Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 27

فَكُبْكِبُوا فِيها أقول ذكر أكثر المفسرين أن ضمير هُمْ راجع إلى الآلهة و لا يخفى أن ما ذكره عليه السلام أظهر و العدل كل أمر حق يوافق العدل و الحكمة من الطاعات و الأخلاق الحسنة و العقائد الحقة.

«فَکُبْکِبُوا فِیها هُمْ وَ الْغاوُونَ»، {پس وہ اور تمام گمراہ اُس [آگ] میں اوندھے ڈالے جائیں گے}۔ مؤلف: اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ضمیر «ہم» معبودوں کی طرف لوٹتی ہے؛ مگر پوشیدہ نہیں کہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا وہ زیادہ واضح ہے۔ اور «عدل» ہر وہ حق کام ہے جو عدل و حکمت کے موافق ہو، یعنی اطاعتیں، اچھے اخلاق اور برحق اعتقادات۔

«5»- فس، تفسير القمي أَبِي عَنِ الْأَصْفَهَانِيِّ عَنِ الْمِنْقَرِيِّ عَنْ حَفْصٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَا حَفْصُ مَا أَنْزَلْتُ ١ الدُّنْيَا مِنْ نَفْسِي إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَيْتَةِ إِذَا اضْطُرِرْتُ إِلَيْهَا أَكَلْتُ مِنْهَا يَا حَفْصُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَلِمَ مَا الْعِبَادُ عَلَيْهِ عَامِلُونَ وَ إِلَی مَا هُمْ صَائِرُونَ فَحَلُمَ عَنْهُمْ عِنْدَ أَعْمَالِهِمُ السَّيِّئَةِ لِعِلْمِهِ السَّابِقِ فِيهِمْ فَلَا يَغُرَّنَّكَ حُسْنُ الطَّلَبِ مِمَّنْ لَا يَخَافُ الْفَوْتَ ثُمَّ تَلَا قَوْلَهُ تَعَالَى تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ الْآيَةَ وَ جَعَلَ يَبْكِي وَ يَقُولُ ذَهَبَتْ وَ اللَّهِ الْأَمَانِيُّ عِنْدَ هَذِهِ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ فَازَ وَ اللَّهِ الْأَبْرَارُ تَدْرِي مَنْ هُمْ هُمُ الَّذِينَ لَا يُؤْذُونَ الذَّرَّ كَفَى بِخَشْيَةِ اللَّهِ عِلْماً وَ كَفَی بِالاغْتِرَارِ بِاللَّهِ جَهْلًا يَا حَفْصُ إِنَّهُ يُغْفَرُ لِلْجَاهِلِ سَبْعُونَ ذَنْباً قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لِلْعَالِمِ ذَنْبٌ وَاحِدٌ وَ مَنْ تَعَلَّمَ وَ عَمِلَ وَ عَلَّمَ لِلَّهِ دُعِيَ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ عَظِيماً فَقِيلَ تَعَلَّمَ لِلَّهِ وَ عَمِلَ لِلَّهِ وَ عَلَّمَ لِلَّهِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَمَا حَدُّ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ فَقَدْ حَدَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَقَالَ عَزَّ وَ جَلَّ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَ لا تَفْرَحُوا بِما آتاكُمْ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِاللَّهِ أَخْوَفُهُمْ لِلَّهِ وَ أَخْوَفَهُمْ لَهُ أَعْلَمُهُمْ بِهِ وَ أَعْلَمَهُمْ بِهِ أَزْهَدُهُمْ فِيهَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَوْصِنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُ كُنْتَ فَإِنَّكَ لَا تَسْتَوْحِشُ.

