Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 280

«44»- ع، علل الشرائع سَيَأْتِي عَنِ الرِّضَا عَنْ أَبِيهِ عليه السلام أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَا بَالُ الْقُرْآنِ لَا يَزْدَادُ عَلَى النَّشْرِ وَ الدَّرْسِ إِلَّا غَضَاضَةً فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَجْعَلْهُ لِزَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ وَ لِنَاسٍ دُونَ نَاسٍ فَهُوَ فِي كُلِّ زَمَانٍ جَدِيدٌ وَ عِنْدَ كُلِّ قَوْمٍ غَضٌّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

علل الشرائع: امام رضا علیہ السلام سے، اُن کے آباء سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: کیا وجہ ہے کہ قرآن پر نشر و درس سے شادابی اور تازگی کے سوا کچھ اضافہ نہیں ہوتا؟ فرمایا: کیونکہ خدائے متعال نے قرآن کو کسی ایک زمانے کے لیے نہیں بنایا نہ کسی ایک قوم کے لیے؛ قرآن ہر زمانے میں شاداب اور ہر گروہ کے نزدیک تازہ ہے، روزِ قیامت تک۔

«45»- كا، الكافي يب، تهذيب الأحكام عَلِيٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَكْرِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الزُّبَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام حِينَ سَأَلَهُ عَنْ أَحْكَامِ الْجِهَادِ فَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ عليه السلام فَمَنْ كَانَ قَدْ تَمَّتْ فِيهِ شَرَائِطُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ الَّتِي قَدْ وُصِفَ بِهَا أَهْلُهَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله وَ هُوَ مَظْلُومٌ فَهُوَ مَأْذُونٌ لَهُ فِي الْجِهَادِ كَمَا أُذِنَ لَهُمْ لِأَنَّ حُكْمَ اللَّهِ فِي الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ فَرَائِضَهُ عَلَيْهِمْ سَوَاءٌ إِلَّا مِنْ عِلَّةٍ أَوْ حَادِثٍ يَكُونُ وَ الْأَوَّلُونَ وَ الْآخِرُونَ أَيْضاً فِي مَنْعِ الْحَوَادِثِ شُرَكَاءُ وَ الْفَرَائِضُ عَلَيْهِمْ وَاحِدَةٌ يُسْأَلُ الْآخِرُونَ عَنْ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ كَمَا يُسْأَلُ عَنْهُ الْأَوَّلُونَ وَ يُحَاسَبُونَ كَمَا يُحَاسَبُونَ بِهِ.

کافی و تہذیب الأحکام: ابو عمرو زبیری امام صادق علیہ السلام سے احکامِ جہاد کے بارے میں کچھ مسائل پوچھتے ہیں اور بحث کا دامن یہاں تک پہنچتا ہے کہ حضرت فرماتے ہیں: اگر کسی میں وہ شرائط فراہم ہو جائیں جو خداوند نے بیان کی ہیں، وہی شرائط جو اصحابِ پیغمبر میں موجود تھیں، اور یہ واجدِ شرائط شخص مظلوم ہو، تو اُسے اجازت ہے کہ جہاد کرے جیسا کہ اصحابِ پیغمبر کو اجازت تھی؛ کیونکہ خداوند کے حکم و فرائض اولین و آخرین کے بارے میں یکساں ہیں، مگر یہ کہ کسی علت یا حادثے کی وجہ سے ہو۔ اِسی طرح اولین و آخرین حوادث کے دفع میں شریک ہیں اور فرائض سب پر یکساں ہیں اور ادائے فرائض کے بارے میں سب کا سوال ایک ہے اور سب سے پوچھا جاتا ہے۔ صدرِ اول کے مسلمانوں اور آخر الزمان کے مسلمانوں کا حساب و کتاب یکساں ہے۔

«46»- كا، الكافي الْعِدَّةُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبَانٍ الْأَحْمَرِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الطَّيَّارِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي اكْتُبْ فَأَمْلَى عَلَيَّ إِنَّ مِنْ قَوْلِنَا إِنَّ اللَّهَ يَحْتَجُّ عَلَى الْعِبَادِ بِمَا آتَاهُمْ وَ عَرَّفَهُمْ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِمُ الْكِتَابَ فَأَمَرَ فِيهِ وَ نَهَی أَمَرَ فِيهِ بِالصَّلَاةِ وَ الصِّيَامِ الْخَبَرَ.

کافی: حمزۃ بن طیار نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے مجھ سے فرمایا: لکھو، اور آپ نے میرے لیے املا کرایا: ہمارے کلام میں سے ہے کہ خداوندِ متعال بندوں پر اُس چیز سے احتجاج کرتا ہے جو اُن کے لیے مہیا ہے اور جسے اُنہوں نے پہچانا ہے، اور پھر پیغمبروں کو اُن کی طرف بھیجا اور اُن کے لیے کتاب نازل فرمائی اور اُس کتاب میں امر و نہی کی۔ اُس کتاب میں نماز اور روزے کا حکم دیا… تا آخرِ خبر۔

«47»- يد، التوحيد الْعَطَّارُ عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ حَرِيزٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي تِسْعَةٌ الْخَطَأُ وَ النِّسْيَانُ وَ مَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ وَ مَا لَا يُطِيقُونَ وَ مَا لَا يَعْلَمُونَ وَ مَا اضْطُرُّوا إِلَيْهِ وَ الْحَسَدُ وَ الطِّيَرَةُ وَ التَّفَكُّرُ فِي الْوَسْوَسَةِ فِي الْخَلْقِ مَا لَمْ يَنْطِقْ بِشَفَةٍ.

توحید: حریز نے امام صادق علیہ السلام سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میری امت سے نو چیزیں اٹھا لی گئی ہیں: ۱۔ اشتباہ؛ ۲۔ فراموشی؛ ۳۔ اجبار؛ ۴۔ جس کی توان نہ رکھتے ہوں؛ ۵۔ جو نہ جانتے ہوں؛ ۶۔ جس پر بے چارہ ہوں؛ ۷۔ حسد؛ ۸۔ بد فالی؛ ۹۔ حق کے بارے میں وسوسے میں سوچ، جب تک اُسے زبان پر نہ لائے۔

كا، الكافي بالإسناد مثله.

کافی: اُسی سند سے اِسی کی مانند روایت ہوا ہے۔

«48»- يد، التوحيد الْعَطَّارُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ فَرْقَدٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَا حَجَبَ اللَّهُ عِلْمَهُ عَنِ الْعِبَادِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ عَنْهُمْ.

توحید: زکریا بن یحییٰ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس کا جاننا بندوں سے پوشیدہ رکھا گیا، وہ چیز اُن سے اٹھا لی گئی۔

«49»- يد، التوحيد أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنِ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ حَفْصٍ قَالَ قَالَ

توحید: حفص نے