«6»- فس، تفسير القمي أَبِي عَنِ الْأَصْفَهَانِيِّ عَنِ الْمِنْقَرِيِّ رَفَعَهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عليهما السلام فَسَأَلَهُ عَنْ مَسَائِلَ ثُمَّ عَادَ لِيَسْأَلَ عَنْ مِثْلِهَا فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام مَكْتُوبٌ فِي الْإِنْجِيلِ لَا تَطْلُبُوا عِلْمَ مَا لَا تَعْمَلُونَ وَ لَمَّا عَمِلْتُمْ بِمَا عَلِمْتُمْ فَإِنَّ الْعِلْمَ إِذَا لَمْ يُعْمَلْ بِهِ لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْداً.
تفسیر القمی: منقری کہتے ہیں: ایک شخص امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور آپ سے کچھ سوالات کیے، پھر لوٹ کر وہی مسائل دوبارہ پوچھنے لگا۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: انجیل میں لکھا ہے: جب تم نے اپنے علم پر عمل نہیں کیا تو اُس چیز کا علم طلب نہ کرو جو تم نہیں جانتے؛ کیونکہ علم جب اُس پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ سے دُوری کے سوا کچھ نہیں بڑھاتا۔
إيضاح: لعل المراد النهى عن طلب علم لا يكون غرض طالبه العمل به و لا يكون عازما على الإتيان به و يحتمل أن يكون النهى راجعا إلى القيد أي لا تكونوا غير عاملين بما علمتم حتى إذا طلبتم العلم الذي يلزمكم طلبه يكون بعد عدم العمل بما علمتم فيكون مذموما من حيث عدم العمل لا من حيث الطلب.
شاید مراد ایسے علم کی طلب سے ممانعت ہو جس میں طالبِ علم کا مقصد اُس پر عمل نہ ہو اور نہ اُس پر عمل کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ممانعت اُس قید کی طرف لوٹتی ہو، یعنی تم بے عمل عالم نہ بنو، کہ تمہاری طلبِ علم اپنے موجودہ علم پر عمل ترک کرنے کے بعد ہو، جو مذموم ہے؛ پس مذمت اُس علم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے، نہ کہ طلبِ علم کی وجہ سے۔
«7»- ب، قرب الإسناد ابْنُ سَعْدٍ عَنِ الْأَزْدِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَبْلِغْ مَوَالِيَنَا عَنَّا السَّلَامَ وَ أَخْبِرْهُمْ أَنَّا لَا نُغْنِي عَنْهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً إِلَّا بِعَمَلٍ وَ أَنَّهُمْ لَنْ يَنَالُوا وَلَايَتَنَا إِلَّا بِعَمَلٍ أَوْ وَرَعٍ وَ أَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَصَفَ عَدْلًا ثُمَّ خَالَفَهُ إِلَى غَيْرِهِ.
قرب الاسناد: امام صادق علیہ السلام نے ازدی سے فرمایا: میرے دوستوں کو میرا سلام پہنچاؤ! اور اُنہیں بتاؤ کہ ہمیں اللہ کے عذاب سے عمل کے سوا کوئی چیز نہیں بچاتی، اور وہ ہماری ولایت تک عمل یا تقویٰ کے بغیر نہیں پہنچتے۔ اور قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت زدہ وہ شخص ہے جس نے عدل کا بیان کیا اور عملاً اُس کی مخالفت کی۔
تبيين: قال الجزري يقال أغن عني الشرك أي اصرفه و كفه و منه قوله تعالى لَنْ يُغْنُوا عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً ١
جزری کہتے ہیں: «أغن عنی الشرک» کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ شرک کو مجھ سے دُور کر دے اور مجھے اُس سے کفایت دے۔ اور آیتِ مبارکہ «إِنَّهُمْ لَنْ یُغْنُوا عَنْکَ مِنَ اللَّهِ شَیْئاً وَ إِنَّ الظَّالِمِینَ بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ وَ اللَّهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِینَ»، {بے شک وہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے، اور ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست ہے} بھی اِسی معنیٰ میں ہے۔
«8»- ل، الخصال ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَدَّاحِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْعِلْمِ قَالَ الْإِنْصَاتُ لَهُ قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ الِاسْتِمَاعُ لَهُ قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ الْحِفْظُ لَهُ قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ الْعَمَلُ بِهِ قَالَ ثُمَّ مَهْ قَالَ ثُمَّ نَشْرُهُ.
الخصال: علم کے پانچ درجے ہیں۔ امامِ ششم علیہ السلام نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ایک شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے رسولِ خدا! علم کیا ہے؟ فرمایا: معلّم کے سامنے خاموشی۔ عرض کیا: پھر کیا؟ فرمایا: اُسے غور سے سننا۔ عرض کیا: پھر کیا؟ فرمایا: اُسے یاد رکھنا۔ عرض کیا:
ما، الأمالي للشيخ الطوسي جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي الْمُفَضَّلِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيِّ عَنِ ابْنِ نَهِيكٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ الْقَدَّاحِ مِثْلَهُ.
پھر کیا؟ فرمایا: اُس پر عمل کرنا۔ عرض کیا: پھر کیا؟ فرمایا: دوسروں تک اُسے پھیلانا۔ امالیِ شیخ طوسی: ایک جماعت نے قدّاح سے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔
بيان: لعل سؤال السائل كان عما يوجب العلم أو عن آداب طلب العلم و يحتمل أن يكون غرضه استعلام حقيقته فأجابه عليه السلام ببيان ما يوجب حصوله لأنه الذي ينفعه فالحمل على المبالغة و الإنصات السكوت عند الاستماع فإن كثرة المجادلة عند العالم توجب الحرمان عن علمه.
شاید سائل کا سوال اُس چیز کے بارے میں تھا جو علم کا سبب بنتی ہے، یا طلبِ علم کے آداب کے بارے میں؛ اور یہ احتمال بھی ہے کہ سائل کا مقصد علم کی حقیقت جاننا ہو، اور امام علیہ السلام نے اُسے اُس چیز سے جواب دیا جو علم کے حصول کا سبب بنتی ہے، کیونکہ وہی اُسے نفع دیتی ہے۔ پس اِسے مبالغے پر اور سننے کے وقت خاموشی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ عالم کے سامنے زیادہ جھگڑا اُس کے علم سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