Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 278

فَقَالَ كَذَبَ أَبُو ظَبْيَانَ أَ مَا بَلَغَكَ قَوْلُ عَلِيٍّ عليه السلام فِيكُمْ سَبَقَ الْكِتَابُ الْخُفَّيْنِ فَقُلْتُ فَهَلْ فِيهِمَا رُخْصَةٌ قَالَ لَا إِلَّا مِنْ عَدُوٍّ تَتَّقِيهِ أَوْ ثَلْجٍ تَخَافُ عَلَى رِجْلَيْكَ.

فرمایا: ابو ظبیان نے جھوٹ کہا ہے، کیا تم تک علی علیہ السلام کا یہ قول نہیں پہنچا کہ کتاب نے جوتوں پر سبقت لی ہے (یعنی جوتوں پر مسح جائز نہیں)؟ میں نے عرض کیا: کیا کوئی رخصت اور جواز بھی ہے؟ فرمایا: نہیں، مگر یہ کہ دشمن سے تقیہ کرو یا برف (پانی) تمہارے پاؤں کے لیے نقصان دہ ہو کہ اِس صورت میں جائز ہے۔

«34»- يب، تهذيب الأحكام بِسَنَدٍ فِيهِ جَهَالَةٌ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ عليه السلام عَنْ مَيِّتٍ وَ جُنُبٍ اجْتَمَعَا وَ مَعَهُمَا مِنَ الْمَاءِ مَا يَكْفِي أَحَدَهُمَا أَيُّهُمَا يَغْتَسِلُ بِهِ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَتْ سُنَّةٌ وَ فَرِيضَةٌ بُدِئَ بِالْفَرْضِ وَ رُوِیَ هَذَا الْمَضْمُونُ بِسَنَدَيْنِ آخَرَيْنِ أَيْضاً.

تہذیب الأحکام: ایک ایسی سند کے ساتھ جس میں کچھ جہالت ہے، کہا: میں نے امام کاظم علیہ السلام سے یوں پوچھا: ایک میت اور ایک جنب موجود ہیں۔ پانی اُن دونوں میں سے ایک کے غسل کے برابر ہے۔ اُن میں سے کون غسل کرے؟ فرمایا: جب سنت اور فریضہ جمع ہو جائیں تو پہلے فرض اور واجب انجام دو۔ اور اِس حدیث کا مضمون دو دوسری سندوں سے بھی روایت ہوا ہے۔

«35»- يب، تهذيب الأحكام الصَّفَّارُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ نُوحِ بْنِ شُعَيْبٍ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ: قُلْتُ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ مِنْ جَنَابَتِهَا إِذَا لَمْ يَأْتِهَا الرَّجُلُ قَالَ لَا وَ أَيُّكُمْ يَرْضَى أَنْ يَرَی وَ يَصْبِرُ عَلَى ذَلِكَ أَنْ يَرَى ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ أَوْ أَمَتَهُ أَوْ زَوْجَتَهُ أَوْ أَحَداً مِنْ قَرَابَتِهِ قَائِمَةً تَغْتَسِلُ فَيَقُولَ مَا لَكِ فَتَقُولَ احْتَلَمْتُ وَ لَيْسَ لَهَا بَعْلٌ ثُمَّ قَالَ لَا لَيْسَ عَلَيْهِنَّ ذَاكَ وَ قَدْ وَضَعَ اللَّهُ ذَلِكَ عَلَيْكُمْ قَالَ تَعَالَى وَ إِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا وَ لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ لَهُنَّ ١.

تہذیب الأحکام: ابن زرارہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا وہ عورت جس سے مباشرت نہ ہوئی ہو مگر جنب ہو، اُسے غسلِ جنابت کرنا چاہیے؟ فرمایا: نہیں۔ تم میں سے کون راضی ہو گا اور برداشت کرے گا کہ اپنی بیٹی، بہن، کنیز، بیوی یا اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کو دیکھے کہ وہ غسل کر رہی ہے اور اُس سے پوچھے: کیا کر رہی ہو؟ اور وہ جواب میں کہے: میں جنب ہو گئی، جبکہ اُس کا شوہر بھی نہ ہو۔ خدائے متعال نے فرمایا: «وَ إِنْ کُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا» {اور اگر تم جنب ہو تو خود کو پاک کرو [غسل کرو]۔} اور یہ مردوں سے مخصوص ہے نہ کہ عورتوں سے۔

«36»- يب، تهذيب الأحكام ابْنُ أَبِي جِيدٍ عَنِ ابْنِ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ أَبَانٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ زُرَارَةَ قَالَ: سُئِلَ أَحَدُهُمَا عليهما السلام عَنْ رَجُلٍ بَدَأَ بِيَدِهِ قَبْلَ وَجْهِهِ وَ بِرِجْلَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ قَالَ يَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ وَ لْيُعِدْ عَلَی مَا كَانَ.