تفسیر القمی: حفص نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: دنیا میرے نزدیک مُردار کی مانند ہے جس سے میں صرف ناچاری کی حالت میں فائدہ اٹھاتا ہوں۔ اے حفص! اللہ جانتا ہے کہ بندوں نے کیا اعمال کیے اور اُن کا انجام کیا ہے؛ اسی لیے جب بندوں سے بُرے اعمال سرزد ہوں تو اللہ حلم و بردباری سے کام لیتا ہے۔ کہیں یہ بات تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے کہ اللہ فی الحال تمہارے اعمال کی پیگیری نہیں کر رہا، کیونکہ تم اُس کے ہاتھ سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذِینَ لا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْأَرْضِ وَ لا فَساداً وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ»، {وہ آخرت کا گھر ہم اُن لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں نہ سرکشی چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور [اچھا] انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے}۔ پھر آپ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیت آرزوؤں کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اللہ کی قسم! نیک لوگ ہی کامیاب ہیں، وہ جو کسی چیونٹی کو بھی نہیں ستاتے۔ اللہ کا خوف علم ہے اور اللہ کے بارے میں مغرور ہونا جہالت ہے۔ اے حفص! ستّر جاہل بخش دیے جاتے ہیں اِس سے پہلے کہ عالم کا ایک گناہ بخشا جائے۔ سیکھنا، عمل کرنا، اور اللہ کے لیے سکھانا اِس کا سبب بنتا ہے کہ انسان آسمانوں کے ملکوت میں عظیم و بزرگ کہلائے۔ پس تمہارا سکھانا، عمل کرنا اور سیکھنا اللہ کے لیے ہو۔ میں نے آپ سے زہد کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں زہد کی حدیں معین فرما دی ہیں: «لِکَیْلا تَأْسَوْا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ»، {تاکہ تم اُس پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل گیا اور اُس پر اِترا نہ جاؤ جو اُس نے تمہیں دیا}۔ اور فرمایا: لوگوں میں اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے وہ ہیں جو اُس سے سب سے زیادہ ڈرتے ہیں؛ اور یہی لوگ اللہ کے سب سے بڑے عارف اور دنیا میں سب سے زیادہ پارسا ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے فرزندِ رسولِ خدا! مجھے نصیحت کیجیے۔ فرمایا: جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرو، تو تم وحشت زدہ نہ ہو گے۔

بيان: ما أنزلت الدنيا من نفسي لفظة من إما بمعنى في أو للتبعيض أي من منازل نفسي كان للنفس مواطن و منازل للأشياء تنزل فيها على حسب درجاتها و منازلها عند الشخص قوله عليه السلام ذهبت و اللّٰه الأماني أي ما يرجوه الناس و يحكمونه و يتمنونه على اللّٰه بلا عمل إذ الآية تدل على أن الدار الآخرة ليست إلا لمن لا يريد شيئا من العلو في الأرض و الفساد و كل ظلم علو و كل فسق فساد و الذر النمل الصغار و المراد عدم إيذاء أحد من الناس أو ترك إيذاء جميع المخلوقات حتى الذر و لا ينافي ما ورد في بعض الأخبار من جواز قتل النمل و غيرها إذ الجواز لا ينافي الكراهة مع أنه يمكن حملها على ما إذا كانت موذية قوله لِكَيْلا تَأْسَوْا أي لكيلا تحزنوا قوله فإنك لا تستوحش أي بل يكون اللّٰه تعالى أنيسك في كل حال.

«ما أنزلت الدنیا من نفسی» میں لفظ «من» یا «فی» کے معنیٰ میں ہے یا تبعیض کے لیے۔ گویا نفس کے پاس چیزوں کے لیے کچھ منزلیں ہیں جن میں وہ اپنے درجے اور مرتبے کے مطابق اُترتی ہیں۔ «ذہبت و اللہ الأمانی» یعنی وہ چیزیں جن کی لوگ امید رکھتے ہیں اور بغیر عمل کے آرزو کرتے ہیں؛ کیونکہ آیت کہتی ہے کہ آخرت کا گھر اُن کے لیے ہے جو زمین میں نہ سرکشی چاہتے ہیں نہ فساد۔ ہر ظلم سرکشی ہے اور ہر فسق فساد ہے۔ «ذرّ» چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، اور اِس حدیث میں مراد یہ ہے کہ وہ کسی انسان بلکہ کسی مخلوق کو نہ ستائے۔ اور یہ اُن روایات کے منافی نہیں جن میں چیونٹی وغیرہ کے مارنے کا جواز آیا ہے، کیونکہ جواز کراہت کے منافی نہیں؛ اور جن روایات میں اُن کے مارنے کا جواز ہے اُنہیں اُس صورت پر محمول کیا جا سکتا ہے جب وہ اذیت کا سبب ہوں۔ «لِکَیْلا تَأْسَوْا» یعنی وہ تمہیں غمگین نہ کرے۔ «فإنک لا تستوحش» بلکہ اللہ ہر حال میں تمہارا مونس ہے۔

(١)1- 1 و في النسخة المطبوع من التفسير: ما منزلة الدنيا.اور تفسیر کے چھپے ہوئے نسخے میں: «ما منزلۃ الدنیا»۔