرمایا: دو رکعت نماز کھڑے ہو کر فاتحۃ الکتاب اور چار سجدوں اور تشہد کے ساتھ بجا لائے، اور اُس پر کچھ نہیں۔ اور جب نہ جانے کہ وہ تیسری رکعت میں ہے یا چوتھی میں اور یقین رکھتا ہو کہ تیسری رکعت پڑھ چکا ہے، تو کھڑا ہو اور ایک اور رکعت کھڑے ہو کر پڑھے اور اُس پر کچھ نہیں۔ یقین شک سے نہیں ٹوٹتا، اور شک یقین میں داخل نہیں ہوتا اور اُن میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ مخلوط نہیں ہوتا، بلکہ شک یقین سے ٹوٹتا ہے اور گزشتہ یقین کی بنا پر نماز تمام ہوتی ہے اور کسی حالت میں شک کی پروا نہیں کی جاتی۔
«54»- يب، تهذيب الأحكام مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ الْبَزَنْطِيِّ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَأْتِي السُّوقَ فَيَشْتَرِي جُبَّةَ فِرَاءٍ لَا يَدْرِي أَ ذَكِيَّةٌ هِيَ أَمْ غَيْرُ ذَكِيَّةٍ أَ يُصَلِّی فِيهَا فَقَالَ نَعَمْ لَيْسَ عَلَيْكُمُ الْمَسْأَلَةُ إِنَّ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْخَوَارِجَ ضَيَّقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِجَهَالَتِهِمْ إِنَّ الدِّينَ أَوْسَعُ مِنْ ذَلِكَ.
تہذیب الأحکام: بزنطی کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے اُس آدمی کے بارے میں پوچھا جو بازار آتا ہے، خز کی عبا خریدتا ہے اور نہیں جانتا کہ پاک ہے یا نہیں؟ کیا اُس میں نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا: جی ہاں۔ سوال اور تفحص تم پر لازم نہیں۔ امام باقر علیہ السلام ہمیشہ فرماتے تھے: خوارج نے نادانی کے سبب اپنے اوپر تنگی کی، دین اُس سے وسیع تر ہے۔
يه، من لا يحضر الفقيه عن سليمان الجعفري عن العبد الصالح عليه السلام مثله.
من لا یحضرہ الفقیہ: سلیمان جعفری سے، امام کاظم علیہ السلام سے اُسی کی مانند روایت کی ہے۔
«55»- يب، تهذيب الأحكام الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ أَصَابَ ثَوْبِي دَمُ رُعَافٍ أَوْ غَيْرُهُ أَوْ شَيْ ءٌ مِنَ الْمَنِيِّ إِلَى أَنْ قَالَ فَإِنْ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ أَصَابَهُ وَ لَمْ أَتَيَقَّنْ ذَلِكَ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ شَيْئاً ثُمَّ صَلَّيْتُ فَرَأَيْتُ فِيهِ قَالَ تَغْسِلُهُ وَ لَا تُعِيدُ الصَّلَاةَ قُلْتُ لِمَ ذَاكَ
تہذیب الأحکام: حریز نے زرارہ سے نقل کیا ہے: میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: ناک کا خون یا اُس کے علاوہ یا کچھ منی میرے لباس پر لگی اور میں نے گمان کیا کہ لباس پر لگی ہے مگر یقین نہیں؛ پس میں نے دیکھا اور کچھ نہ دیکھا، پھر نماز پڑھی اور نماز کے بعد دیکھا کہ میرا لباس نجس تھا؟ حضرت نے فرمایا: اُسے دھو لو اور اپنی نماز کا اعادہ نہ کرو۔ عرض کیا گیا: کیوں؟