تہذیب الأحکام: زرارہ کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: کوئی شخص چہرے سے پہلے ہاتھ اور ہاتھ دھونے سے پہلے پاؤں کا مسح کرتا ہے۔ فرمایا: وہیں سے شروع کرے جہاں سے خدا نے آغاز کیا، اُسے اپنا وضو از سرِ نو کرنا چاہیے۔

«37»- كا، الكافي عَلِیٌّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ مَمْلُوكٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَقَالَ ذَاكَ إِلَی سَيِّدِهِ إِنْ شَاءَ أَجَازَهُ وَ إِنْ شَاءَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا قُلْتُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ وَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَ أَصْحَابَهُمَا يَقُولُونَ إِنَّ أَصْلَ النِّكَاحِ فَاسِدٌ وَ لَا يَحِلُّ بِإِجَازَةِ السَّيِّدِ لَهُ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام إِنَّهُ لَمْ يَعْصِ اللَّهَ إِنَّمَا عَصَى سَيِّدَهُ فَإِذَا أَجَازَهُ فَهُوَ لَهُ جَائِزٌ.

کافی: زرارہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ایک غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کر لیتا ہے، اُس کا حکم کیا ہے؟ فرمایا: اختیار اُس کے آقا کے ہاتھ میں ہے کہ اگر چاہے اجازت دے اور اِس کے علاوہ صورت میں اُن کے درمیان جدائی ڈال دے۔ میں نے عرض کیا: حکم بن عتیبہ اور ابراہیم نخعی اور اُن کے ساتھی کہتے ہیں: اصلِ نکاح باطل تھا اور آقا کی اجازت سے حلال نہیں ہوتا۔ حضرت نے فرمایا: اُس نے خدا کی معصیت نہیں کی بلکہ صرف اپنے آقا کی معصیت کی ہے؛ اگر وہ اجازت دے تو نافذ ہے۔

«38»- كا، الكافي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ فَضَّالٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْجَهْمِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الْحَسَنِ الرِّضَا عليه السلام يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَتَزَوَّجُ نَصْرَانِيَّةً عَلَى مُسْلِمَةٍ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ وَ مَا قَوْلِي بَيْنَ يَدَيْكَ قَالَ لَتَقُولَنَّ فَإِنَّ ذَلِكَ يُعْلَمُ بِهِ قَوْلِي قُلْتُ لَا يَجُوزُ تَزْوِيجُ النَّصْرَانِيَّةِ عَلَى مُسْلِمَةٍ وَ عَلَی غَيْرِ مُسْلِمَةٍ قَالَ وَ لِمَ قُلْتُ لِقَوْلِ

کافی: حسن بن جہم کہتے ہیں: امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اُس آدمی کے بارے میں جو کسی نصرانی عورت سے شادی کرے جبکہ اُس کی مسلمان بیوی بھی ہو، [تم کیا کہتے ہو]؟ میں نے عرض کیا: میری بات آپ کے فرمان کے سامنے کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ فرمایا: جواب دو، کیونکہ تمہارے جواب کے ذریعے میرا قول بھی معلوم ہو جائے گا۔ (یعنی اگر تمہارا جواب درست نہ ہوا تو صحیح حکم مجھ سے سیکھ لو گے۔) میں نے عرض کیا: آیت کی دلیل سے:

(١)1- الاخذ به مشكل لا بد من تأويله، و لذا حمله الشيخ علی أنّها رأت في منامها و إذا انتبهت لم تر شيئااُسے جوں کا توں لینا دشوار ہے اور ناگزیر اُس کی تاویل کرنی چاہیے؛ اِسی لیے شیخ نے اُسے اِس پر محمول کیا ہے کہ اُس عورت نے خواب میں دیکھا اور جب بیدار ہوئی تو کچھ نہ دیکھا۔