اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ قَالَ فَمَا تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلِكُمْ قُلْتُ فَقَوْلُهُ وَ لا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكاتِ نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ سَكَتَ.
«وَ لا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ» {اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔} ایسا نکاح جائز نہیں۔ فرمایا: آیت «وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ» {اور [تمہارے لیے حلال ہے نکاح] مسلمان پاک دامن عورتوں سے، اور اُن پاک دامن عورتوں سے جنہیں تم سے پہلے [آسمانی] کتاب دی گئی}، جو مذکورہ نکاح کو جائز جانتی ہے، اُس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: پچھلی آیت نے اِس آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔ حضرت مسکرائے اور خاموش ہو گئے۔
«39»- كا، الكافي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ عَنْ دُرُسْتَ الْوَاسِطِيِّ عَنِ ابْنِ رِئَابٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: لَا يَنْبَغِي نِكَاحُ أَهْلِ الْكِتَابِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ أَيْنَ تَحْرِيمُهُ قَالَ قَوْلُهُ وَ لا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ.
کافی: زرارہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اہلِ کتاب سے نکاح سزاوار نہیں۔ میں نے عرض کیا: آپ پر فدا ہوں! اُس کے حرام ہونے کی دلیل کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا: خدائے متعال کا قول: «وَ لا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوافِرِ» {اور کافر عورتوں کے سابقہ بندھنوں کو نہ تھامو [اور اُن کے پابند نہ رہو]۔}
«40»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ ابْنِ رِئَابٍ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلِكُمْ فَقَالَ هَذِهِ مَنْسُوخَةٌ بِقَوْلِهِ وَ لا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ.
کافی: زرارہ کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے آیت «وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ» کے بارے میں پوچھا، فرمایا: آیت «وَ لا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوافِرِ» نے اُسے منسوخ کر دیا ہے۔
«41»- يب، تهذيب الأحكام الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَذْيِ فَأَمَرَنِي بِالْوُضُوءِ مِنْهُ ثُمَّ أَعَدْتُ عَلَيْهِ سَنَةً أُخْرَى فَأَمَرَنِي بِالْوُضُوءِ مِنْهُ وَ قَالَ إِنَّ عَلِيّاً عليه السلام أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ اسْتَحْيَا أَنْ يَسْأَلَهُ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوءُ فَقُلْتُ وَ إِنْ لَمْ أَتَوَضَّأْ قَالَ لَا بَأْسَ بِهِ.
تہذیب الأحکام: محمد بن اسماعیل کہتے ہیں: میں نے امام کاظم علیہ السلام سے آبِ مذی کے بارے میں پوچھا، فرمایا: وضو کرو۔ اگلے سال یہی سوال کیا، وہی جواب دیا اور فرمایا: حضرت علی علیہ السلام نے مقداد کو حکم دیا کہ پیغمبر سے مذی کا حکم پوچھیں، کیونکہ آپ خود پیغمبر سے مذی کے بارے میں پوچھنے سے حیا کرتے تھے۔ پیغمبر نے مقداد کے جواب میں فرمایا: اُس میں وضو ہے۔ میں نے عرض کیا: اگر وضو نہ کروں تو کیا ہو گا؟ فرمایا: کوئی اشکال نہیں۔
«42»- كا، الكافي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَحَدِهِمَا عليهما السلام أَنَّهُ قَالَ: لَوْ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى النَّاسِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ ما كانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَ لا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْواجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَداً حُرِّمَ عَلَى الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ عليهما السلام بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى اسْمُهُ وَ لا تَنْكِحُوا ما نَكَحَ آباؤُكُمْ مِنَ النِّساءِ وَ لَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَنْكِحَ امْرَأَةَ جَدِّهِ.
کافی: محمد بن مسلم امام صادق یا امام باقر علیہما السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر خداوند آیت «وَ ما کانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَ لا أَنْ تَنْکِحُوا أَزْواجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَداً» {اور تمہیں حق نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت دو، اور ہرگز [نہیں چاہیے کہ] اُن کی ازواج سے اُن کے [انتقال کے] بعد نکاح کرو۔} کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی ازواج کو لوگوں پر حرام نہ کرتا، تو یقیناً اُن سے نکاح حسن و حسین علیہما السلام پر حرام ہوتا، آیت کی دلیل سے: «وَ لا تَنْکِحُوا ما نَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّساءِ» {اور اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا، سوائے اُس کے جو پہلے گزر چکا۔} کیونکہ آدمی اپنے دادا کی بیوی سے نکاح نہیں کر سکتا۔
«43»- كا، الكافي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُعَلَّى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُمْهُورٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سَعْدَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله الْمُنْذِرُ وَ عَلِیٌّ عليه السلام الْهَادِي يَا أَبَا مُحَمَّدٍ هَلْ مِنْ هَادٍ الْيَوْمَ قُلْتُ بَلَى جُعِلْتُ فِدَاكَ مَا زَالَ مِنْكُمْ هَادٍ مِنْ بَعْدِ هَادٍ حَتَّى دُفِعَتْ إِلَيْكَ فَقَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَوْ كَانَتْ إِذَا نَزَلَتْ آيَةٌ عَلَى رَجُلٍ ثُمَّ مَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مَاتَتِ الْآيَةُ مَاتَ الْكِتَابُ وَ السُّنَّةُ وَ لَكِنَّهُ حَيٌّ يَجْرِي فِيمَنْ بَقِيَ كَمَا جَرَى فِيمَنْ مَضَى.
کافی: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے آیت «إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِکُلِّ قَوْمٍ هادٍ» {[اے پیغمبر،] تم صرف ڈرانے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہے۔} کے بارے میں پوچھا؟ فرمایا: منذر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ ہیں اور ہادی علی علیہ السلام ہیں۔ اے ابا محمد! کیا وہ ہادی آج موجود ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ پر فدا ہوں، ہمیشہ آپ اہلِ بیت میں سے ہادی کے بعد ہادی رہا ہے یہاں تک کہ امرِ ہدایت آپ تک پہنچا۔ فرمایا: خدا تم پر رحم کرے؛ اگر ایسا ہوتا کہ کوئی آیت کسی شخص کے بارے میں نازل ہو اور وہ شخص مر جائے، تو اُس کے مرنے کے ساتھ آیت، کتاب اور سنت بھی مر جاتی، مگر ہرگز ایسا نہیں، کیونکہ آیات ہمیشہ زندہ ہیں اور آنے والوں پر بھی گزشتگان کی طرح قابلِ تطبیق ہیں۔